Latest news

چین کا اروناچل پردیش میں سرحدی کشیدگی پر ردِعمل، بھارت کے ساتھ امن برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر

Spread the love

منصور احمد,October25,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اکتوبر 2026ء

چین نے بھارتی ریاست اروناچل پردیش میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کی اطلاعات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سرحدی معاملات پر سفارتی اور فوجی ذرائع سے رابطے جاری ہیں۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ طے پانے والے متعلقہ معاہدوں اور اہم اتفاقِ رائے پر سختی سے عمل کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ غلط فہمی سے بچنے کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔

ترجمان کے مطابق چین اپنی علاقائی خودمختاری کے تحفظ اور سرحدی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے سرحدی علاقوں میں باقاعدگی سے گشت اور نگرانی کی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت بھی دوطرفہ معاہدوں پر عمل درآمد اور سرحدی امن کے لیے چین کے ساتھ تعاون کرے گا۔

اروناچل پردیش میں فوجیوں کے آمنے سامنے آنے کی اطلاعات

چین کا یہ بیان بھارتی انڈو تبتین بارڈر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل شتروگھن کپور کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران اروناچل پردیش میں متعدد مقامات پر بھارتی اور چینی فوجی آمنے سامنے آئے ہیں۔

شتروگھن کپور کے مطابق یہ صورتِ حال برقرار تھی، تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان واقعات کی درست تعداد، مقامات اور ان کے دوران کسی قسم کے جانی نقصان کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔

اروناچل پردیش چین اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے متنازع سرحدی معاملات میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے بعض حصوں پر اختلافات موجود ہیں، جس کے باعث سرحدی گشت اور فوجی نقل و حرکت کے دوران کبھی کبھار تناؤ پیدا ہوتا رہا ہے۔

دونوں ممالک سرحدی علاقوں میں فوجی موجودگی برقرار رکھتے ہیں، جبکہ سرحدی معاملات کے حل اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر مذاکرات بھی کیے جاتے رہے ہیں۔

بھارت نے بھی رابطوں کی تصدیق کی

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے 23 اکتوبر کو کہا تھا کہ دونوں ممالک لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ حل طلب معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق سفارتی اور فوجی ذرائع کو استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ سرحدی مسائل پر پیش رفت ہو اور کسی غلط فہمی یا غلط اندازے کے نتیجے میں صورتِ حال مزید خراب نہ ہو۔

بھارتی مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دہلی بھی سرحدی رابطوں کو برقرار رکھنے اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے سنبھالنے پر زور دے رہا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے بیانات میں سرحدی سرگرمیوں اور حالیہ واقعات کی تفصیلات یکساں طور پر بیان نہیں کی گئیں۔

سرحدی معاہدوں اور مذاکرات کی اہمیت

چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات کئی دہائیوں سے دوطرفہ تعلقات پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی اور سفارتی سطح پر رابطوں کا مقصد سرحدی علاقوں میں غیر متوقع صورتِ حال کو روکنا، گشت کے دوران پیدا ہونے والے اختلافات کو حل کرنا اور فوجیوں کے درمیان براہِ راست تصادم کے امکانات کم کرنا ہے۔

حالیہ بیانات میں دونوں جانب سے معاہدوں پر عمل درآمد اور رابطوں کو برقرار رکھنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم سرحدی امن کے لیے صرف بیانات کافی نہیں ہوں گے؛ اس کے لیے متعلقہ فریقوں کے درمیان مسلسل رابطہ، طے شدہ طریقۂ کار کی پابندی اور اختلافی معاملات پر عملی پیش رفت بھی اہم ہوگی۔

چین نے بھارت کے ساتھ تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ بھارت نے بھی سفارتی اور فوجی ذرائع سے بات چیت جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے۔ اب توجہ اس بات پر رہے گی کہ دونوں ممالک حالیہ واقعات کے بعد سرحدی صورتِ حال کو کس طرح سنبھالتے ہیں اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: چین اور بھارت دونوں نے سرحدی رابطوں اور امن برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اروناچل پردیش میں فوجیوں کے آمنے سامنے آنے کی اطلاعات بھارتی سرحدی حکام سے منسوب ہیں، جبکہ واقعات کی مکمل تفصیلات اور ان کے نتائج کے بارے میں مزید آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

ماخذ: چین کی وزارتِ خارجہ، بھارت کی وزارتِ خارجہ، انڈو تبتین بارڈر پولیس