عدم پھیلاؤ سے متعلق سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں سفیر عاصم افتخار احمد کا بڑا بیان، مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور نئے تناؤ پر گہری تشویش کا اظہار، تہران اور واشنگٹن کے درمیان چار دہائیوں بعد اعلیٰ ترین سطح کے براہِ راست ”اسلام آباد مذاکرات“ کا انکشاف، پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین کو تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کرنے کی مخلصانہ اپیل

Spread the love

محمود احمد june 10,2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ اور 1737 کمیٹی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے میں جاری نازک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو نئے سرے سے شروع ہونے والی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے شدید تناؤ سے عبارت ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ گزشتہ چند روز کے واقعات نے واضح طور پر اس صورتحال کی سنگینی، مزید عسکری کشیدگی کے خطرات اور اس امر کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ سفارتی کوششیں جلد از جلد نتیجہ خیز ثابت ہوں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تشدد میں اضافہ اس حقیقت کی ایک واضح یاد دہانی ہے کہ کمزور اور غیر مستحکم جنگ بندی کس قدر سنگین خطرات اور ناقابلِ برداشت نتائج کو جنم دے سکتی ہے، پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ علاقائی اور بین الاقوامی امن، سلامتی اور خوشحالی کے مفاد میں تشدد اور عدم استحکام کے اس جاری سلسلے کا خاتمہ اب ناگزیر ہو چکا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ سفارت کاری کے تعطل اور دشمنی کے آغاز نے ایرانی جوہری معاملے پر جاری غور و خوض کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں اس پیچیدہ مسئلے پر فریقین کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اہم تصدیقی مینڈیٹ میں بھی خلل پیدا ہوا ہے، انہوں نے تمام تصفیہ طلب مسائل بشمول ایرانی جوہری معاملے کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ سفارتی روابط اور مسلسل مکالمہ ہی ایسے بنیادی اصول ہونے چاہییں جن کی رہنمائی میں تمام متنازع امور کا باہمی مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جائے اور یہ عمل متعلقہ فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے، سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے سامنے یہ اہم انکشاف کیا کہ پاکستان نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بڑی سفارتی کوششوں کا آغاز کیا ہے اور ہم کشیدگی میں کمی، جنگ بندی کے قیام اور خطے میں وسیع تر استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری سفارتی روابط جاری رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے دونوں فریقوں کی جانب سے پاکستان پر بھرپور اعتماد کے اظہار کو سراہا جنہوں نے جنگ بندی کے حصول کے لیے مذاکرات میں شرکت کی اور ”اسلام آباد مذاکرات“ کا حصہ بنے جو کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے میں اعلیٰ ترین سطح کا پہلا براہِ راست رابطہ اور تاریخی مکالمہ تھا، پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ قیادت کی سطح پر مسلسل روابط کے ذریعے نیز خطے اور اس سے باہر موجود اپنے دیگر اہم شراکت داروں بالخصوص سعودی عرب، مصر، ترکیہ، قطر اور چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے اسلام آباد نے ہمیشہ مکالمے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول اور ضروری مواقع پیدا کرنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے، عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کا واحد مقصد دشمنی کی شدت کو کم کرنا، معصوم انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا اور سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے کیونکہ ہمارا یہ طرزِ عمل علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا مظہر ہے جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان جغرافیائی و سیاسی چیلنجز سے نمٹنے اور پیچیدہ تنازعات کے حل کے لیے اصولی، مکالمہ پر مبنی اور تعمیری سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ جب ہم اپنے دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پُرامن اور سفارتی حل کی تلاش کے لیے خلوصِ نیت اور انتھک محنت سے کوشاں ہیں اور بالخصوص جب حتمی مقصد کے حصول کا مرحلہ قریب دکھائی دے رہا ہے تو ہم تمام فریقوں سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کریں اور امن کو مزید ایک موقع دیں، لہذا آئیے ہم سب امن اور سفارت کاری کے راستے پر گامزن رہیں کیونکہ اسی راستے میں کامیابی کے روشن امکانات موجود ہیں اور یہی وہ واحد امید ہے جس سے بین الاقوامی برادری وابستہ ہے۔