سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں ۱۰۰ فیصد تاریخی اضافہ، شہریوں کا شدید ردعمل، تمام مراعات ختم کرنے کا مطالبہ

Spread the love

منصور احمد june 18,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے ملازمین اور افسران کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں پورے ۱۰۰ فیصد اضافے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی عدالتی و انتظامی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یوٹیلیٹی الاؤنس میں کیے جانے والے اس بھاری اضافے کا باقاعدہ اطلاق یکم جولائی ۲۰۲۶ء سے ہوگا، اعلامیے کے تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق گریڈ ۱ سے ۶ تک کے ملازمین کا ماہانہ الاؤنس ۶ ہزار روپے سے بڑھا کر ۱۲ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۷ سے ۱۰ تک کے ملازمین کا الاؤنس ۸ ہزار سے بڑھا کر ۱۶ ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اسی طرح گریڈ ۱۱ سے ۱۵ تک کے ملازمین کا یوٹیلیٹی الاؤنس ۱۰ ہزار سے بڑھ کر سیدھا ۲۰ ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے، اعلامیے کے مطابق گریڈ ۱۶ کے افسران کا الاؤنس ۱۲ ہزار سے بڑھا کر ۲۴ ہزار روپے، گریڈ ۱۷ کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس ۱۵ ہزار سے بڑھ کر ۳۰ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۱۸ کے افسران کا الاؤنس ۱۸ ہزار سے بڑھا کر ۳۶ ہزار روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، اعلیٰ ترین افسران کی بات کی جائے تو گریڈ ۱۹ کے افسران کا الاؤنس ۲۱ ہزار سے بڑھا کر ۴۲ ہزار روپے، گریڈ ۲۰ کے افسران کا الاؤنس ۲۴ ہزار سے بڑھا کر ۴۸ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۲۱ اور اس سے اوپر کے تمام اعلیٰ ترین افسران کا ماہانہ الاؤنس ۳۰ ہزار روپے سے بڑھا کر سیدھا ۶۰ ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اس سرکاری اعلامیے میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ اس مخصوص یوٹیلیٹی الاؤنس میں گیس اور بجلی کے بھاری اخراجات شامل ہیں اور اس مد میں ہونے والے تمام اضافی اخراجات مالیاتی سال ۲۰۲۶-۲۷ کے منظور شدہ بجٹ سے ہی پورے کیے جائیں گے۔

دوسری جانب معاشی بحران اور کمر توڑ مہنگائی کے پِسے ہوئے عام شہریوں نے سپریم کورٹ کے اس اعلامیے پر انتہائی شدید اور منفی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور عدالتی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، شہریوں کا اپنے عوامی احتجاج میں کہنا ہے کہ ملک کے دیگر سرکاری ملازمین اور اعلیٰ حکام کی تنخواہوں میں پہلے ہی کئی سو گنا اضافہ کیا جا چکا ہے اور اب اس کٹھن صورتحال میں سپریم کورٹ کے ملازمین کے لیے یوٹیلیٹی الاؤنس کو دوگنا کرنا موجودہ ملکی حکومت کی اخراجات کم کرنے اور سادگی اختیار کرنے کی دعوے دار پالیسی کے سراسر خلاف ہے، شہریوں اور مختلف عوامی تنظیموں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاشی انصاف کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا تو حکومت کو بلاتفریق تمام غریب پاکستانی شہریوں کے لیے بھی کم از کم ۶۰ ہزار روپے کے برابر ماہانہ خصوصی الاؤنس ادا کرنے کا فوری عدالتی حکم جاری کریں یا پھر ملک کی اعلیٰ ترین سیکیورٹی و حکومتی شخصیات سے لے کر نچلے درجے تک کے تمام سرکاری ملازمین کی ایسی تمام غیر ضروری پٹرول، گیس اور بجلی کی مراعات کو اس وقت تک کے لیے مکمل طور پر معطل اور ختم کیا جائے جب تک ملک موجودہ سنگین معاشی بحران اور بیرونی قرضوں کے چنگل سے مستقل طور پر باہر نہیں آجاتا کیونکہ اشرافیہ کو بھاری مراعات دینا غریب عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