زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر رابطے اور شراکت داری کی اشد ضرورت ہے: وزیراعظم شہباز شریف

منصور احمد,September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فی ایکڑ زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے، زراعت کے روایتی شعبے میں جدت لانے، لائیو سٹاک کی جدید بنیادوں پر ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور تمام صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر رابطہ، یکسانیت اور مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور نئی بین الاقوامی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک کے زرعی شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زرعی شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی، خوراک کی خودمختاری اور مجموعی استحکام میں کلیدی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے اور لائیو سٹاک کو منافع بخش بنانے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرونِ ملک تعینات تمام پاکستانی کمرشل افسران عالمی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے اپنا فعال اور موثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کسانوں کی سہولت کے لیے دستیاب موبائل ایپ سے متعلق آگاہی مہم چلانے اور برآمدات بڑھانے کے لیے مصنوعات میں ‘ویلیو ایڈیشن’ یقینی بنانے کا حکم دیا۔

اجلاس کو دی گئی تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی زرعی برآمدات کا حجم 5.18 ارب ڈالر رہا، جن میں چاول، فشریز، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو، آم اور مکئی نمایاں ترین برآمدی مصنوعات رہیں۔ اجلاس میں زرعی برآمدات کو پائیدار بنانے کے لیے مکمل ‘ویلیو چینز’ تشکیل دینے کی تجویز منظور کی گئی اور نشاندہی کی گئی کہ چین، سعودی عرب، ایران اور خلیجی ممالک پاکستانی زرعی برآمدات کے لیے سب سے اہم اور بڑی مارکیٹس ہیں۔

اجلاس کے دوران نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سکیورٹی کونسل کو مکمل طور پر فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں کی باضابطہ نمائندگی کریں گے۔ اس کے علاوہ ملک گیر سطح پر ‘ڈیجیٹل فارمرز ڈائری-ایگری سٹیک’ کی تشکیل کی جدید تجویز پیش کی گئی، جس کے تحت ملک بھر کے تمام کسانوں، زرعی زمینوں کے ریکارڈز، مٹی اور پانی کی جانچ کی تفصیلات کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بہتر زرعی نتائج اور عالمی معیار کی پابندی کے لیے ‘پاک-گیپ’

کا باقاعدہ نظام نافذ کیا جائے گا، جبکہ زرعی برآمد کنندگان کی ہمت افزائی کے لیے خصوصی زرعی فنانسنگ اور مالیاتی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

اس اہم اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیر مملکت برائے قومی غذائی تحفظ ملک رشید احمد اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

پوری قوم کو پاک فضائیہ پر فخر ہے، شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی: یومِ فضائیہ پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام

کاشف عباسی , September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یومِ فضائیہ کے موقع پر پاک فضائیہ کے بہادر اور جری شاہینوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم کو پاک فضائیہ پر بے پناہ فخر ہے اور ملکی دفاع کی خاطر اپنے پران نچھاور کرنے والے شہداء کی عظیم قربانیاں ہمیشہ قومی یادوں میں نقش رہیں گی۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے اپنے خصوصی اور اہم پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یومِ فضائیہ کے پروقار موقع پر وہ پاک فضائیہ کے تمام جانبازوں کی غیر معمولی جرات، اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت اور ناقابلِ تسخیر جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تاریخی حقائق کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ ستمبر 1965ء کی جنگ میں پاکستانی فضائی حدود کے بہادرانہ دفاع سے لے کر مئی 2025ء کے معرکۂ حق کے دوران دشمن کو دیے گئے فیصلہ کن اور دندان شکن جواب تک، پاک فضائیہ نے شجاعت، فنی مہارت، درست نشانے اور ایثار و قربانی کی اپنی سدا بہار اور قابلِ فخر روایت کو پوری شان سے برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر معمولی عملیاتی تیاری، جدید ترین ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم میں مکمل مہارت، اور پاک فوج کی دیگر دفاعی شاخوں کے ساتھ بہترین عملیاتی ہم آہنگی کے ذریعے پاک فضائیہ نے بارہا دنیا پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر آنے والے درپیش چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی جغرافیائی حدود اور خودمختاری کے دفاع کی مکمل اور بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

قومی شہداء کو عقیدت و احترام سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وطن کے لیے جان دینے والے سرفروشوں کی لازوال داستانیں قوم کا اصل اثاثہ ہیں۔ پوری قوم اپنے شاہینوں کی ناقابلِ تسخیر جرات، بے مثال صلاحیتوں اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے فراہم کی جانے والی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان پر ہمیشہ فخر محسوس کرتی رہے گی۔

نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان کی جانب سے 100 ٹن انسانی امداد کی ایمرجنسی کھیپ روانہ

کاشف عباسی , September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر حکومتِ پاکستان نے حالیہ موصلادھار بارشوں، شدید سیلاب اور تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ دوست ملک نیپال کی امدادی و بحالی کی سرگرمیوں میں فوری معاونت کے لیے 100 ٹن سے زائد وزنی انسانی امدادی سامان کی بڑی کھیپ کھٹمنڈو روانہ کر دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق، قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے اعلیٰ زیرِ اہتمام تیار کی گئی اس امدادی کھیپ کو خصوصی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے امدادی سامان کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس ایمرجنسی ریلیف پیکج میں نیپال کے شدید متاثرہ علاقوں اور بے گھر ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ و سیلاب متاثرین کے لیے واٹر پروف خیمے، گرم کمبل، فلور چٹائیاں، حفظانِ صحت کی ضروری کٹس، ایمرجنسی ادویات اور فرسٹ ایڈ کا ضروری سامان شامل کیا گیا ہے تاکہ متاثرین کی بنیادی ضروریات کو فوری طور پر پورا کیا جا سکے۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امدادی سامان کی روانگی اور خصوصی چارٹرڈ فلائٹ کی منتقلی کے حوالے سے ایک وقار تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان میں تعیّنات نیپال کے سفیر، وزارتِ خارجہ، این ڈی ایم اے اور سول ایوی ایشن کے اعلیٰ ترین عسکری و سول حکام بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور حکام نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے درمیان گہرے دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں۔ مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں 100 ٹن امدادی سامان کی فراہمی حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے نیپال کی حکومت اور اس کے مصیبت زدہ عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی، خیر سگالی اور انسانی ہمدردی کے غیر متزلزل عزم کا واضح ثبوت ہے۔

اقوام متحدہ اور کثیرالجہتی نظام کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے: وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے امیدوار اولارا اوتونو سے ملاقات

روزینہ اسماعیل, September 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعادہ کیا ہے کہ پاکستان عالمی امور اور کثیرالجہتی نظام میں اقوام متحدہ کے موثر اور فعال کردار کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا، جبکہ موجودہ پیچیدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مستحکم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کیے گئے باضابطہ بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار سفیر اولارا اوتونو سے ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر یوگنڈا کے صدر کے خصوصی ایلچی اور سابق وزیراعظم روہاکانا روگونڈا بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بھی شرکت کی اور اہم سفارتی امور پر گفتگو کی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے منشور، عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے بنیادی منشور سے مکمل وابستگی رکھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے آئندہ منتخب ہونے والے سیکرٹری جنرل عالمی ادارے کے تینوں بنیادی ستونوں یعنی امن و سلامتی، اقتصادی و سماجی ترقی اور انسانی حقوق پر یکساں اور متوازن توجہ مرکوز کریں گے۔

سفیر اولارا اوتونو نے کثیرالجہتی نظام کے فروغ، اقوام متحدہ کے مشنز اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی دہائیوں پر محیط اور تاریخی خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا اور پاکستان کی فعال عالمی قیادت پر تشکر کا اظہار کیا۔

عوام کو صحت کی اعلیٰ سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہیلتھ سیکٹر اصلاحات میں تیزی

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ عوام الناس کو صحت عامہ کی جدید اور معیاری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی سرِ فہرست ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے ملک میں ہیلتھ کیئر اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت جمعرات کو اسلام آباد میں مجوزہ ‘جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر’ اور ‘فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک فیز 2 ایکسٹینشن’ کی تعمیر و پیشرفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کے دوران وفاقی دارالحکومت کے باشندوں کو فوری اور معیاری طبی علاج کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا گیا۔ فیصلے کے تحت اسلام آباد کے سیکٹرجی/ 11″ میں زیرِ تعمیر فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک ایکسٹینشن کو جناح میڈیکل کمپلیکس کے پہلے فیز کے طور پر شروع اور فعال کیا جائے گا تاکہ ہسپتال کی تعمیر میں تاخیر کو ختم کر کے اسے فوری شہریوں کی خدمت کے لیے کھولا جا سکے۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو حتمی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس کے اس پہلے فیز کی تعمیر کو ہر صورت مارچ 2027ء تک مکمل کیا جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اس ہسپتال کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید اور ‘سٹیٹ آف دی آرٹ’ بنایا جائے اور اس میں اعلیٰ ترین اور ہائی ٹیک میڈیکل مشینری کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے ساتھ ہی وزیراعظم شہباز شریف نے شفافیت قائم رکھنے کے لیے ہدایت کی کہ منصوبے کی تعمیراتی پیشرفت کے ساتھ ساتھ مسلسل تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کو یقینی بنایا جائے۔ اس اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیرِ توانائ سردار اویس احمد خان لغاری اور دیگر سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔

