

منصور احمد,October06,2026
ڈیرہ اسماعیل خان (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اکتوبر 2026ء
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک گھنٹے کے اندر نامعلوم مسلح افراد کے دو مختلف حملوں میں پانچ اہلکار ہلاک اور ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔ پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق پہلا واقعہ بائی پاس روڈ کے قریب پیش آیا جہاں ہائی وے ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈرائیور کانسٹیبل حبیب موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ ہیڈ کانسٹیبل سبحان زخمی ہوئے۔ زخمی اہلکار کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسرا حملہ تقریباً ساڑھے 11 بجے قریشی موڑ کے قریب پیش آیا، جہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے متعلق اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے۔ ضلعی پولیس افسر ضیاء الدین کے مطابق حملے میں ایف بی آر کے دو مستقل اہلکار نشانہ بنے جبکہ ان کے ساتھ دو نجی ملازمین بھی موجود تھے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی معلومات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایف بی آر اہلکاروں کے ساتھ معاونت کے لیے موجود دونوں افراد ممکنہ طور پر کنٹریکٹ پر کام کرتے تھے۔ تاہم ان کی ملازمت کی نوعیت اور حملے کی مکمل تفصیلات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کے مطابق کنٹرول روم کو بھٹی پمپ، یونیورسٹی روڈ کے قریب کسٹمز پولیس پر فائرنگ اور حملے کی اطلاع موصول ہوئی۔ ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ سے چار افراد کی لاشیں تحویل میں لے کر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیں۔
حکام نے دونوں واقعات کے شواہد جمع کرنا شروع کردیئے ہیں اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر تلاش جاری ہے۔ تاحال کسی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنانے کے واقعات
ڈیرہ اسماعیل خان میں رواں سال پولیس، کسٹمز، ایف بی آر اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں پر متعدد حملے رپورٹ ہوچکے ہیں۔
14 جنوری کو کھتی پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار زخمی ہوا، جبکہ 3 فروری کو پروآ تھانے پر حملے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ 11 فروری کو پنیالہ کے علاقے وانڈہ بدھ میں پولیس ٹیم پر حملے میں پانچ اہلکار ہلاک جبکہ ڈی ایس پی سمیت ایک اہلکار زخمی ہوا۔
18 فروری کو یارک پولیس اسٹیشن اور قریبی کسٹمز دفتر کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک پولیس کانسٹیبل اور ایک کسٹمز اہلکار ہلاک ہوئے۔ 14 مارچ کو کھتی پولیس چیک پوسٹ پر دوبارہ حملہ ہوا جس میں ایک کانسٹیبل زخمی ہوا، جبکہ 24 اپریل کو درابن پولیس اسٹیشن پر راکٹ لانچروں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
19 مئی کو یارک پولیس اسٹیشن کے باہر فائرنگ میں پولیس کانسٹیبل عبدالعزیز ہلاک ہوئے۔ 31 جولائی کو چودھوان کے شاہ عالم موڑ کے قریب پولیس پارٹی پر حملے میں اے ایس آئی فقیر محمد اور ہیڈ کانسٹیبل وزیر خان ہلاک ہوئے۔
25 اگست کو درازندہ کے ڈوگ شپیلہ پولیس پوسٹ پر حملے میں تین پولیس اہلکار اور دو راہگیر زخمی ہوئے، جبکہ 28 اور 29 اگست کو امین فارم کے علاقے میں پولیس گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعات میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
26 ستمبر کو درازندہ کے امان میلہ میں پولیس، کسٹمز اور ایکسائز کی مشترکہ چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا تھا۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 12 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں دو کسٹمز اہلکار بھی شامل تھے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
تازہ دونوں حملوں میں ہلاکتوں اور زخمی ہونے سے متعلق معلومات پولیس اور ریسکیو حکام کے ابتدائی بیانات پر مبنی ہیں۔ حملہ آوروں کی شناخت اور کسی تنظیم کی جانب سے ذمہ داری قبول کیے جانے کی ابھی اطلاع نہیں ملی، اس لیے خبر میں کسی گروہ کو حملوں کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔
ماخذ: ڈیرہ اسماعیل خان پولیس، ریسکیو 1122، فراہم کردہ رپورٹ