

منصور احمد,September 11,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فی ایکڑ زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے، زراعت کے روایتی شعبے میں جدت لانے، لائیو سٹاک کی جدید بنیادوں پر ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور تمام صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر رابطہ، یکسانیت اور مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور نئی بین الاقوامی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک کے زرعی شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زرعی شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی، خوراک کی خودمختاری اور مجموعی استحکام میں کلیدی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے اور لائیو سٹاک کو منافع بخش بنانے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرونِ ملک تعینات تمام پاکستانی کمرشل افسران عالمی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے اپنا فعال اور موثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کسانوں کی سہولت کے لیے دستیاب موبائل ایپ سے متعلق آگاہی مہم چلانے اور برآمدات بڑھانے کے لیے مصنوعات میں ‘ویلیو ایڈیشن’ یقینی بنانے کا حکم دیا۔
اجلاس کو دی گئی تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی زرعی برآمدات کا حجم 5.18 ارب ڈالر رہا، جن میں چاول، فشریز، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو، آم اور مکئی نمایاں ترین برآمدی مصنوعات رہیں۔ اجلاس میں زرعی برآمدات کو پائیدار بنانے کے لیے مکمل ‘ویلیو چینز’ تشکیل دینے کی تجویز منظور کی گئی اور نشاندہی کی گئی کہ چین، سعودی عرب، ایران اور خلیجی ممالک پاکستانی زرعی برآمدات کے لیے سب سے اہم اور بڑی مارکیٹس ہیں۔
اجلاس کے دوران نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سکیورٹی کونسل کو مکمل طور پر فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں کی باضابطہ نمائندگی کریں گے۔ اس کے علاوہ ملک گیر سطح پر ‘ڈیجیٹل فارمرز ڈائری-ایگری سٹیک’ کی تشکیل کی جدید تجویز پیش کی گئی، جس کے تحت ملک بھر کے تمام کسانوں، زرعی زمینوں کے ریکارڈز، مٹی اور پانی کی جانچ کی تفصیلات کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بہتر زرعی نتائج اور عالمی معیار کی پابندی کے لیے ‘پاک-گیپ’
کا باقاعدہ نظام نافذ کیا جائے گا، جبکہ زرعی برآمد کنندگان کی ہمت افزائی کے لیے خصوصی زرعی فنانسنگ اور مالیاتی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
اس اہم اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیر مملکت برائے قومی غذائی تحفظ ملک رشید احمد اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔




























