Latest news

پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

Spread the love

کاشف عباسی ,October15,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اکتوبر 2026ء

آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حادثے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ فیڈریشن نے کہا ہے کہ تحقیقات میں عمارت کے مالک کے ساتھ ان متعلقہ حکام کی ذمہ داری بھی متعین کی جائے جن کی مبینہ غفلت کے باعث خستہ حال عمارت میں اسکول چلتا رہا۔

فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو ایسے واقعات دوبارہ پیش آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بچوں کی تعلیم کے لیے استعمال ہونے والی عمارتوں کی حالت، حفاظتی انتظامات اور تعمیراتی معیار کی جانچ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

کاشف مرزا نے مطالبہ کیا کہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے کہ آیا متعلقہ عمارت کی تعمیر میں ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی تھی اور اسکول کی رجسٹریشن کے وقت یا بعد میں عمارت کا باقاعدہ معائنہ ہوا تھا یا نہیں۔ انہوں نے اس امر کی بھی تحقیقات پر زور دیا کہ عمارت کی حالت کے باوجود اسے تعلیمی ادارے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔

فیڈریشن کے صدر نے کہا کہ تحقیقات میں ان حکام کا بھی تعین ہونا چاہیے جنہوں نے مبینہ طور پر خستہ حال عمارت میں اسکول چلانے کی اجازت دی یا ضروری این او سی جاری کیے۔ ان کے مطابق صرف عمارت کے مالک کی ذمہ داری کا جائزہ لینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ اجازت نامے جاری کرنے اور حفاظتی معائنوں کے عمل کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

اس واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت، اسکولوں کی رجسٹریشن اور متعلقہ محکموں کی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ اسکولوں کی عمارتوں کا باقاعدہ معائنہ ہو اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

تاہم حادثے کی وجوہات، عمارت کی اصل حالت اور متعلقہ حکام کی ممکنہ غفلت کا تعین تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا کے بیان اور مطالبات پر مبنی ہے۔ عمارت کی خستہ حالی، گنجائش سے زیادہ بچوں کی موجودگی اور متعلقہ حکام کی غفلت سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات میں شامل نہیں۔

ماخذ: آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کا بیان