ریاست یوٹاہ میں مسلم شہری پر چاقو سے قاتلانہ حملہ؛ امریکی مسلم تنظیم ‘کیر’ کا اسلام مخالف بیانیے اور نفرت انگیز جرائم کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ

Spread the love

محمود احمد, JULY 15,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

امریکہ میں مسلمانوں کے شہری حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم سب سے بڑی موقر تنظیم ‘کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز’ (کیر) نے ریاست یوٹاہ میں مبینہ مذہبی منافرت کی بنیاد پر ایک مسلمان شہری پر چاقو سے کیے گئے ہولناک حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم نے امریکی حکام، سیاست دانوں اور سماجی رہنماؤں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلام مخالف نفرت انگیز بیانات کی واضح اور دوٹوک مذمت کریں اور ایسی انتہا پسندانہ سوچ کو فروغ دینے والے عناصر کو معاشرے میں مکمل طور پر مسترد کریں۔

مقامی پولیس کے مطابق، گرفتار ملزم نے تفتیش کے دوران مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے متاثرہ شخص کو محض اس کے اسلامی عقیدے اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق، متاثرہ مسلم شہری پر چاقو سے یکے بعد دیگرے کئی وار کیے گئے، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گیا اور اسے نازک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملزم مبینہ طور پر مسلم برادری کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانے والے مزید خوفناک حملوں کی بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ پولیس نے واقعے کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے باقاعدہ ‘نفرت انگیز جرم’ (ہیٹ کرائم) کے طور پر رجسٹر کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نہاد عوض نے اس ہولناک واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک تزویراتی بیان میں کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اسلام مخالف نفرت انگیز بیانات کے معاشرے میں کتنے خطرناک اور حقیقی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب مسلمانوں کو مسلسل بدنام کیا جاتا ہے، انہیں ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یا انہیں مساوی حقوق اور انسانی وقار سے محروم سمجھا جاتا ہے، تو بعض انتہا پسند ذہن کے حامل افراد اسی زہریلے بیانیے کو عملی تشدد کی شکل دے دیتے ہیں۔ نہاد عوض نے مطالبہ کیا کہ امریکی رہنما اسلاموفوبیا اور مذہبی تعصب کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں، اور انہوں نے زخمی شہری کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