Latest news

حوثی حملوں کے باعث ریاض ایئرپورٹ کی 86 فیصد پروازیں منسوخ، سعودی عرب میں فضائی بحران شدت اختیار کر گیا

Spread the love

محمود احمد, October25,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اکتوبر 2026ء

یمن کے حوثی گروہ کے حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے، جہاں اکتوبر کے دوران طے شدہ پروازوں کی بڑی تعداد منسوخ کر دی گئی۔ فضائی آمدورفت کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والے ادارے سیریم کے مطابق 8 سے 25 اکتوبر کے دوران ریاض ایئرپورٹ سے روانگی اور آمد کے لیے طے شدہ 4,736 پروازوں میں سے 4,071 منسوخ ہوئیں، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 86 فیصد بنتی ہیں۔

یہ صورتِ حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔ ان حملوں کے باعث ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات سمیت اہم مقامات کی سکیورٹی پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ پروازوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی نے سعودی عرب کے فضائی رابطوں، مسافروں کی آمدورفت اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔

ریاض ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن جزوی طور پر بحال

سعودی حکام نے 10 اکتوبر سے معطل ریاض ایئرپورٹ کی سرگرمیاں اتوار 25 اکتوبر کو جزوی طور پر بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق ٹرمینل ون سے اندرونِ ملک پروازیں دوبارہ شروع کی گئیں، جبکہ ٹرمینل ٹو کو سعودی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص کیا گیا۔

تاہم جزوی بحالی کے باوجود فضائی آمدورفت معمول پر نہیں آ سکی۔ حوثی گروہ نے پیر کو دعویٰ کیا کہ اس نے ریاض کے ہوائی اڈے کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے اور اسے فوجی ہدف قرار دیا۔ اس بیان کے بعد ایئرپورٹ کی سکیورٹی اور پروازوں کے تسلسل سے متعلق خدشات برقرار رہے۔

حوثیوں کی جانب سے حملے کے دعوے اور سعودی حکام کے فضائی آپریشن بحال کرنے کے اقدامات ایک ایسے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں جہاں مسافروں اور فضائی کمپنیوں کو مسلسل بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال کے مطابق فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔

سعودی عرب بھر میں ہزاروں پروازیں منسوخ

سیریم کے اعداد و شمار کے مطابق 8 سے 25 اکتوبر کے دوران سعودی عرب کے ہوائی اڈوں سے روانہ ہونے والی 7,800 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئیں۔ یہ تعداد ملک بھر میں طے شدہ پروازوں کا تقریباً 45 فیصد بتائی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 12 اکتوبر کو پروازوں کی منسوخی کی شرح اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جب 60 فیصد سے زیادہ طے شدہ پروازیں منسوخ ہوئیں۔ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ فضائی آپریشن میں خلل صرف ریاض تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے دوسرے شہروں کے ہوائی اڈے بھی متاثر ہوئے۔

مختلف ہوائی اڈوں پر منسوخی کی شرح میں نمایاں فرق سامنے آیا۔ سیریم کے مطابق ریاض میں 86 فیصد پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ دمام میں یہ شرح 42 فیصد اور ابہا میں 46.7 فیصد رہی۔ حوثیوں نے دمام اور ابہا کے ہوائی اڈوں پر بھی حملوں کے دعوے کیے ہیں، تاہم ان دعووں کی تفصیلات اور اثرات کے بارے میں الگ الگ تصدیق ضروری ہے۔

نجران ایئرپورٹ پر تمام پروازیں منسوخ

سعودی عرب کے بعض چھوٹے علاقائی ہوائی اڈوں پر صورتِ حال مزید سنگین رہی۔ یمن کی سرحد کے قریب واقع نجران ایئرپورٹ سے تمام پروازیں منسوخ کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔

سرحدی علاقوں میں فضائی رابطوں کی بندش سے مقامی مسافروں، کاروباری افراد اور دیگر ضروری سفر کرنے والوں کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اگر منسوخیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو متبادل ذرائع سے سفر کی طلب بڑھنے اور مسافروں کے سفری اخراجات میں اضافے کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

