روس-یوکرین تنازع پر پاکستان کا مؤقف انتہائی ذمہ دارانہ اور قابلِ تحسین ہے، روسی سفیر البرٹ پی خوریف کی اسلام آباد میں اہم پریس بریفنگ، یوکرین پر نیوکلیئر پاور پلانٹ، زچگی ہسپتال اور مسافر بس پر ہولناک حملوں کے سنگین الزامات

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جاری خونی جنگ اپنے خطرناک ترین اور وحشیانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں پاکستان میں تعینات روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے وفاق دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس بریفنگ کے دوران یوکرین کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مغربی دنیا اور یوکرینی حکومت پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے جبکہ دوسری جانب انہوں نے روس اور یوکرین کے اس شدید تنازع پر پاکستان کی ریاست کے اب تک کے اسٹریٹجک اور سفارتی کردار کی کھل کر تعریف کی ہے، روسی سفیر کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے آغاز ہی سے پاکستان کا موقف ہمیشہ انتہائی متوازن، تعمیری، حقیقت پسندانہ اور ذمہ دارانہ رہا ہے جسے ماسکو کی اعلیٰ قیادت انتہائی قابلِ تحسین اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ پاکستان نے مغربی ممالک کے شدید دباؤ کے باوجود بین الاقوامی سطح پر جس بہترین غیر جانبدارانہ اور سنجیدہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا ہے وہ عالمی امن کے لیے ایک بہترین مثال ہے، روسی سفیر نے پریس بریفنگ کے دوران یوکرین کی عسکری کارروائیوں کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دنوں کے دوران یوکرینی افواج کی جانب سے سویلین آبادی پر وحشیانہ گولہ باری کی گئی جس کے تحت پُر امن شہری علاقوں کو بلا اشتعال نشانہ بنایا گیا اور دنیا کے حساس ترین نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بالکل قریب قائم رہائشی علاقوں، بچوں کے اسکولوں اور ایک زچگی ہسپتال پر دانستہ طور پر راکٹ برسائے گئے جبکہ نیوکلیئر پاور یونٹ پر ایک خطرناک خودکش ڈرون حملہ بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں پلانٹ کے انتہائی اہم مشین ہال کی بیرونی کنکریٹ کی دیوار میں تقریباً تیس سینٹی میٹر کا گہرا سوراخ ہو گیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی بڑا جانی یا تابکاری کا نقصان نہیں ہوا لیکن روس نے ان واقعات کو اقوامِ متحدہ کے سامنے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کی یہ بزدلانہ عسکری مہم جوئی کسی بھی وقت دنیا میں ایک بہت بڑے اور ناقابلِ تلافی ایٹمی حادثے کا سبب بن سکتی ہے، روسی سفیر نے بریفنگ میں دیگر دلدوز واقعات کا ذکر کرتے ہوئے یوکرینی حکومت پر سویلین ہلاکتوں کے مزید الزامات عائد کیے اور بتایا کہ ایک علاقے میں یوکرینی ڈرون حملے کی زد میں آ کر ایک معصوم پانچ سالہ بچہ بے دردی سے ہلاک ہو گیا جبکہ ایک دوسرے مقام پر مسافروں سے بھری ایک پبلک بس کو راکٹ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بس میں سوار سات عام شہری موقع پر ہی جاں بحق اور گیارہ افراد شدید زخمی ہو گئے جبکہ اس سے قبل ایک تعلیمی ادارے پر ہونے والے ڈرون حملے میں گریجویشن کے آخری مرحلے کے اکیس معصوم طلبا بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں اٹھارہ نوجوان لڑکیاں شامل تھیں، روس نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اب یہ جنگ ایک بالکل نئے اور تباہ کن فوجی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور روسی افواج کی کارروائیاں اب مزید وسیع اور بے رحم ہوں گی جس کے تحت یوکرین کے تمام فوجی صنعتی کمپلیکس اور اسلحہ خانوں پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور اب روس یوکرین کے دارالحکومت کے اندر قائم مرکزی کمانڈ کنٹرول اور اعلیٰ فیصلہ سازی کے صدارتی و عسکری مراکز کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا اور ان فضائی حملوں میں روس نے اپنے جدید ترین اور ہائپر سونک میزائل سسٹمز کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے جنہیں روکنے میں یوکرینی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، روسی سفیر نے امریکہ اور نیٹو سمیت تمام مغربی ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عالمی برادری یوکرین کی اس بربریت اور معصوم بچوں کے قتلِ عام کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کر رہی ہے اور الٹا یوکرین کو مزید خطرناک فوجی امداد فراہم کر کے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک امن مذاکرات کی تمام کوششوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملا رہے ہیں جبکہ یوکرینی اور مغربی میڈیا ہاؤسز اس اندوہناک واقعے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور انہوں نے حقیقت دیکھنے کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے، روسی سفیر کا کہنا تھا کہ ماسکو نے پاکستان سمیت دنیا کے تمام دوست ممالک کو سفارتی روابط کے ذریعے ان تمام تر زمینی حقائق اور یوکرینی جارحیت سے تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا ہے تاکہ عالمی سطح پر سچائی سامنے آ سکے۔

