تہران میں ہنگامی پناہ گاہوں اور میٹرو اسٹیشنز کی نشاندہی کے لیے سائن بورڈز نصب کرنے کا بڑا فیصلہ

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

تہران سٹی کونسل کے سربراہ مہدی چمران نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت کے مختلف حساس علاقوں اور بالخصوص معینہ میٹرو اسٹیشنز میں قائم ہنگامی پناہ گاہوں کی واضح نشاندہی کے لیے باقاعدہ سائن بورڈز نصب کیے جائیں گے۔

مہدی چمران نے سٹی کونسل کے اجلاس کے بعد تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کونسل کی حالیہ منظوریوں کی روشنی میں ان تمام تر مقامات پر نمایاں بورڈز لگانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے جنہیں کسی بھی ہنگامی یا جنگی صورتحال میں عوام کی حفاظت کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر مختص کیا گیا ہے، تاکہ شہریوں کو بلا تاخیر معلوم ہو سکے کہ قریب ترین محفوظ ترین مقامات کہاں واقع ہیں۔

سٹی کونسل کے سربراہ نے مزید بتایا کہ پناہ گاہوں کی صلاحیت رکھنے والے تمام میٹرو اسٹیشنز کی فہرست اور تفصیلات سے بھی عوام کو جامع انداز میں آگاہ کیا جائے گا اور وہاں معلوماتی سائن بورڈز اور رہنمائی کے واضح انتظامات مکمل کیے جائیں گے۔

ایرانی دارالحکومت کی انتظامیہ کا یہ اہم اور تحفظاتی اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ماضی کی جنگوں اور پرتشدد کشیدگی کے دوران تہران کے رہائشیوں نے شہر میں بم پناہ گاہوں کی شدید کمی اور موجودہ محفوظ مقامات تک رسائی کے لیے گائیڈ لائنز یا سائن بورڈز کے نہ ہونے پر گہرے تحفظات اور شکایات کا اظہار کیا تھا۔

مہدی چمران نے اس امر پر زور دیا کہ شہریوں کو ممکنہ خطرات کے دوران اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے بروقت اور درست معلومات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت یا فضائی حملوں کی صورت میں وہ کم سے کم وقت میں ان محفوظ پناہ گاہوں تک پہنچ سکیں۔ تہران انتظامیہ کے اس قدم سے دارالحکومت کے باشندوں کے تحفظ اور کسی بھی ہنگامی حالت میں فوری ردِعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ کا نئے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ سے ٹیلیفونک رابطہ؛ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اسلامی دنیا کے متحد ہونے پر زور

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ سے ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو ایران کی جغرافیائی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی پر فوری اور انتہائی ذمہ دارانہ ردِعمل دینا چاہیے۔

ایرانی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے حسین ابراہیم طٰہٰ کو اسلامی تعاون تنظیم کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے اور سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کی مستقبل کی سفارتی کاوشوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران اس امید کا اظہار کیا کہ نئے سیکریٹری جنرل موجودہ دباؤ اور درپیش عالمی چیلنجز سے نبٹنے کے لیے تنظیم کے پلیٹ فارم اور اسلامی دنیا کی اجتماعی صلاحیتوں کو مکمل اور مؤثر انداز میں بروئے کار لائیں گے اور تمام رکن ممالک کے مابین باہمی اتحاد، سفارتی رابطے اور کثیر الجہتی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

اس اہم رابطے میں عباس عراقچی نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو خطے میں امریکی اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایران کے خلاف ہونے والی مبینہ عسکری جارحیت اور اس کے بعد کی انتہائی حساس علاقائی صورتحال سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کی پامالی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے اسلامی دنیا کی جانب سے ایک مربوط، متفقہ اور جرات مندانہ لائحہ عمل ناگزیر ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے موجودہ سنگین بحران کے تناظر میں اسلامی ممالک پر باہمی مشاورت کو تیز کرنے اور یکجہتی کے پیغام کو عالمی سطح پر عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

ایران کا خلیج فارس میں ‘ممنوعہ بحری زون’ قائم کرنے کا بڑا اعلان: امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے خلاف عسکری حکمتِ عملی تبدیل

