دفترِ خارجہ کا سعودی عرب پر حوثی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار: یمن تنازع کے سیاسی و پُرامن حل کے لیے خطرہ قرار

منصور احمد,September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے سعودی عرب کے متعدد جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں آبادی اور اہم اقتصادی تنصیبات پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے متواتر حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام یمن تنازع کے پُرامن، سیاسی اور دیرپا حل کے لیے کی جانے والی عالمی و علاقائی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں اور معاشی مراکز کو نشانہ بنانے والے حوثی جنگجوؤں کے یہ بزدلانہ حملے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہیں۔ دفترِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز اقدام پوری مشرقِ وسطیٰ کے امن، توازن اور پائیدار استحکام کے لیے گہرا خطرہ بن رہے ہیں۔

ترجمان نے پرزور الفاظ میں اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں اپنے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور اس کی سیکورٹی و سلامتی کے لیے اپنی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے چارٹر (منشور) اور تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں سعودی عرب کے اپنے علاقے، عوام اور معاشی اثاثوں کے دفاع کے لیے اٹھائے جانے والے تمام تر ضروری اقدامات اور اس کے جائز عسکری و دفاعی حق کی مکمل طور پر پرزور حمایت کرتا ہے۔

ترجمانِ دفترِ خارجہ نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ حکومتِ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے، پائیدار امن کی بحالی اور دیرپا استحکام کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں اور اپنا کلیدی کردار مسلسل جاری رکھے گی تاکہ خطہ مزید تصادم اور بے چینی سے محفوظ رہ سکے۔

سیالکوٹ چیمبر کا نیا میڈیکل سٹی منصوبہ شہر میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی میں اہم پیش رفت ہے: خواجہ آصف

کاشف عباسی , August 16,2026

سیالکوٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے ‘سیالکوٹ میڈیکل سٹی لمیٹڈ’ کے قیام کا فیصلہ اور صحت کا نیا منصوبہ شہر میں جدید طبی سہولیات کی دیرینہ ضرورت کو پورا کرنے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ سیالکوٹ کینٹ میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اس کاوش کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس منصوبے سے مقامی اور گردونواح کے عوام کو لاہور یا بیرونِ ملک جائے بغیر اپنے ہی شہر میں معیاری علاج میسر آ سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے بھی جلد پانچ سو بستروں پر مشتمل جنرل ہسپتال اور کارڈیک ہسپتال کا سنگِ بنیاد رکھا جائے گا۔

وزیرِ دفاع نے ریاض الدین شیخ اور کاروباری برادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ چیمبر نے ماضی میں بھی ایئرپورٹ اور ایئر سیال جیسے تاریخی منصوبے نجی شعبے کی مدد سے مکمل کیے ہیں۔ خواجہ آصف نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دو سو پانچ ارب روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے کھاریاں-اسلام آباد موٹروے منصوبے کا پہلا مرحلہ اگلے سال تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے برآمدات اور بالخصوص عالمی سطح پر فٹ بال کی صنعت میں سیالکوٹ کے بین الاقوامی مقام کو سراہا اور کہا کہ نیا طبی منصوبہ شہر کو ایک اقتصادی اور خدماتی مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

پاکستانی اخبارات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کی کوریج محدود اور واقعاتی ہے: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی تحقیقی رپورٹ

کاشف عباسی , August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

پاکستان کے قومی اخبارات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب اور اس کے تباہ کن اثرات کی کوریج زیادہ تر واقعاتی اور محدود نوعیت کی رہی ہے، جبکہ تقریباً ستتر فیصد خبریں صرف مسئلے کی نشاندہی تک محدود رہیں اور قبل از وقت تیاری، ابتدائی انتباہی نظام، موسمیاتی موافقت اور طویل المدتی لچک جیسے اہم حل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہ اہم انکشافات علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کے ریسرچ اسکالر محمد سلیم شیخ کی نئی تحقیقی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جو انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر ثاقب ریاض کی نگرانی میں مکمل کی۔ اس تحقیق میں سال دو ہزار تئیس اور دو ہزار چوبیس کے دوران شائع ہونے والے دو سو سات مضامین، خبروں اور اداریوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے مطابق انگریزی اخبارات نے اردو اخبارات کے مقابلے میں زیادہ تفصیلی کوریج دی، تاہم یہ خبریں شاذ و نادر ہی صفحہ اول پر نمایاں ہوئیں۔ کوریج میں فوری نقصانات اور معاشی اثرات کو زیادہ ترجیح دی گئی جبکہ پالیسی اقدامات اور طویل المدتی حکمت عملی کو نظر انداز کیا گیا۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ڈائریکٹر جنرل محمد آصف صاحبزادہ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے تقریباً بیس لاکھ افراد کو اس مسئلے سے مسلسل خطرات درپیش ہیں، جس کے لیے میڈیا کا باقاعدہ اور باخبر نقشِ راہ انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ صحافیوں کی خصوصی تربیت اور موسمیاتی ماہرین کے ساتھ میڈیا کے قریبی تعاون کے ذریعے حل پر مبنی کوریج کو یقینی بنایا جائے۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی ویزے پر یورپ جانے کی کوشش ناکام

منصور احمد, August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے نیدرلینڈز کا جعلی وزٹ ویزا استعمال کر کے یورپ جانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق سوات سے تعلق رکھنے والے ایک مسافر کو سعودی عرب جانے والی پرواز سے آف لوڈ کر کے حراست میں لے لیا گیا ہے، جو سعودیہ کو یورپ پہنچنے کے لیے بطور ٹرانزٹ پوائنٹ استعمال کرنے کی مشتبہ کوشش کر رہا تھا۔

ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ مسافر کو نجی ایئر لائن کی پرواز سے سعودی عرب روانگی کے وقت ثانوی پروفائلنگ اور چیکنگ کے عمل کے دوران روکا گیا۔ تفصیلی اور فنی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ مسافر کے پاسپورٹ کے صفحہ نمبر اٹھارہ پر چسپاں ہالینڈ (نیدرلینڈز) کا وزٹ ویزا مکمل طور پر جعلی اور بوگس تھا۔ اس انکشاف کے بعد انسانی سمگلنگ اور جعل سازی کرنے والے منظم نیٹ ورک سے مسافر کے براہِ راست روابط کا شدید شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مسافر کی ماضی کی سفری تاریخ کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ وہ اس سے قبل ملائیشیا، تھائی لینڈ اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے متعدد اسفار کر چکا ہے۔ ایف آئی اے انتظامیہ نے مسافر کو پرواز سے اتار کر اس کا موبائل فون قبضہ میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے اسے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔ تفتیش کار موبائل فون کے ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک معائنہ کر رہے ہیں تاکہ اس جعل سازی میں ملوث ٹوئٹ، ایجنٹوں اور سہولت کاروں کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