مکہ معاہدہ اجتماعی دفاع اور علاقائی استحکام کا تاریخی سنگِ میل ہے: وفاقی وزیر احسن اقبال کا جامعہ لاہور کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

منصور احمد, September 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا تاریخی ‘مکہ معاہدہ’ تینوں اسلامی ممالک کے اجتماعی دفاع اور خطے میں پائیدار استحکام کی جانب ایک انتہائی اہم سنگِ میل ہے، تاہم اس معاہدے کی طویل المدتی کامیابی اور افادیت کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اس سٹریٹجک تعاون کو معاشی طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے۔

جامعہ لاہور میں “مکہ معاہدہ اور طاقت کی نئی تشکیل” کے عنوان سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سیاسی و معاشی منظرنامہ ایک بڑی تاریخی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں یک قطبی عالمی نظام زوال پذیر ہے اور ایک نیا کثیر قطبی نظام وجود میں آ رہا ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اتحاد کسی بھی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی کوئی نیا محاذ کھولنے کا مقصد رکھتا ہے، بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت طاقت کے ذریعے امن، یکجہتی اور دفاعی صلاحیت کو یقینی بناتا ہے۔

وفاقی وزیر نے تینوں ممالک کی صلاحیتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی مالیاتی و توانائی کی قوت، ترکیہ کی صنعتی و دفاعی بنیاد اور پاکستان کی اعلیٰ عسکری صلاحیت، جغرافیائی رابطے اور عظیم الشان نوجوان آبادی مل کر اس اتحاد کو لازوال طاقت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ترکی کی ٹیکنالوجی، سعودی سرمایہ کاری اور پاکستانی انسانی وسائل کو یکجا کر کے اسے وسیع تر معاشی اور تکنیکی شراکت داری میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کی قومی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی اگلی بڑی جدوجہد “معرکۂ ترقی” ہے، جس کے تحت ‘اڑان پاکستان’ منصوبے کے ذریعے 2035ء تک ملکی معیشت کو 1 ٹریلین ڈالر اور 2047ء تک 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا حدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کوانٹم کمپیوٹنگ، بائیوٹیکنالوجی اور خلائی سائنسز میں مہارت حاصل کریں کیونکہ جنگی طیارے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں لیکن جامعات قوموں کے مستقبل کا دفاع کرتی ہیں۔

پمز ہسپتال آتشزدگی کیس: وزیراعظم شہباز شریف کی نومولود بچی کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین سے ملاقات، ‘تمغۂ خدمت’ اور 1 کروڑ روپے انعام کا اعلان

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے کے دوران اپنی جان پر کھیل کر ایک نومولود بچی کی جان بچانے والی بہادر نرس رضیہ نورین سے جمعرات کے روز یہاں وزیراعظم ہاؤس میں خصوصی ملاقات کی اور ان کی بے مثال ہمت، بہادری اور انسانیت کے جذبے کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نرس رضیہ نورین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر جس عظمت اور ہمت کے ساتھ نومولود بچی آصفہ کو آگ کی لپیٹ سے محفوظ باہر نکالا، وہ ایک عظیم انسانی عمل ہے جس پر پوری قوم کو ان پر بے حد فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم کی اس بیٹی کا کارنامہ ملکی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور بچی کی والدہ زندگی بھر انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گی۔

وزیراعظم نے رضیہ نورین کی اس اعلیٰ ترین کارکردگی اور قربانی کے اعتراف میں اعلان کیا کہ آنے والے قومی دن یعنی 23 مارچ کو انہیں باضابطہ طور پر “تمغۂ خدمت” سے نوازا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے نرس کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک کروڑ روپے کے خصوصی مالی انعام کا اعلان کیا اور چیک بھی ان کے حوالے کیا۔