روس کا یوکرین پر ہولناک الزامات کے ساتھ بڑے عسکری حملوں کا اعلان، سٹاروبیلسک یونیورسٹی پر ڈرون حملے میں ۲۱ طلبا جاں بحق، کییف میں فیصلہ سازی کے مراکز کو اڑانے کی دھمکی، زرکون اور کنژال میزائلوں کا استعمال

منصور احمد june 10,2026

ماسکو(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

روس اور یوکرین کے درمیان جاری خونی جنگ اب اپنے خطرناک ترین اور وحشیانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں پاکستان میں تعینات روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے یوکرین کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے سٹاروبیلسک کے علاقے میں ہونے والے حالیہ ہولناک ڈرون حملے اور اس کے بعد کی روسی عسکری جوابی کارروائیوں پر شدید ترین ردِعمل کا اظہار کیا ہے اور مغربی دنیا سمیت یوکرینی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، ماسکو اور بین الاقوامی میڈیا مانیٹرنگ ڈیسک سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز تفصیلات کے مطابق روسی سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ۲۲ مئی کو سٹاروبیلسک کے پُر امن علاقے میں یوکرین کی مسلح افواج (AFU) نے ایک بزدلانہ ڈرون حملہ کر کے وہاں قائم ایک معصوم تعلیمی ادارے کو براہِ راست نشانہ بنایا، جسے انہوں نے صریحاً بین الاقوامی ”دہشت گردی“ قرار دیا ہے، روسی سفیر کی جانب سے پریس بریفنگ میں فراہم کردہ دلدوز تفصیلات کے مطابق:
یوکرینی حملے میں تدریسی یونیورسٹی کے ۲۱ زیرِ تعلیم طلبا موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
ملبے تلے دب جانے اور دھماکے کی زد میں آنے سے ۶۰ سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔
جاں بحق ہونے والے مظلوم طلبا میں ۱۸ نوجوان لڑکیاں اور ۳ لڑکے شامل تھے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام جاں بحق و متاثرہ طلبا کی عمریں ۲۳ سال سے کم تھیں۔
یہ تمام نوجوان طلبا مذکورہ تدریسی یونیورسٹی کے گریجویشن کے آخری مرحلے سے منسلک تھے اور اپنا مستقبل بنانے کے سفر پر تھے۔
روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کریملن کا دوٹوک موقف دہراتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران شہری آبادی اور تعلیمی اداروں کو وحشیانہ انداز میں نشانہ بنانا تمام بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے، انہوں نے یوکرین کے اس اقدام کو روس کی جانب سے طے کردہ ”ریڈ لائن عبور کرنے“ کے مترادف قرار دیتے ہوئے انتہائی خوفناک ردِعمل کا واضح عندیہ دیا ہے، روسی سفیر نے واشنگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ اب یہ جنگ ایک بالکل نئے اور تباہ کن فوجی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور روسی افواج کی کارروائیاں اب مزید وسیع اور بے رحم ہو سکتی ہیں، اسی تناظر میں روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ جنگی بیانات کے مطابق:
۱۔ یوکرین کے تمام فوجی صنعتی کمپلیکس، اسلحہ خانوں اور توانائی کے مراکز پر مرحلہ وار تباہ کن حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔
۲۔ روس اب یوکرین کے دارالحکومت کییف کے اندر قائم مرکزی کمانڈ کنٹرول اور اعلیٰ فیصلہ سازی کے صدارتی و عسکری مراکز کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر سکتا ہے۔
۳۔ ان فضائی حملوں میں روس نے اپنے جدید ترین اور ناقابلِ شکست ہائپر سونک میزائل سسٹمز جیسے کہ اسکندر ، کنژال ، اور زرکون سمیت دیگر جدید ترین ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے۔
روسی حکومت کے دعوے کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کردہ یوکرینی فضائی دفاعی نظام روس کے ان مہلک ہائپر سونک میزائلوں کے متعدد حملوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، روسی سفیر نے امریکہ اور نیٹو سمیت تمام مغربی ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عالمی برادری یوکرین کی اس بربریت اور معصوم طلبا کے قتلِ عام کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کر رہی ہے اور الٹا یوکرین کو مزید خطرناک فوجی امداد فراہم کر کے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک امن مذاکرات کی تمام کوششوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملا رہے ہیں جبکہ یوکرینی اور بعض مغربی میڈیا ہاؤسز اس اندوہناک واقعے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں، روسی حکام کے مطابق عالمی برادری کے سامنے سچ لانے کے لیے مختلف ممالک کے صحافیوں کو خود سٹاروبیلسک کی تباہ شدہ یونیورسٹی کا دورہ کروایا گیا ہے، جس میں تقریباً ۲۰ ممالک کے ۵۱ غیر ملکی صحافی شریک تھے، تاہم بعض بڑے مغربی میڈیا ہاؤسز نے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سچائی کو دیکھنے اور دورے میں شرکت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
ادارتی نوٹ: یہ ہنگامی رپورٹ خالصتاً روسی سفیر اور ماسکو کے باضابطہ بیانات، دعوؤں اور الزامات پر مبنی ہے، جبکہ آزاد بین الاقوامی ذرائع اور یوکرینی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق یا موقف اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