آبادی میں اضافے کے باعث نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے: صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کا بیان

منصور احمد, August 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے تحاشا آبادی کے پیشِ نظر انتظامی امور کی بہتری اور عوام کے مسائل کے فوری حل کے لیے نئے صوبوں کی تشکیل وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔

آئی پی پی کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک اہم بیان میں عبدالعلیم خان نے خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں نئے صوبوں کے قائم کرنے کے مطالبے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں سال 2010ء سے علیحدہ ‘ہزارہ صوبے’ کے لیے مسلسل آوازیں بلند ہو رہی ہیں، اور یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ صوبے کی تمام اہم سیاسی جماعتیں اب ہزارہ صوبے کے قیام پر متفق نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ استحکام پاکستان پارٹی ہزارہ صوبے کے تمام جائز مطالبات کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے۔

صدر آئی پی پی نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی بحالی و قیام کی بھی پرزور وکالت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ جیسے گنجان آباد صوبوں میں نئے انتظامی یونٹس بنانا عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ عبدالعلیم خان نے زور دے کر کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل ایک اہم ترین قومی مسئلہ ہے، جسے کسی قسم کی سیاسی مصلحت، تاخیری حربوں یا ذات پات کی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جن کی کل آبادی پاکستان سے کہیں کم ہے لیکن بہتر انتظامی کنٹرول کے لیے وہاں پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ صوبے اور انتظامی یونٹس موجود ہیں۔ عبدالعلیم خان نے اعادہ کیا کہ قومی و ملکی مفاد میں آنے والی کسی بھی مثبت تجویز کا تمام تر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر خیر مقدم کیا جائے گا اور ان کی پارٹی ہر آئینی و سیاسی فورم پر نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

حج 2027 کے لیے آن لائن رجسٹریشن جاری؛ رجسٹرڈ عازمین کی تعداد 3 لاکھ 65 ہزار سے تجاوز کر گئی

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت حج 2027 کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے، جس کے دوران رجسٹرڈ عازمینِ حج کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 65 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 لاکھ 64 ہزار افراد نے سرکاری حج سکیم جب کہ 1 لاکھ 1 ہزار عازمین نے پرائیویٹ حج سکیم کے ذریعے فریضہ حج کی ادائیگی میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب سے سب سے زیادہ 1 لاکھ 68 ہزار افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے، جبکہ سندھ سے 1 لاکھ 7 ہزار، خیبرپختونخوا سے 55 ہزار، اسلام آباد سے 17 ہزار، بلوچستان سے 13 ہزار، آزاد کشمیر سے 3 ہزار اور گلگت بلتستان سے 14 سو شہریوں نے آن لائن پورٹل کے ذریعے اندراج مکمل کیا۔ وزارت نے مزید انکشاف کیا ہے کہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے تحت حج 2028 کے لیے 6 ہزار جبکہ 2029 اور 2030 کے لیے بھی 4 ہزار عازمین پہلے ہی رجسٹر ہو چکے ہیں۔ وزارتِ مذہبی امور نے واضح کیا ہے کہ رجسٹریشن کا عمل مکمل کیے بغیر کوئی بھی شخص آئندہ سالوں میں حج کی ادائیگی کے لیے اہل نہیں ہوگا۔

قومی اتحاد کی فتح: قومی پیغامِ امن کمیٹی کا عاشورۂ محرم کے پرامن اختتام پر حکومت، مقتدر علماء اور سیکیورٹی اداروں کو شاندار خراجِ تحسین

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد (مذہبی و قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے عاشورۂ محرم کے موقع پر ملک بھر میں مثالی امن و امان، رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کی فضا کو برقرار رکھنے پر تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء، مشائخ، ذاکرین، مجالس کے منتظمین، پاک افواج، قانون نافذ کرنے والے مقتدر اداروں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ کمیٹی کے مقتدر رہنماؤں نے کہا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ تزویراتی کاوشوں کے نتیجے میں محرم الحرام کے حساس ایام پرامن اور باہمی احترام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے، جو قومی یکجہتی کا عملی مظہر ہے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی پیغامِ امن کمیٹی اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سمیت پیر سید نقیب الرحمن، مفتی عبد الرحیم، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی کریم خان، ڈاکٹر آصف میر، علامہ عارف علوی، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ توقیر عباس، مولانا عادل عطاری، حافظ محمد امجد، مولانا رمضان سیالوی، مولانا سمیع اللہ آغا، مولانا نعمان نعیم، حافظ مقبول احمد اور مولانا زاہد منصور نے ایک مشترکہ اور مقتدر بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں پاک فوج اور چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی پولیس اور انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی انتھک کوششیں قابلِ ستائش ہیں، اور کمیٹی انتہا پسندی و فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے حکومت اور سلامتی کے اداروں کے ساتھ اپنا مقتدر کردار جاری رکھے گی۔

اپنے خصوصی پیغام میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور تمام مکاتبِ فکر کی ذمہ دارانہ قیادت کی بدولت یہ ایام محبت اور امن کے ماحول میں مکمل ہوئے۔ انہوں نے تزویراتی نقطہ نظر سے اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ خطے کی حالیہ صورتحال اور ایران اسرائیل تنازع کے تناظر میں دشمن عناصر نے پاکستان میں فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرنے کی مقتدر کوشش کی تھی، تاہم علماء، مذہبی جماعتوں، حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ حکمتِ عملی نے ان مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے اس کامیابی کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے وژن کا ثمر قرار دیا۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے ضابطۂ اخلاق “پیغامِ پاکستان” کی خلاف ورزی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک بھر سے موصول ہونے والی شکایات کی تعداد مجموعی سرگرمیوں کے مقابلے میں ایک فیصد سے بھی کم ہے، جن پر قانون کے مطابق مقتدر کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مقتدر جذبۂ اخوت پورے سال برقرار رہے گا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر وزراء کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے مؤثر تعاون نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے تمام مسالک قومی سلامتی اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے ایک پیج پر متحد ہیں۔

مذہبی عقیدت اور پرامن فضاء: ملک بھر میں یومِ عاشور انتہائی احترام و غم کے ساتھ منایا گیا، پوری قوم کا شہدائے کربلا کو زبردست خراجِ عقیدت