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر میجر جنرل محسن رضائی نے خلیج فارس میں ایک بڑا عسکری و معاشی قدم اٹھاتے ہوئے سمندری ‘ممنوعہ زون’ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو حالیہ دنوں میں ایران کے جدید اور موثر میزائل تجربات کے ذریعے واضح اور دوٹوک پیغام پہنچایا جا چکا ہے، جس کے بعد تہران نے امریکی جنگی بحری جہازوں اور خطے میں قائم امریکی عسکری اڈوں کے خلاف اپنی تمام تر آپریشنل حکمتِ عملی اور پوزیشن کو بنیادی طور پر یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک خاص اور اہم بیان میں میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے مسلط کردہ معاشی جنگ اور بحری ناکہ بندی کا موثر جواب دینے کے لیے ایران خلیج فارس کے حساس پانیوں میں ایک خصوصی ‘سمندری ممنوعہ زون’ قائم کر رہا ہے جو امریکی بحری ناکہ بندی کی آخری حدود تک پھیلا ہوا ہوگا۔

ایرانی حکام کے باضابطہ موقف کے مطابق تہران آنے والے چند دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کے باہر اس نئے ممنوعہ اور محدود بحری زون کے حتمی جغرافیائی حدود کا باقاعدہ اعلان کرے گا۔ یہ زون امریکی بحری ناکہ بندی کی قائم کردہ لائن سے شروع ہو کر خلیج فارس کے انتہائی اہم حصوں تک محیط ہوگا، جبکہ تہران نے متنبہ کیا ہے کہ اس زون میں پیشگی اجازت کے بغیر داخل ہونے والے تمام تر تجارتی و عسکری بحری جہازوں کو ایرانی بلیک لسٹ اور سخت ترین پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔

یہ سنگین اور پیش رفت سے بھرپور بیان ایک ایسے موڑ پر سامنے آیا ہے جب خطے کے سمندری محاذ پر امریکہ اور ایران کی افواج کے مابین براہِ راست اور خونریز تصادم کے خطرات ڈرامائی حد تک بڑھ چکے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا دعویٰ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ دنوں میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائل داغے تھے، تاہم پینٹاگون کے مطابق دونوں امریکی عسکری جہاز ان حملوں سے محفوظ رہے اور ان کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا، جب کہ اس کے برعکس تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پہلی بار کامیابی کے ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ میزائلوں سے امریکی بحری ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایرانی اقدامات کے جواب میں اعلان کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایرانی حملوں کا بدلہ لینے کے لیے تین ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور امریکی فوج ایران کو ہر امریکی جہاز پر حملے کے بدلے تین گنا معاشی قیمت چکانے پر مجبور کرے گی۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستے پر بننے والی اس شدید جنگی صورتحال، املاک کی تباہی اور ممکنہ ناکہ بندی نے عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی اور بحری آمدورفت کی سلامتی پر شدید خطرات کے بادل منڈلا دیے ہیں۔

سفارتی و سیکیورٹی حل کی تلاش: پاکستانی وفد کا اہم دورۂ تہران، امریکہ ایران کشیدگی اور علاقائی صورتحال کا جائزہ

محمود احمد, August 24,2026

تہران/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید سخت معاشی پابندیوں کے اعلان اور ایران کی طرف سے خلیج سے تیل کی ترسیل روکنے کی جوابی دھمکی کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستانی وفد کے ہمراہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا پرشور استقبال ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے کیا۔ وفد میں پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شامل ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے ‘اسنا’ کے مطابق، پاکستانی وفد اپنے اس اعلیٰ سطحی دورے کے دوران ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے انتہائی اہم ملاقاتیں کرے گا۔ ان ملاقاتوں میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، سرحدی سلامتی کے استحکام، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اور خطے میں پیدا ہونے والی تاز ترین سیکیورٹی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

یہ اہم وزٹ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران کی معیشت پر مزید ناکہ بندی کی جا رہی ہے اور منگل کے روز عمان کے وزیرِ خارجہ بھی ایرانی حکام سے اہم مذاکرات کے لیے تہران پہنچ رہے ہیں۔ سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان اور عمان کے ان یکے بعد دیگرے دوروں کا مقصد خلیج کے خطے میں مزید کسی بڑے فوجی یا معاشی تصادم کو روکنا اور بحران کا سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔

سابق امریکی وزیرِ دفاع لیون پینیٹا کی ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی پر شدید تنقید: معاشی ناکہ بندی کو امریکہ کی کمزوری قرار دے دیا

محمود احمد, August 23,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

امریکہ کے سابق وزیرِ دفاع اور امریکی استخباراتی ادارے (سی آئی اے) کے سابق سربراہ لیون پینیٹا نے ایران کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی ’معاشی جنگ‘ کو امریکہ کی بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔ ایک نشریاتی ادارے (سی این این) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف معاشی ناکہ بندی اور سخت اقتصادی دباؤ سے امریکہ کو مطلوبہ کامیابی نہیں ملے گی، بلکہ اس کے برعکس ایران خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کو بند کر کے خود امریکہ پر زبردست اقتصادی اور تجارتی دباؤ بڑھا رہا ہے۔

لیون پینیٹا نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تہران کو شدید اقتصادی مشکلات، غذائی اجناس اور طبی سامان کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈال کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ایک سنگین غلطی ہے، جو کہ عالمی قوانین کی نظر میں ’جنگی جرم‘ کی زمرے میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت دنیا بھر میں مخالف طاقتوں کے ایک منظم محور — جس میں چین، روس، شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں — سے نمٹ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چاروں ممالک ایک دوسرے کی بھرپور مدد کر رہے ہیں؛ جیسے شمالی کوریا روس کو 10,000 جنگجو اور جدید ڈرونز فراہم کر چکا ہے، لیکن امریکی صدر اس کے برعکس اپنے اتحادوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر دشمنوں کو خوش کرنے کی ’الٹی حکمتِ عملی‘ پر گامزن ہیں۔

سابق امریکی وزیرِ دفاع نے زور دیا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے، چاہے امریکی صدر ڈیموکریٹ رہا ہو یا ریپبلکن، بنیادی عالمی اصول یہی رہے ہیں کہ امریکہ کو دنیا میں مضبوط قیادت فراہم کرنی ہے، اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے ہیں اور آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔ تاہم، ٹرمپ عالمی قیادت سے پیچھے ہٹ چکے ہیں اور انہوں نے ولادی میر پیوٹن، شی جن پنگ اور کم جونگ ان جیسے آمروں کے سامنے لچک دکھائی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایران کی معاشی ناکہ بندی کے نتیجے میں وہاں کی سخت گیر حکومت اپنی طاقت اور مقبولیت میں مزید اضافہ کر لے گی، جبکہ عالمی سطح پر امریکہ ایک اور جنگ ہارتا ہوا اور تنہا دکھائی دے گا، جو کہ اس کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوگا۔

ایران کا ’اقتصادی جنگ‘ میں شامل ممالک کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ: آبنائے ہرمز کی بندش اور ایٹمی پالیسی میں تبدیلی کی دھمکی

محمود احمد, August 23,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کردہ معاشی دباؤ کے تناظر میں ایک انتہائی سخت اور دھمکی آمیز بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی ’اقتصادی جنگ‘ میں اس کا ساتھ دینے والے تمام ممالک کو اپنا براہِ راست ’دشمن‘ تصور کرے گا اور ان کے خلاف جوابدہ اقدامات کیے جائیں گے۔ محسن رضائی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری چھ ماہ طویل تنازع اور معاشی تعطل کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

محسن رضائی نے اپنے انٹرویو کے دوران عالمی بحری تجارت بالخصوص خلیج فارس کی سب سے اہم شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ کے حوالے سے شدید دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی ملک نے ایران کے خلاف امریکی معاشی ناکہ بندی یا پابندیوں میں حصہ لیا، تو ایران آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے ’تیل کا ایک قطرہ‘ بھی باہر نہیں جانے دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی طاقت کا استعمال کرنے میں ناکامی کے بعد امریکہ اب اقتصادی ناکہ بندی کے ذریعے تہران پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جس کے جواب میں ایران نہ صرف اپنی جنگی حکمتِ عملی اور انداز میں بنیادی تبدیلیاں لا رہا ہے بلکہ اپنی روایتی سفارتی پالیسی کو بھی نیا موڑ دے رہا ہے۔

