

محمود احمد june 19,2026
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اس وقت دنیا کے دو سب سے زیادہ مضبوط اور بااثر ترین عالمی رہنما قرار دے دیا ہے، واشنگٹن سے جاری بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس سے واپسی پر دیے گئے ایک انتہائی مقتدر اور سنسنی خیز انٹرویو میں امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ ان عالمی لیڈرز کی فہرست میں سرفہرست ہیں جنہیں وہ ذاتی طور پر سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کی نفسیات کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ کو “مکمل طور پر ایک کاروباری اور نفع نقصان دیکھنے والی شخصیت” جبکہ بھارتی وزیرِ اعظم مودی کو “ایک حد سے زیادہ سخت، پختہ اور ضدی انسان” قرار دیا۔
امریکی صدر نے فرانس میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس وقت ایک نیا پینڈورا باکس اور بحث چھیڑ دی جب انہوں نے تجارتی مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ایک ہی سانس میں ‘فرشتہ’ اور ‘قاتل’ قرار دے دیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا کڑے الفاظ میں کہنا تھا کہ ”نریندر مودی دنیا کے سخت ترین اور مشکل ترین مذاکرات کاروں میں سے ایک ہیں، وہ دیکھنے میں بہت خوبصورت، دھیمے اور معصوم نظر آتے ہیں، بالکل ایک فرشتے کی طرح، لیکن جب بات اپنے ملکی مفاد اور تجارت کی ہو تو حقیقت میں وہ انتہائی سخت، ایک بے رحم قاتل کی طرح سودے بازی کرتے ہیں اور رتی برابر بھی گنجائش نہیں دیتے۔“ انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے کسی بھی ایسے عالمی رہنما کا نام لینے سے صاف گریز کیا جسے وہ سیاسی یا سٹرٹیجک طور پر کمزور سمجھتے ہوں۔
انٹرویو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اور سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ حالیہ بین الاقوامی واقعات، بشمول ایران کے ساتھ ہونے والی شدید فوجی و سفارتی محاذ آرائی اور اس کے بعد طے پانے والے تاریخی امن معاہدے نے ان کے اس یقین کو فولادی بنا دیا ہے کہ امریکی صدارتی اختیارات کی کوئی طے شدہ “حدود” نہیں ہیں اور ایک امریکی صدر دنیا کا نقشہ بدلنے کی طاقت رکھتا ہے، مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ مقتدر بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ حالیہ کامیابی کے بعد خود کو عالمی سیاست کا سب سے طاقتور محور قرار دے رہے ہیں جبکہ چین اور بھارت کے ساتھ مستقبل میں سخت تجارتی معرکوں کی تیاری کا اشارہ بھی دے رہے ہیں۔