مصنوعی ذہانت کو اخلاقی اصولوں اور مضبوط گورننس کے ساتھ قومی ترقی کے نظام میں شامل کیا جائے، ماہرین کا زور

Spread the love

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

ممتاز تعلیمی و صنعتی ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو محض انفرادی سہولت یا پیداواری صلاحیت بڑھانے والے روایتی آلے کے طور پر نہیں بلکہ واضح اخلاقی اصولوں، مضبوط گورننس اور اعلیٰ ادارہ جاتی تیاری کے ساتھ قومی ترقی کے مجموعی نظام میں شامل کیا جانا چاہئے۔ اگر حکومتیں، جامعات، صنعتیں اور تجارتی ادارے اے آئی کو ذمہ دارانہ انداز میں اپنے انتظامی اور فیصلہ سازی کے ڈھانچے کا حصہ بنائیں تو یہ پائیدار معاشی ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی، اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق میں نمایاں اور تزویراتی تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی گورننس پر مبنی تین اہم کتابوں کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ تقریب میں ملک بھر سے نامور ماہرین، اساتذہ، محققین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اپنے استقبالیہ کلمات میں ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ اظہر ضیاء الرحمٰن عالمی سطح پر ممتاز محقق، مشیر اور مینجمنٹ سسٹمز کے ماہر کے طور پر ایک مستند اور مقتدر آواز بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس حساس موضوع پر اعلیٰ معیار کی کتابیں تصنیف کی ہیں اور دنیا بھر میں حکومتوں اور مقتدر اداروں کو چوتھے صنعتی انقلاب اور مصنوعی ذہانت کو موثر انداز میں اپنانے کے لیے تزویراتی رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال پوری ذمہ داری اور اخلاقی اصولوں کے مطابق کریں۔ تقریب کا آغاز کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی حقیقی صلاحیت اسی وقت سامنے آئے گی جب ریاستی و نجی ادارے اپنی استعداد میں اضافہ کر کے اسے اپنے انتظامی نظام میں شامل کریں گے، اور جامعات کو اس کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں نوجوانوں کی فوری رہنمائی کرنی چاہیے۔

اپنی تصنیف کردہ کتابوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے نامور مصنف اظہر ضیاء الرحمٰن نے بتایا کہ ٹیکنالوجی گورننس کے شعبے میں ان کا سفر تقریباً دس برس قبل اس تصور پر دنیا کی پہلی کتاب تحریر کرنے سے شروع ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نئی کتابیں اداروں کو تمام جدید ٹیکنالوجیز کی منظم اور آسان انداز میں نگرانی اور نظم و نسق کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ یورپی یونین کے ‘اے آئی ایکٹ’ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لیے اخلاقی اصولوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ سولوڈ انجینئرنگ ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی نے کتاب میں یونیورسٹی گورننس اور تدریسی نظام کے حوالے سے پیش کیے گئے نکات کو نہایت مفید قرار دیا اور خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی کامیابی کا تمام تر انحصار معیاری ڈیٹا اور موثر ڈیٹا گورننس پر ہے۔ تقریب کے اختتام پر ایس ڈی پی آئی میں ماحولیاتی پائیداری کی سربراہ زینب نعیم نے مصنف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی حتمی قیادت ہمیشہ انسان کے ہی ہاتھ میں رہنی چاہئے۔