ایٹمی پروگرام اور عالمی معاہدوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے عالمی اداروں کے رویے پر شدید تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ امریکہ کے بلااشتعال اقدامات اور حملوں کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک میں ایٹم بم حاصل کرنے کی خواہش میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی قوانین اور این پی ٹی جیسے معاہدا ت کسی ملک کو غیر ملکی حملوں سے نہیں بچا سکتے، تو ایران ایٹم بم کیوں حاصل نہ کرے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر عمل پیرا رہتے ہوئے آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون کیا، لیکن اس کے باوجود اسے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد اب دنیا بھر میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ ایٹمی ہتھیار ہی کسی ملک کی سلامتی اور دفاعی ڈیٹرنس کی واحد ضمانت ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف ‘غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی’ کے آغاز کا اعلان

محمود احمد, August 20,2026

اسلام آباد / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک “غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی” شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے یہ اہم اور سخت موقف اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری ایک بیان کے ذریعے سامنے لایا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں لکھا کہ انہوں نے ایران کو ایک اچھے اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے بھرپور اور مکمل موقع فراہم کیا تھا، لیکن ایرانی قیادت اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے اس نئے اور شدید معاشی دباؤ کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی و معاشی کشیدگی میں ایک بار پھر شدید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس نئے اعلان کے بعد عالمی معاشی منڈیوں خصوصاً تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

ایران کی متحدہ عرب امارات پر میزائل حملوں کے الزامات کی تردید، یو اے ای کا تہران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین معطل کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 19,2026

تہران/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی ایک نئی لہر کے دوران ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے متحدہ عرب امارات کے ان بیانات اور الزامات کو صریحاً مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے یو اے ای کی سرزمین پر میزائل داغے ہیں۔ ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران پر لگائے جانے والے یہ تمام الزامات بالکل بے بنیاد، من گھڑت اور علاقے کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب، ان الزامات اور مبینہ حملوں کے فوری ردِعمل میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تمام قسم کے تجارتی، معاشی اور مالیاتی لین دین کو اگلے نوٹس تک معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اماراتی حکام کی جانب سے اس فیصلے سے متعلق تمام متعلقہ بینکنگ، تجارتی اور مالیاتی اداروں کو احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اس یکطرفہ فیصلے کے بعد دونوں خلیجی ممالک کے درمیان سالہا سال سے قائم اربوں ڈالر کے تجارتی تعلقات، کاروباری ساہوکاری اور مالیاتی روابط شدید متاثر ہوں گے، جس سے پورے خلیجی خطے کی معاشی صورتحال، تجارتی نقل و حمل اور سفارتی تعلقات پر انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

جنوبی کوریا سے ناراضگی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کا حکم

محمود احمد, August 17,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مجوزہ مشترکہ فوجی مشقوں کا دائرہ کار فوری طور پر محدود کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے یہ قدم جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوششوں میں عدم تعاون اور مدد سے انکار کے بعد اٹھایا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور یہ مشترکہ فوجی مشقیں نہ صرف انتہائی مہنگی ہیں بلکہ شمالی کوریا کو ایک نامناسب اور دشمنانہ پیغام بھی دیتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے گزشتہ دورِ صدارت کے دوران شمالی کوریا دھمکی آمیز رویے سے گریزاں رہا اور احترام کا مظاہرہ کرتا رہا۔ چونکہ اس وقت مشقوں کو مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے انہوں نے وزیرِ دفاع (وزیرِ جنگ) پیٹ ہیگستھ کو ہدایت کی ہے کہ ان کے حجم اور دائرہ کار میں نمایاں کمی لائی جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے حال ہی میں جنوبی کورین صدر سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی مہم میں شمولیت کی درخواست کی تھی جسے انہوں نے رد کر دیا۔ واضح رہے کہ 11 روز پر مشتمل ان مشقوں میں 18 ہزار جنوبی کورین فوجیوں نے حصہ لینا تھا، جس پر شمالی کوریا نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے جنگ کی تیاری قرار دیا تھا۔