

کاشف عباسی ,May 25 ,2026
بیجنگ / ہانگژو/نیوز اینڈ نیوز
وزیراعظم شہباز شریف چین کے اہم اقتصادی شہر ہانگژو میں مصروف سفارتی اور تجارتی سرگرمیوں کے بعد اتوار کو بیجنگ پہنچ گئے، جہاں وہ چینی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورۂ بیجنگ کے دوران چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری، سی پیک فیز ٹو، تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ہانگژو میں وزیراعظم نے تیسری پاکستان۔چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا، جس میں الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر، بیٹری انرجی اسٹوریج، سولر ٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
تقریب کے دوران پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کا مقصد مختلف صنعتی اور تجارتی شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں صنعتیں منتقل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کو “ریڈ کارپٹ” خوش آمدید کہا جائے گا اور انہیں انتہائی پرکشش شرائط پر طویل المدتی لیز پر زمین فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کے لیے چار اہم شعبوں — زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خصوصی اقتصادی زونز اور معدنیات — کو مستقبل کی ترجیحات قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین ہر سال تقریباً 100 ارب ڈالر مالیت کی زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے، تاہم اس میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چینی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے آئندہ پانچ سے سات برسوں میں پاکستان اپنی زرعی برآمدات 10 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے۔
انہوں نے کراچی کے خصوصی اقتصادی زون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 6 ہزار ایکڑ پر مشتمل یہ زون چینی سرمایہ کاروں کے لیے غیرمعمولی مواقع فراہم کرتا ہے۔ وزیراعظم نے چینی صنعتکاروں کو کراچی آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے بہترین امکانات رکھتا ہے۔
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے معروف چینی کمپنی علی بابا گروپ کی قیادت سے بھی ملاقات کی، جس میں ای کامرس، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون سے متعلق متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چینی سرمایہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان کاروبار کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے” اور حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ پاک چین اقتصادی تعاون کے نئے مرحلے کی بنیاد بن سکتا ہے، جس سے پاکستان میں صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