

کاشف عباسی ,October11,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہو گیا ہے، جس میں خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
اجلاس کا مرکزی ایجنڈا صوبے کی سکیورٹی صورتحال بتایا گیا ہے۔ اس دوران خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے، صوبے میں ایمرجنسی لگانے یا مخصوص علاقوں تک ایمرجنسی محدود رکھنے کے امکانات زیرِ غور ہیں۔ تاہم، اجلاس کے آغاز تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گزشتہ پانچ برس کے دوران پیش آنے والے شدت پسندی کے واقعات سے متعلق ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں شامل تفصیلات اور اعداد و شمار کے بارے میں فراہم کردہ معلومات میں مزید وضاحت موجود نہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے زیرِ غور ممکنہ اقدامات صوبے کی امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ جیسے معاملات آئینی اور قانونی تقاضوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ کابینہ کے باضابطہ فیصلے اور سرکاری اعلان کے بعد ہی اخذ کیا جا سکے گا۔
فی الحال اجلاس میں غور و خوض جاری ہے اور یہ واضح نہیں کہ وفاقی کابینہ کسی ایک تجویز کی منظوری دے گی یا مزید مشاورت کا فیصلہ کرے گی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔ خبر میں زیرِ غور امکانات کو حتمی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
ماخذ: وفاقی کابینہ کے اجلاس سے متعلق فراہم کردہ معلومات