فضائی آپریشن میں خلل کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سکیورٹی صورتِ حال کس حد تک بہتر ہوتی ہے اور ایئرپورٹ انتظامیہ کب مکمل شیڈول بحال کرنے کے قابل ہوتی ہے۔

بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے فیصلے

حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے اپنی پروازیں نومبر تک معطل کر دی ہیں۔ امریکی فضائی کمپنی ڈیلٹا ایئر لائنز نے بھی سعودی دارالحکومت کے لیے پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ اگلے سال تک مؤخر کر دیا ہے۔

ایئرلائنز عموماً ایسے حالات میں پروازوں کے شیڈول کا جائزہ لیتی ہیں اور مسافروں، عملے اور طیاروں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہیں۔ پروازوں کی معطلی سے مسافروں کو متبادل پروازیں تلاش کرنے، بکنگ تبدیل کرنے یا سفر مؤخر کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

ریاض آنے اور وہاں سے دوسرے ممالک جانے والے مسافروں کے لیے یہ صورتِ حال خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ بین الاقوامی پروازوں کی بندش یا کمی سے رابطہ پروازیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سفر سے پہلے اپنی فضائی کمپنی سے پرواز کی تازہ صورتِ حال کی تصدیق کریں۔

اہم تقریبات بھی متاثر

فضائی آپریشن میں خلل کے باعث ریاض میں ہونے والی متعدد تقریبات بھی منسوخ یا ملتوی کرنا پڑی ہیں۔ ان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے متعلق ایک اہم کانفرنس بھی شامل ہے، جسے 2027 تک ملتوی کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔

بڑی بین الاقوامی کانفرنسوں میں سرمایہ کاروں، کاروباری رہنماؤں اور مختلف ممالک کے نمائندوں کی شرکت کے لیے فضائی رابطے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پروازوں کی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث منتظمین کو شرکا کی آمدورفت، رہائش اور دیگر انتظامات پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایسے واقعات کے ملتوی ہونے سے کاروباری ملاقاتوں، سرمایہ کاری سے متعلق سرگرمیوں اور متعلقہ شعبوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں منسوخ یا ملتوی ہونے والی تمام تقریبات کی مکمل فہرست اور ان کے مالی نقصانات کی تفصیلات موجود نہیں۔

فضائی بحران کا اگلا مرحلہ

ریاض ایئرپورٹ کی جزوی بحالی کے باوجود پروازوں کی بڑی تعداد کی منسوخی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فضائی سرگرمیاں معمول پر لانے کے لیے سکیورٹی صورتِ حال کا مستحکم ہونا ضروری ہے۔ سعودی حکام اور فضائی کمپنیوں کے لیے آئندہ دنوں میں پروازوں کی بحالی، مسافروں کی حفاظت اور بین الاقوامی رابطوں کو برقرار رکھنا اہم چیلنج ہوگا۔

حوثیوں کی جانب سے ریاض ایئرپورٹ کو فوجی ہدف قرار دینے کے دعوے کے بعد صورتِ حال مزید حساس ہو گئی ہے۔ تاہم پروازوں کے مکمل شیڈول کی بحالی، منسوخیوں میں کمی اور متاثرہ تقریبات کے نئے انتظامات سے متعلق حتمی صورتِ حال آنے والے اعلانات پر منحصر ہوگی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: پروازوں کی منسوخی کے اعداد و شمار سیریم سے منسوب ہیں، جبکہ حوثیوں کی جانب سے ریاض ایئرپورٹ پر دوبارہ حملے کا دعویٰ الگ طور پر منسوب کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات میں ہر حملے کی آزادانہ تصدیق اور تمام منسوخیوں کی براہِ راست وجہ کی مکمل تفصیل موجود نہیں۔

ماخذ: رائٹرز، سیریم، سعودی ایئرپورٹ انتظامیہ، حوثی گروہ کے بیانات