ملاقات کے دوران نرس رضیہ نورین نے وزیراعظم کو واقعے کی دلدوز تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی انہوں نے ہسپتال کے شعبے میں اچانک آگ کی خوفناک لپٹیں اور دھواں دیکھا تو اپنی جان کا خطرہ مول لے کر اندر داخل ہو گئیں اور چھوٹی بچی آصفہ کو محفوظ نکال کر ڈاکٹر عبدالرحمٰن کے حوالے کیا تا کہ بھگدڑ میں بچی محفوظ رہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر بچوں کو بچانے کی بھی کوشش کی گئی تاہم آگ اور سیاہ دھوئیں کے تیزی سے پھیلنے کے باعث ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز آتشزدگی کے واقعے کو انتہائی دلخراش قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ اس غفلت اور حادثے کے ذمہ دار افراد کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزارتِ صحت کو پمز ہسپتال میں مریضوں اور عملے کے تحفظ کے لیے سہولیات اور حفاظتی اقدامات فوری بہتر بنانے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ تقریب میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

پانی کو کبھی عسکری یا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے: بشکیک میں ایس سی او اجلاس سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

منصور احمد, September 01,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ پانی انسانی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے اور اسے کبھی بھی ہتھیار، دباؤ یا سیاسی مفادات کے حصول کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اگرچہ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران براہِ راست انڈیا کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ واضح طور پر نئی دہلی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور عدم پاسداری کی کوششوں کی طرف تھا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پانی ہمارے پورے خطے میں انسانی زندگی اور بقا کی بنیاد ہے، جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو برقرار رکھتا ہے، ہماری زراعت و زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق تمام تر معاہدے سنجیدہ، باہم طے شدہ اور پابند بین الاقوامی عہد ہیں، یہ کوئی ایسے معمولی سیاسی معاملات نہیں ہیں جنہیں کوئی بھی ملک اپنی مرضی یا پسند ناپسند کے مطابق نظر انداز کر دے۔

دہشت گردی اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ہمیشہ کی طرح فعال اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور معاشی طور پر خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ تاہم، انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی کے ذہن میں کوئی ابہام یا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے بے گناہ پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کا خون بہاتے رہیں گے، تب تک خطے میں پائیدار اور حقیقی امن ہماری پہنچ سے دور ہی رہے گا۔

غیر ملکی جہازوں پر انحصار کم کرنے، مقامی شپنگ اور بندرگاہوں کو جدید بنانے کے لیے وزیراعظم ٹاسک فورس کے 99 نکاتی بحری روڈ میپ پر تیزی سے عملدرآمد جاری

منصور احمد, September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے وسیع سمندری وسائل کو ملک کی حقیقی معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت بحری شعبے میں مکمل خود انحصاری کے لیے جامع اور ہنگامی اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔

100 ارب ڈالر سے زائد کی بلیو اکانومی کی شاندار صلاحیت رکھنے والے پاکستان میں بندرگاہوں، شپنگ، شپ بلڈنگ، لاجسٹکس اور ماہی گیری کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات کے ذریعے غیر ملکی انحصار کم کرنے اور قومی بحری صنعت کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر بلیو اکانومی کی اس استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پالیسی ساز سطح پر اصلاحات کا عمل تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وسیع ساحلی اور سمندری خطے میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی بحری معیشت کا حجم موجود ہے، تاہم افسوسناک طور پر ماضی میں ملک اپنے بحری وسائل اور قومی بحری اثاثوں سے مطلوبہ اور مناسب معاشی فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ماضی کی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی کارگو کی ایک بہت بڑی مقدار غیر ملکی جہازوں کے ذریعے منتقل ہوتی رہی جس کے باعث پاکستان کی قومی شپنگ انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ بندرگاہوں کی ڈریجنگ، ماہی گیری کی جدید کشتیوں کی تیاری اور دیگر اہم بحری خدمات میں بھی غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار مسلسل برقرار رہا۔ اس بیرونی انحصار کے نتیجے میں پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات اور زرِ مبادلہ کے نچوڑ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ہمارے قومی کارگو کی نقل و حمل میں پاکستانی شپنگ انڈسٹری کا حصہ تشویشناک حد تک محض 11 فیصد تک محدود رہا۔

انہی سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی قائم کردہ ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت 99 نکاتی بحری روڈ میپ پیش کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بحری شعبے کو جدید، مسابقتی اور مکمل خود انحصار بنانا ہے۔

