

محمود احمد june 19,2026
روم/واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء
فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے سائیڈ لائنز پر شروع ہونے والا تنازع اب ایک ہولناک بین الاقوامی سفارتی بحران میں تبدیل ہو گیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زہریلے اور توہین آمیز بیانات کے خلاف اٹلی کی قیادت نے انتہائی کڑا اور مقتدر رخ اختیار کر لیا ہے، روم سے جاری ہونے والی بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سرِعام “جھوٹا، من گھڑت اور خود ساختہ” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ جارجیا میلونی ان کے ساتھ تصویر کھچوانے کے لیے منت سماجت کر رہی تھیں، اطالوی وزیرِ اعظم نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں تہران نما عزم کے ساتھ واضح کیا کہ ”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہر صورت یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جارجیا میلونی اور ملک اٹلی دنیا میں کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔“
اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کا مزید کہنا تھا کہ سپر پاور کے صدر کا یہ اڑیل بیان سراسر خود ساختہ کہانی پر مبنی ہے اور اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے پوری اطالوی حکومت کو شدید مایوسی ہوئی ہے، انہوں نے کڑی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ امریکی صدر اپنے دیرینہ اور مخلص یورپی اتحادیوں کے ساتھ اس طرح کا تضحیک آمیز برتاؤ آخر کیوں کرتے ہیں؟“ واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب جی 7 سربراہی اجلاس کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مقتدر انٹرویو کے دوران سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ”اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی میرے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے مسلسل منتیں اور سماجت کر رہی تھیں، جس پر مجھے ان کی حالت دیکھ کر ترس آگیا اور میں نے فوٹو بنوا لی۔“
ٹرمپ کے اس انتہائی توہین آمیز اور تکبر سے بھرپور بیان پر پورے اٹلی میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، جس پر ہنگامی سفارتی ایکشن لیتے ہوئے اٹلی کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے امریکی صدر کے رویے کے خلاف سخت ترین احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اپنا دورۂ امریکہ یکسر منسوخ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے واشنگٹن کو کڑا پیغام بھیجتے ہوئے کہا کہ ”صدر ٹرمپ کی جانب سے ہماری وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کے خلاف استعمال کیے گئے گھٹیا اور توہین آمیز الفاظ سے پورے اطالوی عوام اور ریاست کے وقار کو شدید ٹھیس پہنچی ہے، اس توہین کے بعد میں کسی صورت واشنگٹن نہیں جا سکتا،“ انہوں نے مطلع کیا کہ اسی احتجاجی فیصلے کے تحت وہ 21 اور 22 جون کو ہونے والا اپنا اہم ترین طے شدہ سرکاری دورۂ امریکہ منسوخ کر رہے ہیں، سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد صدر ٹرمپ کا یورپی اتحادیوں کے ساتھ یہ نیا محاذ واشنگٹن کو عالمی سیاست میں مزید تنہا کر سکتا ہے۔