

محمود احمد, October26,2026
کولمبو (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اکتوبر 2026ء
سری لنکا کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ جزیرے کے جنوب مشرقی ساحل کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں طبی امداد کے لیے مدد طلب کرنے والے 40 ایرانی ملاحوں کے علاج اور وطن واپسی کے انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ سری لنکن حکام کے مطابق ایرانی بحری جہازوں کی جانب سے ہفتے کے روز ہنگامی پیغام موصول ہوا تھا، جس میں ملاحوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق امدادی کارروائی کی منصوبہ بندی کولمبو میں ایرانی سفارت خانے نے کی۔ حکام کی جانب سے ملاحوں کی طبی حالت، ان کے بحری جہاز کی شناخت اور امدادی آپریشن کی مزید تفصیلات فوری طور پر فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث ایرانی بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور سمندری راستوں تک رسائی سے متعلق خدشات پائے جاتے ہیں۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث بعض ایرانی بحری جہاز سمندر میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم سری لنکا کے قریب موجود ان 40 ملاحوں کی صورتِ حال اور ان کے جہاز کے ناکہ بندی سے براہِ راست متاثر ہونے کی تفصیلات واضح نہیں ہیں۔
ہنگامی پیغام کے بعد امدادی کارروائی
سری لنکن وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ایرانی بحری جہازوں کی جانب سے ہفتے کے روز طبی امداد کی فوری ضرورت سے متعلق پیغام موصول ہوا۔ اس کے بعد ملاحوں کی مدد اور انہیں محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی۔
سمندر میں طبی ہنگامی صورتِ حال کے دوران بروقت امداد فراہم کرنا اہم ہوتا ہے، کیونکہ بحری جہازوں پر موجود افراد کو ہسپتالوں اور طبی سہولتوں تک فوری رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ اگر کسی جہاز پر شدید بیمار یا زخمی افراد موجود ہوں تو انہیں ساحل تک منتقل کرنے، طبی معائنے اور ضرورت کے مطابق مزید علاج کی فراہمی کے انتظامات کرنا پڑتے ہیں۔
سری لنکن حکام کے مطابق اس معاملے میں ایرانی سفارت خانے نے امدادی آپریشن کی منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا۔ تاہم دستیاب بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ملاحوں کو کس بندرگاہ یا طبی مرکز منتقل کیا جائے گا اور ان کی وطن واپسی کے لیے کون سا سفری انتظام اختیار کیا جائے گا۔
سری لنکا کا غیر جانب دار مؤقف
سری لنکا نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں غیر جانب دار ہے۔ اس کے باوجود ملک نے مختلف مواقع پر ایرانی ملاحوں کی مدد کی ہے اور موجودہ کارروائی کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی سمندری حدود میں انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں امداد کی فراہمی ایک اہم انسانی اور قانونی معاملہ ہے۔ سمندری سلامتی کے اصولوں کے تحت ہنگامی صورتِ حال میں مدد طلب کرنے والے افراد کی جان بچانے اور انہیں ضروری طبی سہولتوں تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سری لنکا بحرِ ہند میں اہم جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے۔ اس کے قریب سے گزرنے والے سمندری راستے بین الاقوامی تجارت اور بحری آمدورفت کے لیے اہم ہیں، اس لیے وہاں پیش آنے والے انسانی ہنگامی واقعات میں مقامی حکام، سفارتی مشنز اور متعلقہ بحری اداروں کے درمیان رابطہ ضروری ہو جاتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا پس منظر
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع نے بحری سرگرمیوں اور سمندری راستوں کی صورتِ حال کو بھی متاثر کیا ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق بعض ایرانی بحری جہازوں کو سمندر میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم سری لنکا کے ساحل کے قریب موجود جہاز کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے تک اسے براہِ راست اسی ناکہ بندی کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
موجودہ معاملے میں فوری ترجیح 40 ملاحوں کی صحت، سلامتی اور محفوظ منتقلی ہے۔ علاج کے بعد ان کی وطن واپسی کے انتظامات مکمل کرنے کے لیے سری لنکن حکام اور ایرانی سفارت خانے کے درمیان رابطہ اہم ہوگا۔
تاحال دستیاب معلومات میں ملاحوں کی طبی حالت، ان کی منتقلی کے مکمل شیڈول یا ایران واپسی کی حتمی تاریخ کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔ ان امور پر مزید معلومات متعلقہ حکام کے آئندہ بیانات سے سامنے آنے کی توقع ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: سری لنکا نے 40 ایرانی ملاحوں کی مدد، علاج اور وطن واپسی کے انتظامات شروع ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے بحری جہاز کی شناخت، طبی حالت اور امریکی بحری ناکہ بندی سے ممکنہ تعلق کے بارے میں مزید مصدقہ معلومات دستیاب نہیں، اس لیے ان پہلوؤں کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔
ماخذ: سری لنکا کی وزارتِ خارجہ، کولمبو میں ایرانی سفارت خانہ