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

ملک بھر میں نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے جانثار رفقاء کی عظیم قربانیوں کی یاد میں یومِ عاشور (10 محرم الحرام) انتہائی عقیدت و احترام، گہرے غم اور مقتدر روحانی جذبے کے ساتھ منایا گیا ہے۔ شہریوں، جید مذہبی اسکالرز، عوامی اور سیاسی رہنماؤں نے معرکہ کربلا کے عظیم شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے حق، انصاف اور اسلام کے لازوال پیغام کے لیے ان کی لازوال قربانیوں کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ اس مقتدر دن کی مناسبت سے مختلف قومی میڈیا چینلز پر خصوصی معلوماتی نشریات، انٹرویوز اور مقتدر پیغامات نشر کیے گئے، جن میں ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف صبر، بے مثال قربانی اور ثابت قدمی کے ابدی اسباق کی ترویج کی گئی۔

ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مقتدر علماء کرام اور مذہبی اسکالرز نے سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے باوفا ساتھیوں کے صداقت کے لیے غیر متزلزل اور تاریخی موقف کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں سمیت ملک بھر میں سخت اور مقتدر حفاظتی انتظامات کے تحت روایتی تعزیہ، علم اور ذوالجناح کے ماتمی جلوس نکالے گئے، جبکہ مساجد، امام بارگاہوں اور مجالس کے مقامات پر قرآن خوانی، رقت آمیز خصوصی دعاؤں اور مقتدر مذہبی اجتماعات میں لاکھوں عزادار شریک ہوئے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں شہریوں نے اپنے وفات پا جانے والے پیاروں کے ایصالِ ثواب اور فاتحہ خوانی کے لیے مقامی قبرستانوں کا بھی رخ کیا۔

ملک بھر کے شہریوں، زائرین اور کمیونٹی رہنماؤں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے مقتدر انتظامات کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بہتر حفاظتی اقدامات اور جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کی تعریف کی، جسے مرکزی جلوسوں کے پرامن اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے اور ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے چست کیا گیا تھا۔ سیاسی و سماجی شخصیات نے شہدائے کربلا کو عقیدت کے پھول پیش کرتے ہوئے اس دن کو رہتی دنیا تک جرات، قربانی اور سچائی کی ایک لازوال اور مقتدر یاد دہانی قرار دیا۔

مختلف شہروں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عام شہریوں کا کہنا تھا کہ پرامن حکومتی انتظامات اور نظم و ضبط کے بہترین ماحول نے انہیں مکمل آسانی اور مقتدر عقیدت کے ساتھ عاشورہ کے مراسم ادا کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔ شہریوں نے اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں سیکیورٹی کا انتظام انتہائی قابلِ ستائش تھا اور ہر چیز کو تزویراتی طور پر منظم کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ محفوظ ماحول سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یومِ عاشورہ لوگوں کے مابین باہمی اتحاد، رواداری، صبر اور ایمان کو فروغ دینے کا ابدی درس دیتا ہے، اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقتدر اسوہ اور آفاقی پیغام کائنات میں انصاف، حریت اور انسانیت کے لیے ہمیشہ ایک روشن مشعلِ راہ رہے گا۔

وفاقی بجٹ 2026-27ء، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان زرداری ہاؤس میں اہم مشاورتی اجلاس، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی پی پی پی کی تجاویز بجٹ میں شامل کرنے کی یقین دہانی، وزیراعظم شہباز شریف آج تیسرے دور میں شریک ہوں گے

کاشف عباسی ,june 08,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے حکومت کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو باقاعدہ یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں پارٹی کی جانب سے پیش کردہ تمام تجاویز اور سفارشات پر سنجیدگی سے غور کر کے انہیں شامل کیا جائے گا، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ یقین دہانی اتوار کے روز پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین ہونے والے ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کرائی گئی، جو زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، اس اہم بیٹھک میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پارٹی وفد کی خود قیادت کی، جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹر شیری رحمان اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر جیسی اہم سیاسی شخصیات شامل تھیں، سفارتی و سیاسی ذرائع کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان وفاقی بجٹ، نئے ترقیاتی منصوبوں، صوبوں کے جائز مالی حقوق اور ملک بھر میں عوامی ریلیف کے مختلف اقدامات پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اہم اجلاس اصل میں ہفتہ کے روز ہونا تھا، تاہم گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق گوں نا گوں مصروفیات کے باعث پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی خصوصی درخواست پر اسے اتوار تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا، اب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین بجٹ مشاورت کا تیسرا اہم دور پیر یعنی آج متوقع ہے، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی لاہور سے اپنی واپسی کے فوراً بعد خود شرکت کریں گے، سیاسی مبصرین کے مطابق وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اتحادی جماعتوں کے درمیان جاری یہ مسلسل مشاورت حکومتی اتحاد کے مستقبل کے استحکام اور بجٹ کی بلا رکاوٹ منظوری کے لیے انتہائی اہم اور کلیدی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے غریب عوام کو ریلیف دینے، ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور صوبائی حقوق سے متعلق متعدد سخت اور اہم تجاویز حکومت کے سامنے رکھی گئی ہیں۔

گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مستحکم، پی ٹی آئی کا خطے میں کوئی مؤثر ووٹ بینک نہیں، جن کے اپنے امیدوار پورے نہیں وہ دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں، صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے الزامات پر کرارا جواب

