مشرقِ وسطیٰ کے نازک حالات پر سلامتی کونسل میں پاکستان کا بڑا بیان، سفیر عاصم افتخار احمد کا کثیرالجہتی سفارت کاری، ثالثی اور فوری جنگ بندی پر زور، غزہ میں تین برس سے جاری اسرائیلی جارحیت اور تباہی پر شدید تشویش، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششیں تاحال جاری رکھنے کا اعلان

محمود احمد june 11,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —11جون 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی حل کے فروغ اور ثالثی کے موضوع پر منعقدہ کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے کی صورتحال کو نہایت نازک اور مسلسل غیر یقینی قرار دیا ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ پورے خطے میں حل طلب تنازعات طویل المدتی کشمکش کی صورت اختیار کر چکے ہیں جبکہ تشدد کے مسلسل ادوار اب معمول بنتے جا رہے ہیں کیونکہ بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد میں ناکامی اور حقیقی سیاسی عمل کے فقدان نے پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے حصول کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایسے نازک مرحلے پر سیاسی حل کے فروغ اور پیش رفت کو یقینی بنانا اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کیونکہ عرب اسرائیل تنازع سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین اور اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے، انہوں نے زمینی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں تقریباً تین برس سے جاری تباہ کن جنگ اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں انسانی المیہ انتہائی ہولناک صورت اختیار کر چکا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی مربوط سفارتی کاوشوں اور پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے گروپ کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر دو ہزار آٹھ سو تین وجود میں آئے تھے، تاہم جنگ بندی کے باوجود فلسطینیوں کے خلاف خلاف ورزیاں اور ہلاکتیں بدستور جاری ہیں جبکہ دوسری جانب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے غیر قانونی پھیلاؤ اور یکطرفہ اقدامات پر مبنی ایک منظم پالیسی دو ریاستی حل کے امکانات کو مسلسل کمزور کر رہی ہے، پاکستانی سفیر نے لبنان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق فریم ورک اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر سترہ سو ایک کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں اور اسرائیل کی بے دریغ بمباری کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں جبکہ جنوبی لبنان پر غیر قانونی قبضے کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے، اس کے علاوہ شام اپنی نئی قیادت اور جرات مندانہ سیاسی فیصلوں کے ذریعے بتدریج استحکام کی جانب پیش رفت کی کوشش کر رہا ہے تاہم اسے اب بھی اپنے جنوبی علاقوں میں جاری قبضے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ یمن کی صورتحال بھی عالمی برادری کی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع اور یمنی قیادت پر مبنی سیاسی عمل ہی وہاں پائیدار امن قائم کر سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان مغربی ایشیا اور وسیع تر خلیجی خطے میں حالیہ پیش رفت کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ اس جنگ کے علاقائی اور عالمی امن سمیت بین الاقوامی معیشت بالخصوص توانائی اور غذائی تحفظ پر مرتب ہونے والے اثرات بالکل واضح ہیں، انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ بندی کے حصول اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پاکستان نے ترکیہ، مصر، سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں بالخصوص قطر اور چین کے ساتھ مل کر بھرپور سفارتی اور ثالثی کوششیں کیں اور ہماری فوری ترجیح سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنا، مکمل جنگ بندی کو یقینی بنانا اور آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتحال کی بحالی ہونی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ان مشکل حالات میں پاکستان نے خلیج تعاون کونسل کے برادر رکن ممالک کے ساتھ اپنی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کونسل کے سامنے پاکستان کے اصولی موقف کو پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازعات کی بنیادی وجوہات کا مؤثر اور منصفانہ حل تلاش نہ کیا جائے کیونکہ مسئلۂ فلسطین خطے میں دیرپا امن کے قیام کی تمام کوششوں کا مرکزی محور ہے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی بنیاد پر ایک وقت کے تعین کے ساتھ ناقابلِ واپسی سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جانا چاہیے جو انیس سو سڑسٹھ سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، عاصم افتخار احمد نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان کی امن کے لیے طویل المدتی وابستگی عملی اقدامات کی صورت میں عیاں ہے اور پاکستان غزہ امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مسلسل سرگرم عمل ہے جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ کے لیے ثالثی اور سہولت کاری کی مخلصانہ کوششوں میں بھی معاونت کر رہا ہے اور یہ سفارتی کوششیں آج بھی پوری تندہی سے جاری ہیں، انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں کونسل پر زور دیا کہ آج مشرقِ وسطیٰ کو امن کی جتنی ضرورت ہے اتنی ہی ضرورت باقی دنیا کو بھی ہے اس لیے سفارت کاری کو محاذ آرائی پر، مکالمے کو تقسیم پر اور بین الاقوامی قانون کو وقتی مفادات پر ہر صورت ترجیح دی جائے کیونکہ یہی دیرپا امن کا واحد راستہ ہے۔

