

محمود احمد, October13,2026
بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اکتوبر 2026ء
لبنان کی حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں گھر کھونے والے لبنانی شہریوں کی مالی مدد کے لیے ایک نئے امدادی پروگرام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اہل خاندانوں کو علاقے کے لحاظ سے 12 ہزار سے 14 ہزار امریکی ڈالر تک فراہم کیے جائیں گے۔ تنظیم کے مطابق امداد ان خاندانوں کے لیے مختص ہوگی جن کے مکانات تباہ ہو چکے ہیں یا رہائش کے قابل نہیں رہے۔
بیروت کے جنوبی مضافات میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین علی داموش نے پروگرام کی تفصیلات بتائیں۔ ان کے مطابق بیروت اور اس کے جنوبی مضافات میں متاثرہ خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ 14 ہزار ڈالر جبکہ دیگر علاقوں کے اہل خاندانوں کو 12 ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔
داموش نے بتایا کہ امداد ان افراد کو بھی فراہم کی جائے گی جو جنوبی لبنان کے اسرائیلی زیرِ قبضہ علاقوں میں رہتے تھے، بشرطیکہ ان کے پاس رہائش کے لیے کوئی دوسرا گھر موجود نہ ہو۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مجموعی طور پر کتنے خاندان اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔
حزب اللہ کے اعلان کے مطابق امدادی رقم ایک سال کے دوران چار قسطوں میں ادا کی جائے گی۔ تنظیم کے عہدیدار نے فنڈز کے موجودہ ذرائع، مجموعی بجٹ اور مستحقین کی تعداد سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایران سے مالی معاونت کی اطلاعات
اس امدادی پروگرام کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حزب اللہ کی مالی معاونت کے ذرائع اور اس تک رقوم کی منتقلی کے معاملات علاقائی پابندیوں اور نگرانی کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، خبر رساں ادارے روئٹرز نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ سے بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں کی مدد کے لیے ایران سے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر بھیجے گئے ہیں۔
تاہم حزب اللہ کے عہدیدار نے نئے امدادی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے اس رقم کو پروگرام کی فنڈنگ سے منسلک نہیں کیا۔ اس لیے دونوں معاملات کے درمیان براہِ راست تعلق کو فی الحال ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
یہ مارچ میں ایران کی حمایت میں اسرائیل کے ساتھ نئی جنگ شروع ہونے کے بعد حزب اللہ کی جانب سے بے گھر افراد کے لیے امداد کا پہلا اعلان بتایا گیا ہے۔ اس سے قبل دسمبر 2024 میں تنظیم نے اسرائیل کے ساتھ گزشتہ جنگ کے بعد متاثرہ خاندانوں کے لیے 7 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت حزب اللہ نے اس رقم کو ایران اور حزب اللہ کے عوام کا تحفہ قرار دیا تھا۔
امداد کی شرائط اور جنگ کے نقصانات
حزب اللہ کے اعلان کے مطابق امداد صرف ان خاندانوں کو دی جائے گی جن کی متاثرہ عمارت بنیادی رہائش تھی۔ موسمِ گرما میں استعمال ہونے والے مکانات اور خالی پڑی جائیدادیں اس پروگرام میں شامل نہیں ہوں گی۔ امداد کی اہلیت اور رقم کا تعین مکانات کو پہنچنے والے نقصان کی جانچ کے بعد کیا جائے گا۔
لبنان میں اسرائیل کے ساتھ 2023 سے جاری دو جنگوں کے باعث رہائشی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے ستمبر میں بتایا تھا کہ دونوں جنگوں کی مجموعی اقتصادی لاگت 27 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق سابقہ جنگ میں تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار رہائشی یونٹس متاثر ہوئے، جبکہ 2026 کی جنگ میں مزید تقریباً 91 ہزار رہائشی یونٹس کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچا۔
اس تباہی کے باعث بے گھر ہونے والے خاندانوں کی بحالی لبنان کے لیے ایک بڑا مالی اور انسانی چیلنج ہے۔ حزب اللہ کے نئے پروگرام کے تحت مالی امداد متاثرہ خاندانوں کو کرائے کی ادائیگی اور گھریلو سامان کی خریداری میں مدد فراہم کرنے کے لیے دی جائے گی۔
امدادی پروگرام کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حزب اللہ کو امریکی پابندیوں اور لبنان میں فنڈنگ کے راستوں پر سخت نگرانی کا سامنا ہے۔ ایران سے مبینہ مالی معاونت کی اطلاعات کے باوجود تنظیم نے نئے پروگرام کے لیے دستیاب مجموعی رقم اور فنڈز کے حتمی ذریعے کی تصدیق نہیں کی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
حزب اللہ کی جانب سے امدادی رقوم اور ادائیگیوں کا اعلان تنظیم کے عہدیدار کے بیان پر مبنی ہے؛ مستحق خاندانوں کی حتمی تعداد اور پروگرام کے مجموعی بجٹ کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ ایران سے 20 کروڑ ڈالر کی منتقلی کی اطلاع روئٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دی تھی، تاہم حزب اللہ نے اس رقم کو نئے امدادی پروگرام سے منسلک کرنے کی تصدیق نہیں کی۔ جنگ سے ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار لبنانی وزیراعظم کے ستمبر میں دیے گئے بیان پر مبنی ہیں۔
ماخذ: لبنان کے وزیراعظم نواف سلام کا خطاب۔