منصور احمد june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جہاں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین لفظی جنگ اور سیاسی گرما گرمی میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے گلگت بلتستان کی انتخابی سیاست پر ن لیگ کا مخلصانہ اور دوٹوک ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں عوامی سطح پر مسلم لیگ (ن) کے حق میں ایک واضح رجحان موجود ہے اور وہاں کے مختلف علاقوں میں گونجنے والے ”شیر، شیر“ کے نعرے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام ن لیگ کی ماضی کی کارکردگی پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، انہوں نے پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران جان بوجھ کر رکاوٹوں کا ایک جھوٹا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں اور سچ یہ ہے کہ اس جماعت کا گلگت بلتستان میں اب کوئی مؤثر ووٹ بینک موجود ہی نہیں رہا، عظمیٰ بخاری نے سیاسی الزامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ جن سیاسی جماعتوں کے پاس حلقوں میں کھڑے کرنے کے لیے امیدوار ہی مکمل نہیں ہیں، وہ اپنی ممکنہ شکست سے بچنے کے لیے ابھی سے ”قبل از وقت دھاندلی“ کے من گھڑت الزامات لگا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں، انہوں نے مشورہ دیا کہ انتخابی مقابلہ سستی الزام تراشی کے بجائے خالصتاً کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے کیونکہ گلگت بلتستان کے باشعور عوام اب جھوٹے دعوؤں اور مخالفین کی منفی سیاست کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور وہ صرف ترقی اور عملی کام کرنے والی جماعت کو ہی ترجیح دے رہے ہیں، صوبائی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ گلگت بلتستان میں سڑکوں کے جال، بہترین انفراسٹرکچر اور دیگر بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے وہاں کے عوام کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور یہی بڑی وجہ ہے کہ عوامی اعتماد ن لیگ کے ساتھ نظر آ رہا ہے جبکہ مخالف سیاسی جماعتیں ترقیاتی کاموں کے بجائے صرف پروپیگنڈا اور الزامات کی سیاست کر رہی ہیں، دوسری جانب سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول بتدریج گرم ہو رہا ہے اور تمام جماعتیں اپنے اپنے بیانیے کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہیں، مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما رانا ثناء اللہ کے مطابق ن لیگ نے خطے کے زیادہ تر حلقوں میں اپنے مضبوط امیدوار کھڑے کیے ہیں جبکہ بعض مخصوص حلقوں میں مقامی آزاد امیدواروں کی حمایت کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، ان کے مطابق کئی نشستوں پر ن لیگ اور دیگر جماعتوں کے مابین انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے اور بعض حلقوں میں ہار جیت کا فرق انتہائی کم ہوگا، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہاں ہر نئے انتخاب کے ساتھ نئی سیاسی صف بندیاں سامنے آتی ہیں، تاہم اصل اور حتمی فیصلہ ہمیشہ عوامی ووٹ کی طاقت سے ہی ہوتا ہے، جو کسی بھی جماعت کے بلند بانگ دعووں کو حقیقت میں بدلنے یا انہیں یکسر رد کرنے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔

دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، پنجگور میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر وزیراعظم شہباز شریف کا سکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین

کاشف عباسی ,june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کامیاب اور بڑی کارروائی پر فورسز کے جوانوں اور افسران کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اور اہم ترین بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حب الوطنی اور جانفشانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پڑوسی ملک بھارت کی خفیہ سرپرستی اور حمایت میں کام کرنے والے خطرناک نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے چھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، وزیراعظم نے اس اہم ترین انٹیلی جنس آپریشن میں حصہ لینے والے سکیورٹی اہلکاروں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، بے مثال جرات اور لازوال قومی خدمت کے جذبے کو دل کھول کر سراہا، ان کا کہنا تھا کہ ہماری بہادر سکیورٹی فورسز نے انتہائی چاق و چوبند انداز میں ایسے ملک دشمن اور وحشی دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر زمینی کارروائی کی ہے جو معصوم، بے گناہ اور نہتے پاکستانی شہریوں کی جان و مال کو شدید نقصان پہنچانے کی مذموم و تخریب کارانہ سرگرمیوں میں مخلصانہ طور پر ملوث تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی بہادر اور نڈر سکیورٹی فورسز وطنِ عزیز کے چپے چپے کے دفاع، ملکی امن و استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے دن رات ہر وقت الرٹ اور تیار ہیں اور دہشت گردی کی اس طویل جنگ کے خلاف ان کی دی جانے والی عظیم قربانیاں پوری غیور قوم کے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہیں، انہوں نے اس آہنی عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان ریاست کی رٹ کو برقرار رکھتے ہوئے ملک سے دہشت گردی کی آخری علامت کے مکمل خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور پاک وطن کے امن و امان کو نقصان پہنچانے والے ان تمام شرپسند عناصر کے خلاف ریاستی کارروائیاں پوری فوجی و انتظامی قوت کے ساتھ آخری دم تک جاری رکھی جائیں گی، واضح رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے پنجگور کے پسماندہ ضلع میں خفیہ اطلاع پر مبنی ایک گرینڈ آپریشن کے دوران چھ مبینہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تھا، جبکہ عسکری کارروائی کے بعد ان کے خفیہ ٹھکانوں کی تلاشی کے دوران بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ، گولیوں کا ذخیرہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ بم اور ایک گاڑی بھی قبضے میں لے کر دہشت گردی کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک ناکام بنا دیا گیا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات آٹھ دہائیوں سے مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، امریکی سفارتخانے میں ڈھائی سویں سالگرہ کی تقریب سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

محمود احمد june 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات انسدادِ دہشت گردی، باہمی تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، صحت اور توانائی سمیت متعدد اہم شعبوں میں انتہائی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے میں امریکہ کی ڈھائی سویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی انتظامیہ اور وہاں کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی، جبکہ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد اسے فوری طور پر تسلیم کیا تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ باہمی احترام، اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی رہے ہیں، اسی طرح دونوں ممالک کے مابین تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط میں وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جہاں دس لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد امریکی شہری دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم اور متحرک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت لگ بھگ اسی بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں کامیابی سے کاروبار کر رہی ہیں جبکہ ہزاروں پاکستانیوں نے امریکی جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور وہ مختلف شعبوں میں اپنی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا کے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے امریکی صدر کے مثبت کردار کو کھل کر سراہا اور کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین شدید کشیدگی کے دوران جنگ بندی کرانے میں امریکی کوششوں کو پاکستان ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی تاریخ میں ہمیشہ امن کے ایک سچے داعی کے طور پر یاد رکھا جائے گا، سفارتی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے مابین ایک مخلص اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ کو روک کر پائیدار امن قائم کیا جا سکے اور انہوں نے اس اہم ترین مشن اور علاقائی استحکام کے سلسلے میں سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی انتھک سفارتی کوششوں کو بھی خصوصی طور پر سراہا اور عزم ظاہر کیا کہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے پاکستان ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا، وزیراعظم نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تربیلا ڈیم، زرعی ترقی کے منصوبوں، تعلیمی وظائف اور مختلف سماجی فلاحی پروگراموں میں امریکی مالی و تکنیکی تعاون کا مخلصانہ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس طویل شراکت داری نے پاکستان کی مجموعی ترقی میں ہمیشہ ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے اور انہوں نے قوی امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور دونوں ممالک مشترکہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری، سفری دستاویزات کے دفاتر کے چکر ختم، گھر پر ترسیل کی سروس کا باقاعدہ اعلان

