Latest news

ایتھوپیا کے سفیر کا راولپنڈی چیمبر آف کامرس کا دورہ، پاکستانی تاجروں کو سرمایہ کاری کی دعوت

Spread the love

منصور احمد,October28,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء

پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر ایچ اوبا نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کرتے ہوئے پاکستانی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو ایتھوپیا میں کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی ہے۔ دورے کے دوران کاروباری برادری کے ساتھ ایک جامع انٹرایکٹو سیشن منعقد ہوا، جس میں پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور مشترکہ کاروباری منصوبوں کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چیمبر آمد پر صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نوشیروان خلیل خان، سینئر نائب صدر وسیم اسلم، نائب صدر اکرام الرحمٰن عباسی اور ایگزیکٹو باڈی کے اراکین نے ایتھوپیا کے سفیر کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سفیر نے چیمبر کے نومنتخب عہدیداران کو مبارک باد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

ایتھوپیا میں سرمایہ کاری کے مواقع

کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عمر اوبا نے کہا کہ ایتھوپیا تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے اور افریقی منڈیوں تک رسائی کے لیے اہم مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے ایتھوپیا میں افریقی یونین اور اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے افریقہ کے ہیڈکوارٹرز کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اہمیت حاصل ہے۔

سفیر کے مطابق ایتھوپیا میں معاشی اصلاحات کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مختلف شعبوں میں مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔ صنعتی پارکس، بجلی کی دستیابی، علاقائی اقتصادی روابط اور ایتھوپین ایئرلائنز کے ذریعے بین الاقوامی فضائی رابطے ایسے عوامل ہیں جو سرمایہ کاروں کے لیے کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری افراد ایتھوپیا کی منڈی کا جائزہ لے کر اپنی مصنوعات، خدمات اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو وسعت دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان براہِ راست روابط بڑھانے سے تجارتی شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

زراعت، مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی میں امکانات

سفیر ڈاکٹر عمر اوبا نے ایتھوپیا کے لیے مجوزہ کاروباری وفد کی تفصیلات بھی شیئر کیں اور راولپنڈی کی کاروباری برادری کو دعوت دی کہ وہ ایتھوپیا کا دورہ کرکے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے۔

ان شعبوں میں زراعت، زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ، مینوفیکچرنگ، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیاحت شامل ہیں۔ کاروباری وفد کے ممکنہ دورے سے پاکستانی تاجروں کو مقامی منڈی، صنعتی سہولیات، کاروباری ضوابط اور ممکنہ شراکت داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

سرمایہ کاری کے ایسے دوروں کا ایک اہم مقصد کاروباری ضروریات کو سمجھنا اور دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان رابطے قائم کرنا ہوتا ہے۔ اگر ان روابط کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے تو برآمدات، مصنوعات کی تیاری، خدمات کی فراہمی اور سرمایہ کاری کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

راولپنڈی چیمبر کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی

صدر آر سی سی آئی نوشیروان خلیل خان نے سفیر کو چیمبر کی سرگرمیوں، کاروباری ترجیحات اور اہم صنعتی و تجارتی شعبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے سفیر کے تعاون کو اہم قرار دیا۔

نوشیروان خلیل خان نے بالخصوص فارماسیوٹیکلز، سرجیکل آلات، ٹیکسٹائل اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ کاروباری مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان شعبوں میں پاکستانی کاروباری اداروں کے تجربے اور ایتھوپیا کی منڈی کی ضروریات کو یکجا کرکے باہمی تجارت کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

صدر آر سی سی آئی نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے چیمبر کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے اور ان کے نتیجے میں مشترکہ منصوبوں، تجارتی شراکت داری اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں گے۔

دوطرفہ تجارت کے فروغ کی جانب قدم

پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان کاروباری تعلقات میں وسعت کے لیے نجی شعبے کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ کاروباری وفود کے تبادلے، تجارتی معلومات کی فراہمی اور ممکنہ سرمایہ کاروں کو مقامی منڈیوں سے متعارف کرانے کے ذریعے دونوں ممالک کے اداروں کو ایک دوسرے کی ضروریات اور مواقع سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

راولپنڈی چیمبر میں ہونے والی ملاقات نے اس حوالے سے رابطوں کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کیا۔ تاہم سرمایہ کاری کے حقیقی نتائج کا انحصار آئندہ کاروباری مذاکرات، متعلقہ قوانین، مالیاتی شرائط، منڈی کی ضروریات اور مشترکہ منصوبوں پر عملی پیش رفت پر ہوگا۔

سفیر کی دعوت اور چیمبر کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کے بعد آئندہ مرحلے میں کاروباری وفد کے دورے اور مختلف شعبوں میں ممکنہ شراکت داری پر مزید پیش رفت کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اگر دونوں جانب کے کاروباری ادارے ان امکانات کو عملی شکل دینے میں کامیاب ہوئے تو پاکستان اور ایتھوپیا کے اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے فراہم کردہ اعلامیے میں بیان کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ سرمایہ کاری کے مواقع اور ممکنہ تجارتی فوائد کا ذکر سفیر اور چیمبر کے مؤقف کے مطابق کیا گیا ہے؛ کسی مخصوص منصوبے یا سرمایہ کاری کے حتمی معاہدے کی تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

ماخذ: راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، سفیرِ ایتھوپیا کا دورہ