

محمود احمد, October19,2026
صوفیہ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اکتوبر 2026ء
اسرائیل کے شہر تل ابیب سے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا جانے والی آسٹریئن ایئرلائنز کی ایک مسافر پرواز کا رخ مبینہ بم دھمکی کے بعد بلغاریہ کی جانب موڑ دیا گیا۔ ایئربس اے 320 طیارے کو ہنگامی طور پر بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ کے ہوائی اڈے پر اتارا گیا، جہاں مسافروں کو احتیاطی تدابیر کے تحت طیارے سے باہر نکال لیا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
بلغاریہ کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پرواز اتوار کی شب تل ابیب سے ویانا جا رہی تھی کہ اسے موصول ہونے والی سکیورٹی اطلاع کے بعد صوفیہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بلغاریہ کے حکام نے طیارے کی محفوظ لینڈنگ اور مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے۔
بلغاریہ کی فضائیہ نے بھی کارروائی میں حصہ لیا اور مسافر طیارے کو حفاظتی حصار فراہم کرنے کے لیے ایک میگ 29 جنگی طیارہ روانہ کیا۔ جنگی طیارے کی تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام نے دھمکی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فضائی نگرانی اور حفاظتی انتظامات کو ترجیح دی۔
طیارے میں 51 مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے
آسٹریئن ایئرلائنز کے ترجمان نے بتایا کہ متعلقہ پرواز میں 51 مسافر اور عملے کے چھ ارکان موجود تھے۔ ایئرلائن نے دھمکی موصول ہونے کی تصدیق کی، تاہم ابتدائی طور پر اس کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
طیارے کے صوفیہ پہنچنے کے بعد متعلقہ حکام نے اس کی سکیورٹی تلاشی لی۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ابتدائی الرٹ جاری ہونے کے تقریباً 30 منٹ بعد طیارے کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اس دوران مسافروں کو طیارے سے اتار کر حفاظتی کارروائی مکمل کی گئی۔
حکام نے طیارے کی تلاشی کے دوران کسی خطرناک چیز کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی۔ آسٹریئن ایئرلائنز کے مطابق بعد ازاں پرواز نے تمام مسافروں کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا اور بحفاظت ویانا پہنچ گئی۔
اس پیش رفت سے مسافروں کو ممکنہ خطرے کے باعث ہونے والی پریشانی کے باوجود سفر مکمل کرنے کا موقع ملا۔ تاہم دھمکی کس ذریعے سے موصول ہوئی، اس کے پیچھے کون تھا اور اس کا مقصد کیا تھا، ان سوالات کے جوابات تحقیقات کے بعد ہی سامنے آسکتے ہیں۔
بلغاریہ اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں بم دھمکی کی اطلاع
بلغاری اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ طیارے کو بم دھمکی موصول ہوئی تھی۔ آسٹریئن ایئرلائنز نے بھی دھمکی کی تصدیق کی، لیکن اس کی نوعیت یا ممکنہ ذمہ داروں کے بارے میں کوئی حتمی معلومات فراہم نہیں کیں۔
حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ دھمکی حقیقی خطرے کی بنیاد پر دی گئی تھی یا کسی نے جان بوجھ کر فضائی سفر میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ ایسی تحقیقات میں عام طور پر دھمکی کے ذریعے، اس کے متن اور دستیاب سکیورٹی معلومات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
طیارہ بلغاریہ کی طرف موڑنے سے پہلے رومانیہ کی فضائی حدود میں تھا۔ اس صورتِ حال میں مختلف ممالک کے فضائی ٹریفک اور سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ کسی مسافر طیارے کو ہنگامی طور پر دوسرے ملک میں اتارنے کے لیے فضائی حدود، ہوائی اڈے اور حفاظتی انتظامات میں فوری ہم آہنگی درکار ہوتی ہے۔
گزشتہ ماہ فلائی دبئی کی پرواز میں بھی سکیورٹی واقعہ
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب گزشتہ ماہ تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز میں بھی سنگین سکیورٹی صورتِ حال سامنے آئی تھی۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس پرواز میں ایک پائلٹ نے کپتان پر حملہ کرکے طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تھی۔
تاہم پرواز کے عملے اور مسافروں نے مبینہ حملہ آور کو قابو میں کر لیا، جس کے بعد طیارے کو سعودی عرب میں بحفاظت اتار لیا گیا تھا۔ دونوں واقعات کی نوعیت مختلف ہے، لیکن ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسافر طیاروں میں سکیورٹی سے متعلق کسی بھی اطلاع یا غیر معمولی صورتِ حال کو فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
موجودہ واقعے میں کسی دھماکا خیز مواد یا حقیقی خطرے کی تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ گزشتہ ماہ کے واقعے میں مبینہ طور پر طیارے کے اندر پُرتشدد کارروائی اور ہائی جیکنگ کی کوشش کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس لیے دونوں واقعات کو ایک ہی نوعیت کا قرار دینے کے بجائے ان کی الگ الگ تحقیقات اور حقائق کی بنیاد پر جائزہ لینا ضروری ہے۔
فضائی سفر کی سلامتی پر دوبارہ توجہ
بم دھمکیوں کے باعث پروازوں کا رخ موڑنا ایئرلائنز اور ہوائی اڈوں کے لیے اضافی انتظامی اور مالی اخراجات کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ مسافروں کو تاخیر، غیر یقینی صورتِ حال اور سفری منصوبوں میں تبدیلی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
ایسے واقعات میں حکام کے لیے ایک طرف ممکنہ خطرے کو نظرانداز نہ کرنا ضروری ہوتا ہے، تو دوسری جانب تحقیقات کے بغیر کسی شخص یا گروہ کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز بھی اہم ہے۔ موجودہ معاملے میں طیارے کی تلاشی کے بعد کسی خطرے کی تصدیق نہیں ہوئی اور پرواز بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ گئی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: آسٹریئن ایئرلائنز کی پرواز کو مبینہ بم دھمکی کے بعد صوفیہ منتقل کیا گیا، لیکن تلاشی کے دوران کسی خطرے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور دھمکی کے منبع یا ذمہ داروں کے بارے میں حتمی نتیجہ سامنے آنے تک مزید دعووں کو مصدقہ حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔
ماخذ: بلغاریہ کی وزارتِ ٹرانسپورٹ، آسٹریئن ایئرلائنز، بلغاریہ کے حکام، اسرائیلی ذرائع ابلاغ