اس جامع روڈ میپ کے تحت بندرگاہوں کی صلاحیت میں اضافہ، شپنگ لائنز، لاجسٹکس، شپ بلڈنگ اور ماہی گیری سمیت بحری معیشت کے تمام اہم ستونوں میں اصلاحات اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی کام کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کا حتمی مقصد پاکستان کی بلیو اکانومی کی اس وسیع صلاحیت کو فعال بناتے ہوئے مقامی شپنگ صنعت کو مضبوط کرنا، قومی بحری اثاثوں سے پیداوار بڑھانا اور غیر ملکی ڈائریکٹ انحصار ختم کرنا ہے، تاکہ بحری شعبہ ملکی تجارت، روزگار کی فراہمی، بیرونی سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کا سب سے مؤثر ذریعہ بن کر ابھرے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات: دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون اور علاقائی امن پر تفصیلی گفتگو

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے 25ویں اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم آفس سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی، تاریخی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی تجارتی و معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران رواں سال جون میں صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ہونے والے اہم فیصلوں اور معاہدوں پر جلد از جلد عملدرآمد کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کے لیے جاری مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ اہم دورۂ تہران اور وہاں ایرانی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کے ساتھ ہونے والے مثبت رابطوں سے دونوں ممالک اور خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی سازگار نتائج کی توقع ہے۔

وزیراعظم نے خطے میں امن کی بحالی کے لیے تمام فریقین کی جانب سے تحمل، بردباری اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تحت طے پانے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے فعال اور مثبت سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور گہرے مذہبی رشتوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے تجارتی و توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مسلم دنیا میں باہمی اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا۔

ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی باقاعدہ دعوت دی، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کو دسمبر 2026ء میں تہران میں منعقد ہونے والے ‘اقتصادی تعاون تنظیم’ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت پیش کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے 25ویں تاریخی سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق بشکیک کے ماناس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے پر کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین (نائب وزیراعظم) عادلبیک قاسمالیف نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے اعلیٰ سطحی وفد کا گرمجوشی سے پرجوش استقبال کیا۔

ترجمان وزیراعظم کے مطابق اپنے اس اہم تین روزہ سرکاری دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے مرکزی سیشن سے خطاب کریں گے، جس میں علاقائی امن، سلامتی، تجارت، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم مسائل پر پاکستان کا موقف پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہباز شریف اجلاس میں شرکت کرنے والے مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق ان اہم ملاقاتوں میں متعلقہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے باہمی سفارتی تعلقات کی استواری، تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع، علاقائی تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کا نیا دور، وزیراعظم شہباز شریف سے اعلیٰ سطح کے سعودی کاروباری وفد کی اہم ملاقات

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے اہم اور ترجیحی شعبوں میں سعودی عرب کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری کی گہری دلچسپی کا پرجوش اور گرمجوش خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان حکومت سے حکومت اور کاروبار سے کاروبار کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے اور وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے یہ بہترین، موزوں اور تاریخ کا سب سے مناسب وقت ہے۔ اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں سعودی پاک مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں آنے والے اعلیٰ سطح کے سعودی کاروباری اور تجارتی وفد سے تفصیلی اور اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنے دلی احترام، عقیدت اور نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دہائیوں پر محیط دیرینہ، دینی اور تاریخی برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان تعلقات کو باہمی مفادات پر مبنی ایک پائیدار اور مضبوط سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کی معیشت کو استحکام اور پائیدار ترقی حاصل ہو سکے۔

ملاقات کے دوران سعودی وفد کے سربراہ شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے پاکستان کے مختلف اہم اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں جن میں زراعت، بندرگاہوں کی جدید کاری، شاہراہوں کی تعمیر و توسیع، بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، رئیل اسٹیٹ، جدید توانائی کے منصوبوں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی بہتری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں، میں بڑی سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کے وژن 2030 کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے اور شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کے سابقہ دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کا موجودہ دورہ گزشتہ بات چیت اور دوطرفہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو گا اور مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر پیش رفت کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے سعودی وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولیات، شفاف ماحول اور حکومتی سطح پر کامل تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔

اس موقع پر شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے پاکستانی قیادت اور حکومت کے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی حکومت اور وہاں کی تجارتی برادری پاکستان کے نجی اور سرکاری شعبے کے ساتھ تجارتی و کاروباری روابط کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وفد اپنے دورۂ پاکستان کے دوران مختلف وزراء، اعلیٰ حکومتی نمائندوں اور نجی شعبے کے اہم سٹیک ہولڈرز سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کرے گا تاکہ آئندہ کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اس اعلیٰ سطح اور اہم ملاقات میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، جنید انوار چوہدری، علی پرویز ملک، سردار اویس احمد خان لغاری، محمد حنیف عباسی، وزیراعظم کے مشیران محمد علی، ہارون اختر خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔

پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط اور برادرانہ تعلقات ہیں: قطری وفد سے ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف کی گفتگو

کاشف عباسی , August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر کے درمیان دیرینہ، مضبوط اور لازوال برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار چیئرمین رطاج گروپ و تمیم ہولڈنگز شیخ نائف بن عید آل ثانی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری اعلامیے کے مطابق، اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک، مشیرِ وزیراعظم ہارون اختر، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے قطری وفد کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور امیرِ قطر کے والد کے انتقال پر اپنے تعزیتی دورۂ قطر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے متوقع دورۂ پاکستان کا شدت سے منتظر ہے۔

ملاقات کے دوران قطری وفد کے سربراہ شیخ نائف بن عید آل ثانی نے پاکستان کی جانب سے بہترین اور شاندار مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کے معاشی و تجارتی شعبوں، خصوصاً انرژی اور ریئل اسٹیٹ میں قطری سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ملاقات: صوبائی ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی امور پر اہم مشاورت

کاشف عباسی , August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی دارالحکومت میں اہم ملاقات کی، جس میں صوبہ سندھ کے عمومی امور اور وفاق کے زیرِ اہتمام جاری اہم ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ اور علی پرویز ملک بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبے کی معاشی و انتظامی صورتحال، وفاق اور صوبے کے باہمی تعلقات اور ملک کی مجموعی سیاسی فضا پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں دونوں رہنماؤ ں کی جانب سے ملک میں سیاسی رواداری کو فروغ دینے اور باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ وفاقی و صوبائی معاملوں کو آگے بڑھانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ میں عوامی فلاح کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صوبے کی معاشی ترقی کو مزید رفتار مل سکے۔

’پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے‘: پشاور ورکرز کنونشن میں مولانا فضل الرحمان کا شدید خطاب، مقتدرہ اور حکومت پر کڑی تنقید

کاشف عباسی , August 23,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں صرف اور صرف پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ جو اختیارات منتخب پارلیمنٹ کے پاس ہونے چاہئیں تھے وہ مقتدرہ کے ایک فرد واحد کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ پشاور میں منعقدہ جے یو آئی (ف) کے بڑے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملک کی موجودہ سیاسی و آئینی صورت حال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ہمیں اس بات پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں کہ کوئی آرمی چیف بنے، چیف آف ڈیفنس فورسز یا فیلڈ مارشل کا عہدہ سنبھالے، لیکن فیصلے کرنے کا اصل دائرہ اختیار پارلیمنٹ کا ہی ہونا چاہیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم ترین قومی و آئینی فیصلوں کی منظوری کو وفاقی حکومت سے مشروط کر کے پارلیمنٹ کو عملی طور پر فیصلوں کے عمل سے بالکل باہر نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف کے ساتھ کافر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم، نا انصافی اور جبر کے ساتھ کسی مسلمان کی حکومت بھی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔ انہوں نے راولاکوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں عوام تین ماہ سے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں مگر انتظامیہ اور حکمران ان سے بات تک کرنے کو تیار نہیں۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ملک میں جاری بحث پر گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی نہ تو کوئی سیاسی و انتظامی تیاری ہے اور نہ ہی ویسا سازگار ماحول موجود ہے، بلکہ ایک مخصوص ادارے کی خواہش کو زبردستی قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک میں اقلیتی حکومت کی حکمرانی کا الزام عائد کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف جب بھی بیرونِ ملک دوروں پر جاتے ہیں تو آرمی چیف کو لازمی ساتھ لے کر جاتے ہیں، کیونکہ اگر وہ ساتھ نہ ہوں تو عالمی سطح پر ان کی بات کوئی سننے کو تیار نہیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پمز ہسپتال میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت غیر فعال ہونے پر سخت نوٹس، اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم

کاشف عباسی , August 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں انتہائی اہم طبی سہولت ‘سی ٹی کورونری اینجیوگرافی’ کی عدم دستیابی اور مشین کے طویل عرصے سے غیر فعال ہونے کے شدید معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے سخت ہدایت جاری کی ہے کہ کمیٹی معاملے کے تمام فنی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا بلاامتیاز جائزہ لے کر حقائق پر مبنی رپورٹ، ذمہ داران کا تعین اور اپنی سفارشات جلد از جلد ان کے سامنے پیش کرے۔

