Latest news

اسرائیلی انتخابات: 70 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل، کوئی اتحاد اکثریت حاصل نہ کر سکا

Spread the love

محمود احمد, October28,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء

اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق عام انتخابات میں 70 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے، تاہم اب تک کوئی بھی سیاسی اتحاد 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔ تازہ جزوی نتائج کے مطابق وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اتحاد کے پاس 54 نشستیں ہیں، جبکہ گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو 47 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔ عرب جماعتوں کی مجموعی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 19 ہو گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ انتخابی مقابلہ اب بھی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ نیتن یاہو کا اتحاد نشستوں کے لحاظ سے اپوزیشن اتحاد سے آگے ہے، لیکن اسے حکومت بنانے کے لیے مزید سات نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کو اکثریت تک پہنچنے کے لیے مزید 14 نشستوں کی ضرورت ہے۔ اس صورتِ حال میں عرب جماعتوں اور دیگر چھوٹے سیاسی گروپوں کا مؤقف حکومت سازی کے عمل میں اہم ہو سکتا ہے۔

نیتن یاہو کا اتحاد 54 نشستوں پر

جزوی نتائج کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود اور اس کے دائیں بازو اور مذہبی اتحادیوں پر مشتمل بلاک کو مجموعی طور پر 54 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد کسی بھی دوسرے بڑے بلاک کے مقابلے میں زیادہ ہے، لیکن کنیسٹ میں واضح اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں سے کم ہے۔

نیتن یاہو کے اتحاد کو اب حکومت تشکیل دینے کے لیے اضافی پارلیمانی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات، ممکنہ اتحادی معاہدے اور حکومتی ترجیحات پر اتفاق اہم ہو سکتا ہے۔ اگر مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہوئی تو سب سے زیادہ نشستیں رکھنے کے باوجود حکومت بنانا ممکن نہیں ہوگا۔

اپوزیشن اتحاد کو 47 نشستیں

سابق آرمی چیف گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کے حصے میں تازہ جزوی نتائج کے مطابق 47 نشستیں آئی ہیں، جو اس کے سابقہ تخمینے سے دو نشستیں کم ہیں۔ اپوزیشن اتحاد کو بھی حکومت بنانے کے لیے مزید حمایت درکار ہوگی۔

آئزنکوٹ اور ان کے اتحادیوں کے لیے اہم چیلنج یہ ہوگا کہ وہ مختلف سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکومتی پروگرام پر متفق کریں اور کنیسٹ میں اکثریت قائم کرنے کے لیے ضروری حمایت حاصل کریں۔ اپوزیشن کے لیے صرف نیتن یاہو کے اتحاد سے اختلاف کافی نہیں؛ اسے حکومت چلانے کے لیے عملی پارلیمانی اکثریت بھی درکار ہوگی۔

عرب جماعتوں کی 19 نشستیں اہم ہو گئیں

تازہ جزوی نتائج میں عرب جماعتوں کی مجموعی نشستیں بڑھ کر 19 ہو گئی ہیں۔ اس تعداد کے باعث ان جماعتوں کی پارلیمانی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ دونوں بڑے سیاسی اتحاد اپنی موجودہ نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل نہیں کر سکے۔

اگر عرب جماعتیں کسی ایک سیاسی بلاک کی حمایت کرتی ہیں تو اس سے حکومت سازی کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ وہ کس اتحاد کی حمایت کریں گی، آیا وہ حکومت میں شامل ہونے پر آمادہ ہوں گی یا پارلیمان میں باہر سے حمایت دینے کا راستہ اختیار کریں گی۔

سیاسی مذاکرات میں ان جماعتوں کا مؤقف ان کی شرائط، پالیسی ترجیحات اور دیگر جماعتوں کے ساتھ ممکنہ سمجھوتوں پر منحصر ہوگا۔ اس لیے انہیں فوری طور پر کسی ایک اتحاد کا حتمی اتحادی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے

مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق 70 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے، لیکن نتائج حتمی نہیں ہیں۔ مزید ووٹوں کی گنتی کے ساتھ مختلف جماعتوں کی نشستوں میں تبدیلی آ سکتی ہے، خصوصاً ایسے انتخاب میں جہاں بڑے سیاسی بلاکس کے درمیان اکثریت کا فرق اہم ہے۔

حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد اسرائیلی صدر مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے پاس پارلیمانی حمایت حاصل کرنے کے بہتر امکانات ہوں گے۔ اس عمل میں اتحادی مذاکرات اور سیاسی معاہدوں کو کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

اگر کوئی بھی سیاسی بلاک مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو حکومت سازی کا عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ مسلسل ناکامی کی صورت میں اسرائیل میں نئے انتخابات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہوگا۔

موجودہ مرحلے پر بنیادی صورتِ حال یہ ہے کہ نیتن یاہو کے اتحاد کو 54، اپوزیشن اتحاد کو 47 اور عرب جماعتوں کو 19 نشستیں ملنے کا تخمینہ ہے۔ ان اعداد و شمار کی حتمی تصدیق اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات ہی طے کریں گے کہ اسرائیل کی اگلی حکومت کس کی قیادت میں قائم ہوگی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر فراہم کردہ جزوی انتخابی اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک نشستوں کی تعداد تبدیل ہو سکتی ہے، جبکہ عرب جماعتوں کی ممکنہ حمایت کو کسی اتحاد کی حتمی کامیابی نہیں سمجھنا چاہیے۔

ماخذ: اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی، فراہم کردہ جزوی انتخابی نتائج