روس کا یوکرین پر ہولناک الزامات کے ساتھ بڑے عسکری حملوں کا اعلان، سٹاروبیلسک یونیورسٹی پر ڈرون حملے میں ۲۱ طلبا جاں بحق، کییف میں فیصلہ سازی کے مراکز کو اڑانے کی دھمکی، زرکون اور کنژال میزائلوں کا استعمال

Spread the love

منصور احمد june 10,2026

ماسکو(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

روس اور یوکرین کے درمیان جاری خونی جنگ اب اپنے خطرناک ترین اور وحشیانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں پاکستان میں تعینات روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے یوکرین کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے سٹاروبیلسک کے علاقے میں ہونے والے حالیہ ہولناک ڈرون حملے اور اس کے بعد کی روسی عسکری جوابی کارروائیوں پر شدید ترین ردِعمل کا اظہار کیا ہے اور مغربی دنیا سمیت یوکرینی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، ماسکو اور بین الاقوامی میڈیا مانیٹرنگ ڈیسک سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز تفصیلات کے مطابق روسی سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ۲۲ مئی کو سٹاروبیلسک کے پُر امن علاقے میں یوکرین کی مسلح افواج (AFU) نے ایک بزدلانہ ڈرون حملہ کر کے وہاں قائم ایک معصوم تعلیمی ادارے کو براہِ راست نشانہ بنایا، جسے انہوں نے صریحاً بین الاقوامی ”دہشت گردی“ قرار دیا ہے، روسی سفیر کی جانب سے پریس بریفنگ میں فراہم کردہ دلدوز تفصیلات کے مطابق:
یوکرینی حملے میں تدریسی یونیورسٹی کے ۲۱ زیرِ تعلیم طلبا موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
ملبے تلے دب جانے اور دھماکے کی زد میں آنے سے ۶۰ سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔
جاں بحق ہونے والے مظلوم طلبا میں ۱۸ نوجوان لڑکیاں اور ۳ لڑکے شامل تھے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام جاں بحق و متاثرہ طلبا کی عمریں ۲۳ سال سے کم تھیں۔
یہ تمام نوجوان طلبا مذکورہ تدریسی یونیورسٹی کے گریجویشن کے آخری مرحلے سے منسلک تھے اور اپنا مستقبل بنانے کے سفر پر تھے۔
روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کریملن کا دوٹوک موقف دہراتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران شہری آبادی اور تعلیمی اداروں کو وحشیانہ انداز میں نشانہ بنانا تمام بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے، انہوں نے یوکرین کے اس اقدام کو روس کی جانب سے طے کردہ ”ریڈ لائن عبور کرنے“ کے مترادف قرار دیتے ہوئے انتہائی خوفناک ردِعمل کا واضح عندیہ دیا ہے، روسی سفیر نے واشنگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ اب یہ جنگ ایک بالکل نئے اور تباہ کن فوجی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور روسی افواج کی کارروائیاں اب مزید وسیع اور بے رحم ہو سکتی ہیں، اسی تناظر میں روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ جنگی بیانات کے مطابق:
۱۔ یوکرین کے تمام فوجی صنعتی کمپلیکس، اسلحہ خانوں اور توانائی کے مراکز پر مرحلہ وار تباہ کن حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔
۲۔ روس اب یوکرین کے دارالحکومت کییف کے اندر قائم مرکزی کمانڈ کنٹرول اور اعلیٰ فیصلہ سازی کے صدارتی و عسکری مراکز کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر سکتا ہے۔
۳۔ ان فضائی حملوں میں روس نے اپنے جدید ترین اور ناقابلِ شکست ہائپر سونک میزائل سسٹمز جیسے کہ اسکندر ، کنژال ، اور زرکون سمیت دیگر جدید ترین ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے۔
روسی حکومت کے دعوے کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کردہ یوکرینی فضائی دفاعی نظام روس کے ان مہلک ہائپر سونک میزائلوں کے متعدد حملوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، روسی سفیر نے امریکہ اور نیٹو سمیت تمام مغربی ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عالمی برادری یوکرین کی اس بربریت اور معصوم طلبا کے قتلِ عام کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کر رہی ہے اور الٹا یوکرین کو مزید خطرناک فوجی امداد فراہم کر کے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک امن مذاکرات کی تمام کوششوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملا رہے ہیں جبکہ یوکرینی اور بعض مغربی میڈیا ہاؤسز اس اندوہناک واقعے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں، روسی حکام کے مطابق عالمی برادری کے سامنے سچ لانے کے لیے مختلف ممالک کے صحافیوں کو خود سٹاروبیلسک کی تباہ شدہ یونیورسٹی کا دورہ کروایا گیا ہے، جس میں تقریباً ۲۰ ممالک کے ۵۱ غیر ملکی صحافی شریک تھے، تاہم بعض بڑے مغربی میڈیا ہاؤسز نے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سچائی کو دیکھنے اور دورے میں شرکت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
ادارتی نوٹ: یہ ہنگامی رپورٹ خالصتاً روسی سفیر اور ماسکو کے باضابطہ بیانات، دعوؤں اور الزامات پر مبنی ہے، جبکہ آزاد بین الاقوامی ذرائع اور یوکرینی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق یا موقف اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