Latest news

ایران کا قطر کو پیغام: ثالثی کی ذمہ داریاں پوری کریں، عوامی بیانات میں احتیاط برتیں

Spread the love

روزینہ اسماعیل,October28,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے قطر پر زور دیا ہے کہ وہ علاقائی معاملات میں ثالثی کے کردار سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور عوامی بیانات دیتے وقت زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کرے۔ یہ بیان ایران اور قطر کے درمیان علاقائی سلامتی، غیر ملکی فوجی موجودگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاملے پر سامنے آنے والے اختلافات کے تناظر میں دیا گیا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، وزارتِ خارجہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ محمود مالکی نے قطری وزارتِ خارجہ کے شعبۂ مواصلات کے ڈائریکٹر ابراہیم الہاشمی کے حالیہ بیان پر ردِعمل ظاہر کیا۔ قطری عہدیدار نے کہا تھا کہ قطر اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک متعدد مرتبہ علاقائی سلامتی کے ایک مشترکہ فریم ورک کے قیام کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق اب ایران کو اپنے بیانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرتے ہوئے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی چاہیے۔

قطری مؤقف کے مطابق علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ایران ہمسایہ ممالک کو دھمکیاں دینے سے گریز کرے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اس آبی گزرگاہ کی اہمیت عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے غیر معمولی ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ایران کا مؤقف: باہمی خیرسگالی ضروری ہے

محمود مالکی نے جواب میں کہا کہ تہران قطر سمیت تمام ممالک سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں اور طرزِ عمل میں باہمی خیرسگالی کا مظاہرہ کریں۔ ان کے مطابق بعض اقدامات علاقائی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں، خصوصاً جب کسی ملک کی سرزمین یا فوجی تنصیبات ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہوں۔

ایرانی اہلکار نے اس نوعیت کے اقدامات سے گریز کرنے پر زور دیا اور کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد قائم رکھنے کے لیے ایک دوسرے کے تحفظات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی طاقتوں کو اپنی سرزمین یا تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دینا خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور قطر کے درمیان اختلافات صرف عوامی بیانات تک محدود نہیں، بلکہ ان میں علاقائی سلامتی، غیر ملکی فوجی موجودگی اور ریاستوں کی خودمختاری سے متعلق بنیادی معاملات بھی شامل ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے اور ثالثی کی کوششیں جاری رہنے کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔

قطر اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی کیسے بڑھی؟

ایران اور قطر کے تعلقات میں حالیہ مہینوں کے دوران اس وقت تناؤ بڑھا جب ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے جواب میں قطر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ تہران کا مؤقف تھا کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف قطر کی ریاست نہیں بلکہ وہاں موجود امریکی فوجی تنصیبات تھیں۔

دوسری جانب قطر نے ایسے اقدامات کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل ظاہر کیا تھا۔ دوحہ کے نزدیک کسی دوسرے ملک کی جانب سے قطری سرزمین پر فوجی کارروائی، خواہ اس کا ہدف غیر ملکی فوجی تنصیبات ہی کیوں نہ ہوں، ملکی سلامتی اور خودمختاری کے لیے سنگین معاملہ ہے۔

یہ اختلاف اس لیے بھی اہم ہے کہ قطر خطے میں سفارتی رابطوں اور تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات میں کشیدگی بڑھنے سے علاقائی سفارتی کوششوں اور باہمی اعتماد پر اثر پڑنے کا خدشہ موجود ہے۔

آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی کا معاملہ

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اس راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی کا معاملہ بین الاقوامی اہمیت رکھتا ہے۔

قطر اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر ممالک علاقائی سلامتی کے ایسے انتظامات پر زور دیتے ہیں جن کے تحت ہمسایہ ممالک کے درمیان تنازعات کو کم کیا جا سکے اور تجارتی بحری راستے محفوظ رہیں۔ ایران دوسری جانب غیر ملکی فوجی موجودگی اور اپنی سرزمین کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے علاقائی تنصیبات کے استعمال پر تحفظات ظاہر کرتا ہے۔

ان مختلف مؤقف کے باعث علاقائی سلامتی کے کسی مشترکہ فریم ورک پر اتفاق کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس کے لیے متعلقہ ممالک کے درمیان مسلسل مذاکرات، اعتماد سازی اور ایک دوسرے کے تحفظات کو دور کرنے کی ضرورت ہوگی۔

پاکستان اور قطر کا سفارتی کردار

قطر، پاکستان کے ساتھ، ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں اور سفارتی ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں تہران اور دوحہ کے درمیان مؤثر سفارتی رابطے برقرار رہنا علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے قطر کو ثالثی کی ذمہ داریوں اور عوامی بیانات میں احتیاط سے متعلق پیغام دینا دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم اس بیان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ سفارتی رابطے ختم ہو چکے ہیں یا ثالثی کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

آئندہ صورتِ حال کا انحصار دونوں ممالک کے عملی اقدامات، سفارتی رابطوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر ان کے مؤقف میں ممکنہ ہم آہنگی پر ہوگا۔ اگر تہران اور دوحہ اپنے اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ایران اور قطر کے درمیان بیانات کا یہ تبادلہ علاقائی سلامتی اور ثالثی کے کردار پر اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے مؤقف کو ان کے متعلقہ حکام سے منسوب کیا گیا ہے؛ کسی بھی فریق کے دعوے کو آزادانہ تصدیق کے بغیر حتمی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔

ماخذ: ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا، ایرانی وزارتِ خارجہ، قطری وزارتِ خارجہ، فراہم کردہ معلومات