Latest news

تہران میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کا مشترکہ اجلاس شروع

Spread the love

محمود احمد, October25,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اکتوبر 2026ء

ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کا مشترکہ اجلاس ایرانی دارالحکومت تہران میں شروع ہو گیا ہے، جس میں خطے کی سکیورٹی صورتِ حال، جاری کشیدگی میں کمی اور سفارتی رابطوں کے ذریعے مسائل کے حل پر بات چیت متوقع ہے۔ اس اجلاس میں چاروں ممالک کے اعلیٰ سیاسی، دفاعی اور سکیورٹی حکام شریک ہیں۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اجلاس کی تصاویر اور ویڈیو جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترکی کے قومی انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن اور پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی اجلاس میں شریک ہیں۔

ایرانی حکام کی جانب سے جاری کی گئی دوسری تصویر میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک علیحدہ ویڈیو میں محسن رضائی اور عباس عراقچی کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وفود کے ساتھ ملاقات کرتے دکھایا گیا ہے۔

کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل پر توجہ

سعودی عرب نے اجلاس سے قبل جاری بیان میں کہا تھا کہ ان مذاکرات کا مقصد خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی اطلاعات کے باعث علاقائی سلامتی کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایسے حالات میں چاروں ممالک کے اعلیٰ حکام کا ایک ہی مقام پر جمع ہونا سفارتی رابطوں اور مشترکہ مشاورت کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

تاہم اجلاس کے آغاز کے وقت تک اس کے تمام ایجنڈے، زیرِ بحث تجاویز یا کسی ممکنہ معاہدے کی تفصیلات مکمل طور پر سامنے نہیں آئی تھیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ملاقات کے نتیجے میں کسی حتمی فیصلے یا مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق ہو چکا ہے۔

پاکستان کا سفارتی اور سکیورٹی کردار

پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی شرکت اس اجلاس میں ملک کی دفاعی اور داخلی سکیورٹی قیادت کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔

پاکستان کے لیے علاقائی استحکام اہم ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام توانائی کی قیمتوں، تجارت، پاکستانی شہریوں کے روزگار اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی سلامتی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی شرکت بھی اس تناظر میں اہم ہے کہ سعودی عرب حالیہ عرصے میں میزائل اور ڈرون حملوں سے متعلق سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ ترکی کی نمائندگی قومی انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت میں صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔

معاہدۂ مکہ اور علاقائی تعاون

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے رواں سال 7 اگست کو دفاعی اور سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے فراہم کردہ معلومات میں ’معاہدۂ مکہ‘ کہا گیا ہے۔ اس معاہدے کے بعد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی رابطوں اور تعاون کو مزید اہمیت حاصل ہوئی ہے۔

موجودہ اجلاس میں ایران کی شرکت علاقائی رابطہ کاری کے دائرے کو وسیع کرتی ہے۔ تاہم چاروں ممالک کے درمیان ہونے والی مشاورت کو کسی نئے مشترکہ دفاعی معاہدے یا مخصوص فوجی فیصلے کے مترادف قرار دینے کے لیے مزید باضابطہ معلومات درکار ہوں گی۔

اجلاس کی اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ علاقائی ممالک براہِ راست بات چیت کے ذریعے اختلافات کم کرنے، سکیورٹی خدشات پر تبادلۂ خیال کرنے اور ممکنہ سفارتی راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آنے والے بیانات سے واضح ہوگا کہ اس مشاورت کے نتیجے میں کوئی مشترکہ اعلامیہ، عملی تجویز یا آئندہ اجلاس طے کیا جاتا ہے یا نہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

تہران میں چاروں ممالک کے اعلیٰ حکام کے مشترکہ اجلاس کے آغاز کی اطلاع ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کی جاری کردہ تصاویر اور ویڈیو سے متعلق ہے۔ سعودی عرب نے مذاکرات کا مقصد کشیدگی میں کمی اور معاہدے کی راہ ہموار کرنا بتایا ہے، تاہم اجلاس کے حتمی نتائج یا کسی نئے معاہدے کی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔

ماخذ: ایران کا سرکاری نشریاتی ادارہ آئی آر آئی بی، سعودی عرب کا سرکاری بیان