کاشف عباسی ,june 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے عام شہریوں کی سہولت کے لیے ایک انقلابی اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ تارکینِ وطن و سفری دستاویزات (امیگریشن اینڈ پاسپورٹ) کے ناظمِ اعلیٰ (ڈائریکٹر جنرل) محمد علی رندھاوا نے سرکاری خدمات میں ایک بہت بڑی اور تاریخی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم جولائی سے شہریوں کو اپنی تیار شدہ سفری دستاویز (پاسپورٹ) حاصل کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے دھکے کھانے کی بالکل ضرورت نہیں ہو گی۔

شہریوں کے مسائل پر ناظمِ اعلیٰ کا ہنگامی دورہ اور اصلاحات تفصیلات کے مطابق، ناظمِ اعلیٰ نے وفاقی دارالحکومت میں سفری دستاویزات کے مختلف انتظامی شعبوں (سیکشنز) کا اچانک اور تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے وہاں موجود عام شہریوں سے ملاقاتیں کیں اور سفری دستاویز کے حصول میں پیش آنے والے ان کے سنگین مسائل اور شکایات کو خود سنا۔ شہریوں کی مشکلات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے نظام میں ہنگامی اصلاحات نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔

یکم جولائی سے گھر پر ترسیل کی سہولت کا باقاعدہ آغاز سرکاری اعلان کے مطابق، اب شہریوں کی تیار شدہ سفری دستاویزات براہِ راست ان کے فراہم کردہ پتے پر یعنی سیدھی ان کے گھر پہنچائی جائیں گی۔ گھر پر ترسیل کی یہ جدید ترین سروس (ہوم ڈیلیوری) ملک بھر میں یکم جولائی سے باقاعدہ اور قانونی طور پر شروع کر دی جائے گی، جس کے بعد شہریوں کو لائنوں میں لگنے سے نجات مل جائے گی۔

دفاتر میں رش کا خاتمہ اور نجی ڈاک رساں اداروں کو سخت احکامات محکمے کے ناظمِ اعلیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ اس بڑے اقدام کا اصل مقصد سرکاری دفاتر میں ہونے والے غیر ضروری رش، سارا سارا دن لگی رہنے والی لمبی لائنوں اور معصوم شہریوں کی روزمرہ مشکلات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کے لیے معاہدہ کرنے والے متعلقہ نجی ڈاک رساں اداروں (کورئیر کمپنیوں) کو سخت ترین ہدایات جاری کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ وہ شہریوں کی ان انتہائی حساس اور اہم سفری دستاویزات کی بروقت، امانت دارانہ اور محفوظ ترسیل کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں۔

سروسز میں شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اعلیٰ سرکاری حکام کے مطابق، اس نئے اور عوامی فلاحی اقدام سے سفری دستاویزات کی فراہمی کا پورا سرکاری نظام پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتار، مکمل طور پر شفاف اور جدید خطوط پر استوار ہو جائے گا، جس سے نہ صرف بدعنوانی کا خاتمہ ہو گا بلکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے غریب عوام کو بھی سفری اخراجات اور وقت کی بچت کی شکل میں بڑی سہولت میسر آئے گی۔

دو سو کلوگرام چرس برآمدگی کا مقدمہ، عدالتِ عظمیٰ نے ملزم رضا خان کو بری کرنے کا حکم دے دیا

منصور احمد june 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء: پاکستان کی سب سے بڑی عدالت، عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) نے دو سو (200) کلوگرام چرس برآمدگی کے سنگین مقدمے میں نامزد ملزم رضا خان کی بریت کی باقاعدہ اپیل منظور کرتے ہوئے اسے جیل سے فوری بری کرنے کا تاریخی حکم جاری کر دیا ہے۔

تین رکنی عدالتی پینل کے سامنے اہم سماعت عدالتِ عظمیٰ کے مایہ ناز جج، جناب جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم تین رکنی اعلیٰ عدالتی پینل (بینچ) نے اس اہم مقدمے کی تفصیلی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ملزم کے صفائی کے قانون دان (وکیلِ صفائی) نے عدالت کے سامنے مضبوط مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بے گناہ مؤکل کو ایک ایسے جھوٹے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے جس کا اصل تعلق مبینہ طور پر کسی دوسرے مفرور ملزم سے تھا۔

شواہد کا سائنسی تجزیہ اور ساڑھے چار ماہ کی تاخیر صفائی کے قانون دان نے عدالت کو اہم قانونی نقطے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مبینہ منشیات کی برآمدگی کے پورے چار ماہ اور اٹھارہ (18) دن گزر جانے کے بعد اس کا سائنسی و طبی تجزیہ (فرانزک لیب ٹیسٹ) کروایا گیا، اتنے طویل ترین وقفے سے سرکاری شواہد کی شفافیت اور سچائی انتہائی مشکوک ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید دلیل دی کہ ملزم پر پولیس نے یہ من گھڑت الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ منشیات سے بھرا ٹرک چلا رہا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی شدید جسمانی معذوری کے باعث کوئی بھی بھاری گاڑی یا ٹرک چلانے کے قابل ہی نہیں۔

عدالتِ عظمیٰ کے جج کے اہم ریمارکس اور شواہد پر سوالات سماعت کے دوران معزز جج جناب جسٹس ہاشم کاکڑ نے پولیس کارروائی پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برآمدگی اور سائنسی معائنے کے درمیان اس طویل وقفے پر بہت بڑا سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔ اعلیٰ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ منشیات کے اس نوعیت کے سنگین مقدمات میں شواہد کو سنبھالنے اور ان کی جانچ پڑتال کرنے میں قانون کے مطابق سخت ترین احتیاط برتنا بے حد ضروری ہے۔

ماتحت عدالتوں اور بلوچستان عدالتِ عالیہ کا فیصلہ مسترد صفائی کے قانون دان نے معزز ججوں کو ماضی کے فیصلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل خضدار کے اضافی ضلعی جج (ایڈیشنل سیشن جج) نے ملزم کو دس (10) سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد صوبائی عدالتِ عالیہ (بلوچستان ہائی کورٹ) نے بھی ماتحت عدالت کی اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔ تاہم، اب ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ان تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

بعد ازاں، عدالتِ عظمیٰ نے دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم رضا خان کی جانب سے دائر اپیل کو باقاعدہ منظور کر لیا اور پولیس و جیل انتظامیہ کو حکم دیا کہ اگر ملزم کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو اسے فی الفور رہا کیا جائے۔

عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ تعاون قابلِ ستائش، افرادی قوت کو جدید معاشی تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ضروری ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

