

منصور احمد,October28,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 17 برس سے زیرِ التوا ماڈل جیل کا منصوبہ مکمل ہونے کے بعد وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جیل کا دورہ کیا اور وہاں قیدیوں کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران جیل کے ہسپتال، کچن، میس، بیرکس اور انتظار گاہ کا معائنہ کیا گیا۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے جیل میں قیدیوں کے لیے تیار کیے گئے کھانے کو خود چکھ کر اس کے معیار کا جائزہ بھی لیا۔ دورے کا مقصد جیل میں دستیاب سہولیات، خوراک کے انتظامات اور قیدیوں کی ضروریات کے حوالے سے صورتِ حال کا مشاہدہ کرنا تھا۔
جیل کے افتتاح اور قیدیوں کی منتقلی کا منصوبہ
وزیرِ داخلہ کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کو اس کے افتتاح کے لیے مدعو کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں تقریباً 1,500 قیدیوں کو نئی جیل منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس وقت اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے قیدی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھے جاتے ہیں، جس کے باعث عدالتوں میں پیشی کے لیے قیدیوں کی آمدورفت اور سکیورٹی انتظامات بھی ایک اہم انتظامی معاملہ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ماڈل جیل سیکٹر ایچ سولہ میں قائم کی گئی ہے۔ اس منصوبے کا آغاز کئی برس پہلے ہوا تھا، لیکن مختلف مراحل میں تاخیر کے باعث اس کی تکمیل مسلسل آگے بڑھتی رہی۔ تعمیراتی کام کی رفتار تیز کرنے اور باقی ماندہ انتظامات مکمل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں نے گزشتہ عرصے میں متعدد اقدامات کیے۔
جیل میں ہسپتال اور کھانے کی تیاری کے شعبوں کا معائنہ اس لیے بھی اہم ہے کہ قیدیوں کو بنیادی طبی سہولتوں، مناسب خوراک اور محفوظ رہائش کی فراہمی جیل انتظامیہ کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ بیرکس اور انتظار گاہ کے انتظامات کا جائزہ بھی اسی سلسلے کا حصہ تھا۔
قیدیوں کی فلاح اور انتظامی تیاری
ماڈل جیل کے فعال ہونے کے بعد اس کی کارکردگی کا انحصار صرف عمارت کی تکمیل پر نہیں ہوگا بلکہ طبی عملے، تربیت یافتہ جیل اہلکاروں، خوراک کے معیار، صفائی، سکیورٹی اور قیدیوں کی قانونی ضروریات کے مؤثر انتظام پر بھی ہوگا۔ قیدیوں کے حقوق اور انسانی وقار کا تحفظ جیل نظام کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔
حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں قیدیوں کی منتقلی کے انتظامات کیے جائیں گے، جبکہ مزید توسیع اور دوسرے مرحلے کی تفصیلات بعد میں سامنے آ سکتی ہیں۔ فی الحال جیل کے باضابطہ افتتاح اور منتقلی کے عملی شیڈول کا انتظار ہے۔
اس منصوبے کی تکمیل اسلام آباد کے لیے ایک طویل عرصے سے زیرِ التوا بنیادی ڈھانچے کے منصوبے میں پیش رفت ہے۔ اس کے عملی نتائج کا اندازہ اس وقت ہوگا جب جیل باقاعدہ کام شروع کرے گی اور وہاں قیدیوں کی منتقلی مکمل ہو جائے گی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اسلام آباد ماڈل جیل کی تعمیر مکمل ہونے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم باضابطہ افتتاح اور قیدیوں کی منتقلی الگ مراحل ہیں۔ حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں تقریباً 1,500 قیدی منتقل کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
ماخذ: وزارتِ داخلہ پاکستان،