وزیرِ اعظم کے حکم پر تشکیل دی گئی اس بااختیار انکوائری کمیٹی کے چیئرمین سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہوں گے، جبکہ دیگر اراکین میں سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن کے علاوہ مسلح افواج کے نامور طبی ماہرین اور سینئر ڈاکٹرز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے اراکین میں آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (AFIC) سے بریگیڈیئر ڈاکٹر جہانزیب علی، ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک، پمز سے بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) ڈاکٹر عظمت حیات اور اے ایف آئی سی سے ہی سی ٹی اینجیو ٹیکنیشن عمر فاروق شامل ہیں۔ انکوائری کمیٹی کو یہ مکمل اختیار اور آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنی تحقیقاتی ضرورت کے مطابق کسی بھی دوسرے فنی و انتظامی ماہر یا افسر کو بحیثیت رکن کمیٹی میں شامل کر سکتی ہے۔

یہ انکوائری کمیٹی بنیادی طور پر اس امر کا تفصیلی تکنیکی جائزہ لے گی کہ آیا پمز ہسپتال میں سال 2022ء سے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کرنے کی فنی صلاحیت موجود تھی یا نہیں، اور اگر تکنیکی صلاحیت موجود تھی تو اس کے لیے ضروری و مطلوبہ انسانی وسائل، اینجیوگرافی سافٹ ویئر، اور دیگر متعلقہ طبی سہولیات کس حد تک دستیاب تھیں۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی 2022ء سے لے کر اب تک پمز میں کیے گئے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے کل طریقہ کار، ان کے کیسز کی کل تعداد، ٹیسٹ کی تاریخوں اور اس کی نوعیت کا بھی گہرائی سے معائنہ کرے گی، جس کے لیے ہسپتال انتظامیہ کے مکمل آن ریکارڈ شواہد اور دستاویزی ثبوتوں کو بھی جانچا جائے گا۔

علاوہ ازیں، کمیٹی کا ایک اہم مقصد ہسپتال کے اندر کارڈیالوجی (امراضِ قلب) اور ریڈیالوجی کے شعبوں کے درمیان سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کے ٹیسٹس کے لیے کسی باقاعدہ ریفرل میکنزم، دونوں شعبوں کے درمیان باہمی رابطے اور انتظامیہ کے مجموعی کردار کا جائزہ لینا بھی ہے۔ کمیٹی اس خاص پہلو کی بھی مکمل چھان بین کرے گی کہ آیا کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں آنے والے دل کے مریضوں کو معمول کے مطابق اور دیدہ و دانستہ طور پر سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے لیے نجی لیبارٹریوں یا پرائیویٹ طبی مراکز میں ریفر کیا جاتا رہا، اور اگر ایسا کیا گیا تو کیا کسی خاص نجی ادارے کو فائدہ پہنچانے کے لیے ترجیح دی گئی؟ اس عمل کے نتیجے میں سرکاری ہسپتال سے کتنے مالیاتی کاروبار اور کروڑوں روپے کے مالي وسائل کا رخ نجی شعبے کی جانب موڑا گیا، اس کا تخمینہ بھی لگایا جائے گا۔

وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ پمز کے کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان کسی بھی قسم کے عدم تعاون، انتظامی بدنظمی، باہمی غلط فہمی یا مفادات کے ٹکراؤ کے باعث عوامی مفاد اور غریب مریضوں کو پہنچنے والے مالی و طبی نقصان کا بھی باریک بینی سے تعین کرے اور اس غفلت میں ملوث ذمہ دار افسران یا دفاتر کی نشان دہی کرے۔ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن اس انکوائری کے تمام مرحلوں میں کمیٹی کو درکار ہر قسم کی انتظامی و دستاویزی معاونت فراہم کرے گا تاکہ تمام حقائق شفاف انداز میں سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔

پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور گوگل کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پا گیا

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے، ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور عالمی ٹیکنالوجی ادارے گوگل کے درمیان ایک اہم مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو گئے ہیں۔ اس تعاون کا بنیادی مقصد 2030ء تک پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو 30 ارب ڈالر کے حجم تک پہنچانا ہے۔