کاشف عباسی ,june 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات اور رکنِ ایوانِ بالا (سینیٹر) محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (ورلڈ بینک) کی جانب سے پاکستان کے ساتھ طویل اور پائیدار معاشی تعاون انتہائی قابلِ ستائش ہے، تاہم اب پاکستان کی افرادی قوت کو دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی معیشت کے جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت اور ناگزیر ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کے اعلیٰ سطحی وفد کی اسلام آباد آمد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یہ اہم باتیں عالمی مالیاتی ادارے کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں، جس نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ان سے خصوصی ملاقات کی۔ اس معزز وفد کی قیادت عالمی ادارے میں انسانی ترقی کے شعبے کی نائب صدر کر رہی تھیں، جبکہ ان کے ہمراہ ادارے کے دیگر سینیئر حکام بھی اس اہم بیٹھک میں شامل تھے۔

نوجوان آبادی پاکستان کے لیے قیمتی اثاثہ ہے وزیر خزانہ نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ پاکستان کی بہت بڑی اور نوجوان آبادی ملک کی معاشی ترقی کے لیے ایک بہترین اور سنہری موقع ہے۔ اس انسانی سرمائے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ملک میں انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ترین مہارتوں سے آراستہ کرنا اور انہیں ملکی و بین الاقوامی مزدوروں کی منڈی (لیبر مارکیٹ) کی ضروریات کے مطابق فنی تربیت دینا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات کا حصہ ہے۔

صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر ٹارگٹڈ سرمایہ کاری محمد اورنگزیب نے وفد کو بتایا کہ حکومت ملک بھر میں عام شہریوں کی صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور روزگار کے نئے مواقع بہتر بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر براہِ راست اور ہدف کے مطابق سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر کڑا زور دیا کہ ملک میں مستقل اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ کارخانوں اور زرعی شعبے کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔

زچہ و بچہ کی صحت اور ابتدائی تعلیم پر تفصیلی غور اس اہم ملاقات کے دوران پاکستان میں انسانی ترقی کے بنیادی لائحہ عمل (ایجنڈے) پر تفصیلی اور باریک بینی سے گفتگو ہوئی، جس میں ماں اور بچے کی صحت، غذائیت کی کمی کو دور کرنے، ابتدائی بنیادی تعلیم کی فراہمی اور آبادی میں اضافے جیسے سنگین مسائل پر قابو پانے کے امور شامل تھے۔

عالمی تجربات سے فائدہ اٹھانے اور نجی شعبے کی شمولیت پر اتفاق عالمی مالیاتی ادارے کے وفد نے بھی پاکستان میں نوجوانوں کی مہارتوں کی ترقی، جدید ایجادات و معلومات کے استعمال اور معاشی عمل میں نجی شعبے کی شمولیت کو ملکی بقا کے لیے اہم قرار دیا۔ وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عوامی خدمات کی بہتری کے لیے دنیا کے دیگر کامیاب ممالک کے بین الاقوامی تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر پاکستان کے انسانی سرمائے کو مزید مضبوط و توانا بنانے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے اور ملکی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے اور حکومتِ پاکستان کے درمیان مشترکہ معاشی تعاون کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔

کاروباری برادری کا ساتھ دینے پر حکومت کا شکریہ، ملکی ترقی نجی شعبے کے تعاون سے ہی ممکن ہے: وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشکل ترین معاشی حالات میں حکومتی پالیسیوں کا بھرپور ساتھ دینے پر ملک کی تاجر اور کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ہی پاکستان کی اصل معاشی ترقی کی ضامن ہے۔

آئندہ مالی سال کے سالانہ گوشوارے پر صنعتکاروں سے مشاورت تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک کی معروف صنعتکار اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خصوصی ملاقات کی۔ یہ ملاقات حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے سالانہ مالیاتی گوشوارے (بجلی اور آمدنی کے تخمینے) کے حوالے سے جاری ملک گیر مشاورت کا حصہ تھی۔ اس اہم بیٹھک میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، نئی سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے وزیراعظم نے معزز وفد کا وزیراعظم ہاؤس میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری پاکستان کی معیشت کی مضبوطی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ تاجر برادری ملک کے اصل سفیر ہیں جو پوری دنیا میں پاکستان کی تجارتی پہچان بناتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت ملکی برآمدات میں اضافے پر مبنی معاشی ترقی کی پالیسی پر گامزن ہے اور اسی لیے پالیسی سازی کے ہر عمل میں نجی شعبے کی مشاورت کو بنیادی اور کلیدی اہمیت دی جا رہی ہے۔

غیر دستاویزی معیشت کو سرکاری دائرے میں لانے کا عزم وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی غیر دستاویزی (غیر رسمی) معیشت کو سرکاری محصولاتی دائرے (ٹیکس نیٹ) میں لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث اب ملکی معیشت میں واضح استحکام آ رہا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کا اصل مقصد ایسی صنعتوں کا فروغ ہے جن سے ملکی پیداوار میں اضافہ ہو، برآمدات بڑھیں اور ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔

صنعت، زراعت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک میں صنعت، زراعت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے شعبوں کی ترقی کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ ملک کے نوجوانوں کے لیے مختلف تکنیکی اور فنی تربیت کے پروگرام بھی جاری ہیں تاکہ انہیں روزگار کے بہتر اور جدید مواقع میسر آ سکیں۔

خصوصی تجارتی عدالتوں کا قیام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری اس اہم ملاقات کے دوران وفد کو حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاشی اقدامات پر تفصیلی آگاہی دی گئی جس میں بتایا گیا کہ سرکاری محصولات کے دیرینہ مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے قانونی اصلاحات کی گئی ہیں اور ملک میں خصوصی تجارتی (کمرشل) عدالتوں کے قیام پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ، کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے اندرونی حصوں تک رسائی کو آسان اور تیز بنانے کے منصوبے بھی آخری مراحل میں ہیں۔

تجارتی سامان کی ترسیل اور مصنوعی ذہانت کا قومی منصوبہ سرکاری حکام کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، ریلوے اور شاہراہوں (موٹرویز) کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے تجارتی سامان کی اندرون و بیرون ملک ترسیل میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ حکومت ملک میں ‘مصنوعی ذہانت’ (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) پر مبنی ایک قومی منصوبہ بھی تشکیل دے رہی ہے تاکہ مختلف پیداواری شعبوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا کر لاگت کو کم کیا جا سکے Industrial cost۔