عدم پھیلاؤ سے متعلق سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں سفیر عاصم افتخار احمد کا بڑا بیان، مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور نئے تناؤ پر گہری تشویش کا اظہار، تہران اور واشنگٹن کے درمیان چار دہائیوں بعد اعلیٰ ترین سطح کے براہِ راست ”اسلام آباد مذاکرات“ کا انکشاف، پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین کو تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کرنے کی مخلصانہ اپیل

محمود احمد june 10,2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ اور 1737 کمیٹی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے میں جاری نازک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو نئے سرے سے شروع ہونے والی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے شدید تناؤ سے عبارت ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ گزشتہ چند روز کے واقعات نے واضح طور پر اس صورتحال کی سنگینی، مزید عسکری کشیدگی کے خطرات اور اس امر کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ سفارتی کوششیں جلد از جلد نتیجہ خیز ثابت ہوں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تشدد میں اضافہ اس حقیقت کی ایک واضح یاد دہانی ہے کہ کمزور اور غیر مستحکم جنگ بندی کس قدر سنگین خطرات اور ناقابلِ برداشت نتائج کو جنم دے سکتی ہے، پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ علاقائی اور بین الاقوامی امن، سلامتی اور خوشحالی کے مفاد میں تشدد اور عدم استحکام کے اس جاری سلسلے کا خاتمہ اب ناگزیر ہو چکا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ سفارت کاری کے تعطل اور دشمنی کے آغاز نے ایرانی جوہری معاملے پر جاری غور و خوض کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں اس پیچیدہ مسئلے پر فریقین کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اہم تصدیقی مینڈیٹ میں بھی خلل پیدا ہوا ہے، انہوں نے تمام تصفیہ طلب مسائل بشمول ایرانی جوہری معاملے کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ سفارتی روابط اور مسلسل مکالمہ ہی ایسے بنیادی اصول ہونے چاہییں جن کی رہنمائی میں تمام متنازع امور کا باہمی مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جائے اور یہ عمل متعلقہ فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے، سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے سامنے یہ اہم انکشاف کیا کہ پاکستان نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بڑی سفارتی کوششوں کا آغاز کیا ہے اور ہم کشیدگی میں کمی، جنگ بندی کے قیام اور خطے میں وسیع تر استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری سفارتی روابط جاری رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے دونوں فریقوں کی جانب سے پاکستان پر بھرپور اعتماد کے اظہار کو سراہا جنہوں نے جنگ بندی کے حصول کے لیے مذاکرات میں شرکت کی اور ”اسلام آباد مذاکرات“ کا حصہ بنے جو کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے میں اعلیٰ ترین سطح کا پہلا براہِ راست رابطہ اور تاریخی مکالمہ تھا، پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ قیادت کی سطح پر مسلسل روابط کے ذریعے نیز خطے اور اس سے باہر موجود اپنے دیگر اہم شراکت داروں بالخصوص سعودی عرب، مصر، ترکیہ، قطر اور چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے اسلام آباد نے ہمیشہ مکالمے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول اور ضروری مواقع پیدا کرنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے، عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کا واحد مقصد دشمنی کی شدت کو کم کرنا، معصوم انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا اور سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے کیونکہ ہمارا یہ طرزِ عمل علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا مظہر ہے جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان جغرافیائی و سیاسی چیلنجز سے نمٹنے اور پیچیدہ تنازعات کے حل کے لیے اصولی، مکالمہ پر مبنی اور تعمیری سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ جب ہم اپنے دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پُرامن اور سفارتی حل کی تلاش کے لیے خلوصِ نیت اور انتھک محنت سے کوشاں ہیں اور بالخصوص جب حتمی مقصد کے حصول کا مرحلہ قریب دکھائی دے رہا ہے تو ہم تمام فریقوں سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کریں اور امن کو مزید ایک موقع دیں، لہذا آئیے ہم سب امن اور سفارت کاری کے راستے پر گامزن رہیں کیونکہ اسی راستے میں کامیابی کے روشن امکانات موجود ہیں اور یہی وہ واحد امید ہے جس سے بین الاقوامی برادری وابستہ ہے۔