وزیرِ اعظم آفس میں منعقدہ اس پروقار تقریب کی صدارت وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کی، جبکہ وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، اور گوگل کی اعلیٰ قیادت کے وفد نے بھی شرکت کی۔ معاہدے پر سیکرٹری آئی ٹی ضرار ہاشم خان اور گوگل سائوتھ و سائوتھ ایسٹ ایشیا پبلک پالیسی کے سربراہ ڈیوڈ ویلر نے دستخط کیے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے نوجوانوں کو بااختیار بنانا حکومت کی ترجیح ہے اور نوجوان نسل ملک کی تقدیر بدلنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔

معاہدے کے تحت گوگل 2026ء میں پاکستانی نوجوانوں کو 150,000 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کرے گا تاکہ وہ جدید ترین تکنیکی مہارتیں حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ طلبا کے لیے گوگل پلس اور جیمینائی نوٹ بک تک ایک سال کی مفت رسائی کے امکانات پر کام کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں ایک خصوصی “اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس” بھی قائم کیا جائے گا، جبکہ کی اصلاحات، زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، گیمنگ اسٹوڈیوز اور چھوٹے کاروباروں کو عالمی منڈی سے جوڑنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔

گوگل نے پاکستان میں دفتر قائم کر دیا، کروم بکس برآمد کرنے کا بھی منصوبہ: وزیراعظم شہباز شریف سے گوگل وفد کی ملاقات

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آئی ٹی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی “گوگل” پاکستانی نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے اپنے پروگراموں کا دائرہ کار مزید وسعت دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں گوگل کے 9 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جس کی قیادت گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی کے نائب صدر ولسن وائٹ کر رہے تھے جبکہ امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

وزیرِ اعظم نے وفد کو حکومت کے “ڈیجیٹل نیشن پاکستان” وژن اور قومی ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان میں گوگل کے مستقل دفتر کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس قدم سے دونوں کے درمیان شراکت داری کو نئی تقویت ملے گی۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف، ولسن وائٹ اور نٹالی بیکر نے مشترکہ طور پر پاکستان میں گوگل کے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں مقامی سطح پر قائم کردہ کروم بک اسمبلی لائن کی کارکردگی انتہائی شاندار ہے اور یہاں اسمبل ہونے والی کروم بکس کو خطے کے دیگر ممالک میں برآمد کرنے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوگل پاکستان کی باصلاحیت یوتھ کے لیے آئی ٹی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور گیمنگ کے شعبوں میں تربیتی پروگراموں کو مزید وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی: وزیراعظم شہباز شریف کا نوجوانوں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے یوتھ کے لیے روزگار کے مواقع کی فراہمی پر زور

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہنر مند اور باصلاحیت نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت ملک کے طول و عرض، بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے نوجوانوں اور خواتین کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے اور انہیں جدید فنی ہنر سے آراستہ کرنے کے لیے مربوط اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اسلام آباد میں پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی پر پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے ہر ماہ اجلاس منعقد ہوگا تاکہ بین الوزارتی تعاون اور جامع حکمتِ عملی کے ذریعے اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی ہنر مند افرادی قوت کو اندرون و بیرونِ ملک صنعتی اور کاروباری ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے نیوٹک اور سمیڈا میں بنیادی ادارہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے نوجوانوں میں اس پالیسی سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے بھرپور آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب کے ذریعے نوجوانوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر ملکی اور بین الاقوامی روزگار کے مواقع کی معلومات دی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام تعلیمی اداروں میں “یوتھ ڈویلپمنٹ سیلز” قائم کیے جا رہے ہیں جو طلبہ کو کیریئر کونسلنگ اور ہنرمندی کے مواقع سے آگاہ کریں گے۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن اقبال، احد چیمہ، عطا اللہ تارڑ، مصدق ملک، شزا فاطمہ خواجہ اور چیئرمین پی ایم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف سے وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف کی ملاقات، آئندہ حج کے بہترین انتظامات کی ہدایت

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اسلام آباد میں اہم ملاقات کی، جس کے دوران انہوں نے وزیرِ اعظم کو آئندہ حج کی تیاریوں، انتظامی امور اور وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے حج انتظامات کی پیش رفت اور عازمینِ حج کو دی جانے والی سہولیات کے فریم ورک سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئندہ حج کے موقع پر تمام پاکستانی عازمین کو بہترین اور معیار کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتِ مذہبی امور کو تاکید کی کہ حج آپریشنز سے متعلق تمام ضروری اور انتظامی اقدامات کو وقت سے پہلے اور بااحسن طریقہ مکمل کیا جائے تاکہ عازمین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