حکومتی معاشی پالیسیوں پر تاجر برادری کا بھرپور اعتماد ملاقات میں موجود کاروباری وفد نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت اب بالکل درست سمت میں گامزن ہے۔ کاروباری رہنماؤں نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، محصولاتی اصلاحات، برآمدی ترقیاتی اقدامات اور جمع شدہ سرکاری واجبات (ٹیکس ریفنڈز) کی بروقت ادائیگیوں کے حکومتی اقدامات کو دل کھول کر سراہا۔

کاروباری برادری نے حکومت کے ساتھ ہر سطح پر مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صنعتی ترقی، برآمدات میں ریکارڈ اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے وزیراعظم کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ اس اہم ترین ملاقات میں وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔

بابر اعظم ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے پاکستان کے دس بہترین بلے بازوں میں شامل

منصور احمد june 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 03 جون 2026ء

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز بابر اعظم نے بین الاقوامی کرکٹ میں ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ وہ پاکستان کی جانب سے ایک روزہ میچوں (او ڈی آئی) کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے دس (10) چوٹی کے بلے بازوں کی باوقار فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔

سابق مایہ ناز بلے باز اعجاز احمد کا ریکارڈ توڑ دیا آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی حالیہ سیریز کے دوران بابر اعظم نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے سابق نامور کھلاڑی اعجاز احمد کو رنز کی دوڑ میں پیچھے چھوڑا اور مایہ ناز دس کھلاڑیوں کی فہرست میں اپنی جگہ پکی کی۔ اعجاز احمد طویل عرصے سے اس فہرست کا حصہ تھے، جن کا ریکارڈ اب سابق کپتان نے اپنے نام کر لیا ہے۔

مستقل مزاجی اور عالمی معیار کا شاندار ریکارڈ بابر اعظم نے اب تک کھیلے گئے ایک سو بیالیس (142) ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ترپن اعشاریہ چوون (53.54) کی شاندار اور جاندار اوسط کے ساتھ مجموعی طور پر چھ ہزار پانچ سو چھیاسی (6586) رنز اسکور کیے ہیں۔ ان کی ان یادگار اننگز میں بیس (20) شاندار سنچریاں (سو رنز) اور اڑتیس (38) نصف سنچریاں (پچاس رنز) شامل ہیں، جو عالمی کرکٹ میں ان کی لاجواب مستقل مزاجی اور بہترین تکنیک کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انضمام الحق بدستور پہلے نمبر پر براجمان پاکستان کی جانب سے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ورلڈ ریکارڈ اب بھی سابق جارح مزاج کپتان انضمام الحق کے پاس محفوظ ہے، جنہوں نے اپنے طویل دورِ کھیل میں گیارہ ہزار سات سو ایک (11701) رنز بنائے۔

پاکستان کے دیگر نامور بلے باز پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے دیگر نمایاں اور مایہ ناز بلے بازوں میں محمد یوسف، سعید انور، شاہد آفریدی، شعیب ملک، جاوید میانداد، یونس خان، سلیم ملک اور محمد حفیظ شامل ہیں، جو طویل عرصے تک قومی ٹیم کی بلے بازی کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں اور اب بابر اعظم بھی اسی صفِ اول کے کھلاڑیوں میں شمار ہو چکے ہیں۔

کھیل کے ماہرین کی جانب سے بھرپور خراجِ تحسین کرکٹ کے ماہرین اور سابق کھلاڑیوں کے مطابق، بابر اعظم کا اتنی کم عمری اور کم میچوں میں یہ عظیم سنگِ میل عبور کرنا ان کے مستقل اعلیٰ معیار، محنت اور پاکستان کرکٹ میں ان کے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر مقام کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید کئی بڑے ریکارڈز اپنے نام کریں گے۔

امریکہ نے پاکستان سمیت دنیا کے ساٹھ ممالک پر نئے تجارتی ٹیکس عائد کر دیے، عالمی معیشت میں ہلچل

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی حکومت نے ایک بہت بڑا معاشی فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے ساٹھ (60) اہم تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والے سامان پر دس (10) سے ساڑھے بارہ (12.5) فیصد تک نئے درآمدی ٹیکس (ٹیرف) نافذ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے اس غیر متوقع فیصلے کو عالمی تجارت اور معاشی نظام کے لیے ایک انتہائی سخت اور دور رس قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

جبری مشقت کے قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی کا الزام امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ سخت معاشی فیصلہ ایک طویل تحقیقاتی عمل کے بعد کیا گیا ہے۔ امریکی مقتدر حلقوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ ساٹھ ممالک اپنے ہاں جبری مشقت (مزدوروں سے زبردستی کام لینے) کے مروجہ طریقوں سے تیار ہونے والی مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قوانین بنانے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کروانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر ان ممالک سے امریکہ آنے والی تمام برآمدات پر اضافی درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

پاکستان، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت بڑے شراکت دار ہدف پر رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی اس نئی اور کڑی تجارتی پالیسی کی زد میں آنے والے ساٹھ ممالک میں پاکستان، بھارت، برطانیہ، یورپی یونین کے رکن ممالک، کینیڈا اور جاپان جیسے امریکہ کے سب سے بڑے اور مستقل تجارتی شراکت دار شامل ہیں۔ یہ تمام ممالک ہر سال امریکہ کو مجموعی طور پر اربوں ڈالرز مالیت کی اشیاء برآمد کرتے ہیں، جس کے باعث عالمی ماہرینِ معیشت کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نئی پالیسی سے پورے عالمی تجارتی نظام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی مارکیٹ میں منصفانہ مسابقت اور مزدوروں کا تحفظ امریکی محکمہ تجارت نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ہنگامی اقدام امریکی مارکیٹ میں منصفانہ کاروباری مسابقت کو یقینی بنانے اور جبری مشقت کے خلاف عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت جاری رکھنا جو مزدوروں کے حقوق پر مؤثر اقدامات نہیں کرتے، خود امریکی معیشت، مقامی کارخانوں اور امریکی محنت کشوں کے مفادات کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

عالمی تجارتی نظام میں شفافیت لانے کا دعویٰ امریکی نمائندہ برائے تجارت نے بھی واشنگٹن کے اس بڑے اقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاشی ٹیکس کا اصل مقصد عالمی تجارتی نظام میں شفافیت، برابری اور انصاف کو فروغ دینا ہے تاکہ امریکی مصنوعات اور وہاں کے مقامی محنت کشوں کو بین الاقوامی سطح پر ہونے والے غیر منصفانہ مقابلے سے مستقل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

