وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نئے مالی سال کے لیے ۳.۵۶۲ کھرب روپے کا شاندار صوبائی بجٹ پیش کر دیا، سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ۷ فیصد کا بڑا اضافہ، محنت کشوں کی کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر ۴۳ ہزار روپے مقرر، مشکل معاشی حالات کے باوجود صوبے کے عوام اور تاجر برادری پر کوئی بھی نیا ٹیکس عائد نہ کرنے کا تاریخی اعلان، ایڈہاک ریلیف الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم

Spread the love

محمود احمد june 17,2026

کراچی (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے خصوصی اور ہنگامی اجلاس میں نئے مالی سال کا سالانہ بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، ریٹائرڈ افراد کی پنشن اور غریب مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت میں نمایاں اضافے سمیت عوامی و کاروباری طبقے کے لیے انتہائی اہم اور انقلابی ریلیف اعلانات کیے گئے ہیں، کراچی سے حاصل ہونے والی صوبائی بجٹ کی تفصیلی دستاویزات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے پروقار بجٹ اجلاس میں مالی سال 2026/2027ء کے لیے صوبے کا کل بجٹ پیش کیا، بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ نے صوبے کے عوام، سرکاری ملازمین اور تاجر برادری کے لیے بڑے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے صوبائی معیشت اور ٹیکسوں کے حوالے سے اپنی حکومت کی عوام دوست پالیسی کو بالکل واضح کر دیا، معلوم ہوا ہے کہ نئے مالی سال کے لیے سندھ کے کل بجٹ کا مجموعی حجم ۳.۵۶۲ کھرب روپے فکس رکھا گیا ہے جبکہ صوبے کے غریب عوام اور کاروباری طبقے کے لیے اس نئے بجٹ میں کسی بھی قسم کا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جو کہ ایک بہت بڑی سفارتی و معاشی کامیابی ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہماری حکومت مشکل ترین ملکی معاشی حالات میں بھی عوام اور تاجر برادری کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔

صوبائی حکومت نے مہنگائی کے اس دور میں سندھ کے سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کی بڑی دلی مراد پوری کرتے ہوئے صوبے کے تمام سرکاری ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ۷ فیصد یکمشت اضافے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، اس کے ساتھ ہی ملازمین کی بنیادی تنخواہوں کے ڈھانچے اور اسٹرکچر کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کے لیے پرانے ایڈہاک ریلیف الاؤنس ۲۰۲۲ء اور ایڈہاک ریلیف الاؤنس ۲۰۲۵ء کو ہمیشہ کے لیے بنیادی تنخواہ (بیسک پے) کے اندر ہی ضم کرنے کا بھی ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے جس سے سرکاری ملازمین کو الاؤنسز کی مد میں مزید مالی فائدہ حاصل ہو گا، اس کے علاوہ صوبے کے غریب دیہاڑی دار اور نجی شعبے کے مزدور طبقے کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ سندھ بھر میں کسی بھی مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت کو اب ۴۰ ہزار روپے سے بڑھا کر ۴۳ ہزار روپے مقرر کر دیا گیا ہے، جس پر صوبے کے تمام نجی کارخانوں، فیکٹریوں اور سرکاری اداروں کو سختی سے عمل کرنا ہوگا اور خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہو گی، سندھ اسمبلی میں یہ بھاری بجٹ پیش کیے جانے کے بعد اب اس پر اپوزیشن اور حکومتی اراکینِ اسمبلی کی جانب سے تفصیلی بحث اور شق وار منظوری کا باقاعدہ عمل شروع کیا جائے گا۔