Latest news

اسرائیلی انتخابات کے ایگزٹ پولز: نیتن یاہو مخالف اتحاد آگے، مگر حکومت سازی کے لیے اکثریت سے محروم

Spread the love

محمود احمد, October28,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء

اسرائیل کے نشریاتی اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حکمران اتحاد کے مخالف اپوزیشن کیمپ نے مجموعی نشستوں کے اعتبار سے برتری حاصل کی ہے، تاہم اسے حکومت بنانے کے لیے درکار واضح پارلیمانی اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ دوسری جانب نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اسرائیلی پارلیمان میں سب سے بڑی واحد جماعت بننے کی پوزیشن میں ہے، جس سے انتخابی نتائج کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔

اسرائیلی ٹیلی ویژن چینلز 11، 12 اور 13 کے نشر کردہ ابتدائی اندازوں کے مطابق سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کی جماعتوں پر مشتمل کیمپ کو تقریباً 52 سے 53 نشستیں مل سکتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں نیتن یاہو کے سیاسی کیمپ، جس میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں بھی شامل ہیں، کو تقریباً 50 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار ابتدائی تخمینے ہیں، حتمی اور سرکاری نتائج نہیں۔

اسرائیل کی پارلیمان، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، مجموعی طور پر 120 ارکان پر مشتمل ہے۔ کسی بھی جماعت یا سیاسی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق دونوں بڑے سیاسی کیمپ اس حد سے نیچے دکھائی دے رہے ہیں، اس لیے حکومت سازی کے لیے چھوٹی جماعتوں کی حمایت اور اتحادی مذاکرات فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

لیکوڈ کی انفرادی پوزیشن اہم

اگرچہ اپوزیشن کی جماعتیں مجموعی طور پر نیتن یاہو کے اتحاد سے آگے دکھائی دے رہی ہیں، لیکن لیکوڈ کی ممکنہ طور پر سب سے بڑی واحد جماعت بننے کی پوزیشن وزیرِ اعظم کے لیے سیاسی اہمیت رکھتی ہے۔ اسرائیلی پارلیمانی نظام میں صرف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا حکومت بنانے کی ضمانت نہیں ہوتا۔ اصل فیصلہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کون سا رہنما مختلف جماعتوں کی حمایت حاصل کرکے 61 ارکان کی اکثریت قائم کر سکتا ہے۔

اسی لیے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات، ممکنہ اتحاد اور چھوٹی جماعتوں کے مطالبات حکومت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی بھی کیمپ مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو حکومت سازی کا عمل کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

عرب اسرائیلی جماعتوں کی نشستیں بھی اہم

ابتدائی اندازوں میں عرب اسرائیلی جماعتوں کی جانب سے ریکارڈ تعداد میں نشستیں حاصل کرنے کا امکان بھی سامنے آیا ہے۔ ان جماعتوں کی حتمی نشستوں کی تعداد اور سیاسی حکمتِ عملی اس بات پر اثر انداز ہو سکتی ہے کہ آیا کوئی بڑا سیاسی کیمپ پارلیمان میں مطلوبہ حمایت جمع کر پاتا ہے یا نہیں۔

تاہم عرب اسرائیلی جماعتوں کی نشستوں کو کسی بھی اتحاد کی حمایت تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی جانب سے حکومت سازی میں ممکنہ کردار کا تعین سیاسی مذاکرات، جماعتوں کے اعلانات اور حتمی نتائج کے بعد ہی ہو سکے گا۔

غیر حاضری والے ووٹوں سے صورتِ حال بدل سکتی ہے

ابتدائی انتخابی تخمینوں کے باوجود حتمی نتیجے کے لیے ووٹوں کی مکمل گنتی اہم ہوگی۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق تقریباً چھ لاکھ غیر حاضری والے ووٹوں کی گنتی باقی ہے، جن میں بڑی تعداد فوجی اہلکاروں کے ووٹوں کی بتائی گئی ہے۔ یہ ووٹ مجموعی تعداد کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں، جبکہ ان کی مکمل گنتی جمعرات تک مکمل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

چونکہ حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت اور دونوں سیاسی کیمپوں کے درمیان فرق محدود دکھائی دے رہا ہے، اس لیے باقی ووٹ بعض جماعتوں کی نشستوں کی تعداد اور حکومت سازی کے امکانات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے ایگزٹ پولز کو حتمی نتیجہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

صدر کا کردار اور اگلا مرحلہ

سرکاری نتائج سامنے آنے کے بعد اسرائیل کے صدر مختلف سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی دھڑوں سے مشاورت کریں گے۔ اس عمل کے بعد صدر اس سیاسی رہنما کو حکومت تشکیل دینے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں انہیں یقین ہو کہ وہ ضروری پارلیمانی حمایت حاصل کر سکتا ہے۔

یہ مرحلہ فوری طور پر مکمل ہونا ضروری نہیں اور اتحادی مذاکرات کے باعث کئی ہفتے لے سکتا ہے۔ اگر کسی رہنما کو مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہو تو سیاسی تعطل پیدا ہونے کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔

اسرائیلی انتخابات کے ابتدائی اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ اپوزیشن کی مجموعی برتری کے باوجود حکومت سازی کا فیصلہ صرف نشستوں کے ابتدائی تخمینوں سے نہیں ہوگا۔ حتمی ووٹوں کی گنتی، چھوٹی جماعتوں کے فیصلے اور صدر کی مشاورت کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ نئی حکومت کس سیاسی اتحاد کے تحت تشکیل پائے گی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ایگزٹ پولز ووٹرز کے ابتدائی جائزوں پر مبنی اندازے ہوتے ہیں اور ان میں حتمی نتائج سے فرق ممکن ہے۔ حکومت سازی کے لیے کنیسٹ میں 61 نشستوں کی حمایت اہم ہے، اس لیے کسی کیمپ کی ابتدائی برتری بذاتِ خود حکومت بنانے کی ضمانت نہیں۔

ماخذ: اسرائیلی نشریاتی چینلز 11، 12 اور 13، اسرائیلی انتخابی نظام سے متعلق فراہم کردہ معلومات