برآمدی صنعتوں پر دباؤ اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا خطرہ دوسری جانب، بین الاقوامی معاشی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کے اس یکطرفہ فیصلے سے عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ، غیریقینی صورتحال اور مختلف بلاکس کے درمیان تجارتی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان سمیت تمام متاثرہ ممالک کی مقامی برآمدی صنعتوں پر مالی دباؤ بڑھے گا اور ان کے لیے امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات سستے داموں بیچنا اب ممکن نہیں رہے گا۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابیاں، مختلف اضلاع میں 17 دہشت گرد ہلاک

منصور احمد june 02,2026

راولپنڈی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

پاک فوج اور سکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر ہنگامی اور کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے سترہ (17) اہم دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، یہ تمام کارروائیاں صوبے کے حساس اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے مختلف خفیہ ٹھکانوں پر کی گئیں۔

خفیہ اطلاعات پر مربوط آپریشنز اور شدید فائرنگ کا تبادلہ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ عسکری بیان کے مطابق، بلوچستان کے مختلف مقامات پر بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی انتہائی معتبر اور خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ ان معلومات پر سکیورٹی فورسز نے انتہائی مربوط اور منظم آپریشنز کا آغاز کیا۔ کارروائیوں کے دوران گھیرے میں آئے دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان آمنے سامنے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں سترہ (17) شرپسند دہشت گرد مارے گئے۔

شہریوں پر حملوں میں ملوث ہونا اور بھاری اسلحے کی برآمدگی سرکاری عسکری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے یہ تمام دہشت گرد طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز پر حملوں، تخریب کاری اور معصوم شہریوں کے خلاف مختلف گھناؤنی دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہِ راست ملوث اور مطلوب تھے۔ کامیاب کارروائی کے بعد فورسز نے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں پر قبضے کے بعد وہاں سے بھاری مقدار میں جدید ترین خودکار اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (بارودی مواد) برآمد کر کے قبضے میں لے لیے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشن اور عزمِ استحکام عسکری حکام کے مطابق، دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد ان تمام متاثرہ علاقوں میں فوج کا خصوصی سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے ممکنہ خطرے یا مفرور ساتھی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے اور پورے خطے کو دہشت گرد عناصر سے پاک کر کے پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

بیان میں مزید عزم ظاہر کیا گیا کہ قومی پالیسی ‘عزمِ استحکام’ کے تحت ملک بھر سے دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے یہ ٹارگٹڈ کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور پاکستان میں بیرونی ممالک کی سرپرستی اور فنڈنگ سے ہونے والی ہر قسم کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

سکیورٹی فورسز نے اپنے مشترکہ بیان کے اختتام پر اس فولادی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کے امن، سلامتی، ملکی استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ پوری قومی قوت، یکسوئی اور عسکری طاقت کے ساتھ آخری حد تک جاری رکھی جائے گی۔

عمران خان سے ملاقات کروائیں، پھر بجٹ پاس کروائیں؛ علیمہ خان کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بڑا مشورہ

کاشف عباسی ,june 02,2026

راولپنڈی / پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے صوبائی بجٹ کی منظوری کے معاملے پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ایک اہم اور دوٹوک مشورہ دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر حکومت بجٹ کی پرامن اور باقاعدہ منظوری چاہتی ہے، تو اس کے لیے سب سے پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مقتدر حلقوں اور پارٹی قیادت کی ملاقات کی اجازت دی جائے۔

ملاقاتوں پر پابندی اور پارٹی ورکرز کے تحفظات راولپنڈی میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان گزشتہ کئی ماہ سے جیل میں سخت ترین قید کا سامنا کر رہے ہیں اور اس دوران ان سے ملاقاتوں پر عائد کی جانے والی غیر قانونی پابندیوں کے حوالے سے عوام اور پارٹی کے اندر متعدد سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے تمام مرکزی رہنماؤں اور لاکھوں مخلص کارکنوں کی یہ شدید ترین خواہش ہے کہ عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔

حکومتی افواہیں اور خفیہ ڈیل کے دعووں کی حقیقت انہوں نے ایک بار پھر میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مختلف سیاسی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، تاہم حقیقت میں پسِ پردہ کسی بھی قسم کی کوئی سیاسی ڈیل، این آر او یا مفاہمت نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی حکمرانوں کو عوامی ردعمل اور اپنے خلاف سیاسی دباؤ میں شدید اضافہ محسوس ہوتا ہے تو وہ اس طرح کی قیاس آرائیاں سامنے لے آتے ہیں۔

عمران خان کی صحت پر شدید خدشات اور طبی معائنے کا مطالبہ علیمہ خان نے سابق وزیراعظم کی جیل میں صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت اور ان کے باقاعدہ طبی معائنے کے حوالے سے فیملی اور وکلا کو شدید اور سنجیدہ خدشات لاحق ہیں۔ انہوں نے جیل انتظامیہ اور عدالتوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ انہیں ملک کے مستند اور ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے فوری طور پر مکمل طبی معائنہ کروانے کی قانونی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کی صحت کے بارے میں پائے جانے والے تمام شکوک و شبہات دور ہو سکیں۔

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو میدان میں آنے کی پکار انہوں نے پارٹی کی اعلیٰ سطح کی قیادت سے مخلصانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام منتخب نمائندے، سینیٹرز، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور تمام سینئر رہنما اس کڑے وقت میں مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور اپنے کارکنوں کے ساتھ ہراول دستہ بن کر کھڑے ہوں۔ علیمہ خان کے مطابق، اگر پارٹی کی مرکزی سیاسی قیادت خود جیلوں اور سڑکوں پر میدان میں آئے گی، تو اس سے نچلی سطح پر موجود ورکرز کا اعتماد اور حوصلہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو جائے گا۔

جمہوری عمل کا احترام اور سیاسی استحکام کی ضرورت علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عوام کے ڈالے گئے قیمتی ووٹ اور مجموعی جمہوری عمل کا غیر مشروط احترام ملکی بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے، اور ملک کے تمام موجودہ سیاسی معاملات کا واحد حل صرف آئین، قانون اور مروجہ جمہوری اصولوں کے مطابق ہی نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر سخت زور دیا کہ پاکستان میں حقیقی سیاسی استحکام اور جمہوری عمل کی مضبوطی کے لیے اب تمام فریقین کو اپنا اپنا ذمہ دارانہ اور آئینی کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں ایک بار پھر مقتدر حلقوں سے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد غیر قانونی پابندیوں اور ان کے بنیادی قانونی و طبی حقوق کی پامالی کا فوری طور پر جائزہ لیا جائے، اور جیل میں بند سابق وزیراعظم سے متعلق تمام زیرِ التوا معاملات کو ملکی قانون کے مطابق فی الفور حل کیا جائے۔