Latest news

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے اتحاد اکثریت سے دور، عرب جماعتیں فیصلہ کن بن گئیں

Spread the love

محمود احمد, October28,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء

اسرائیل میں منگل کو ہونے والے عام انتخابات کے ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق نہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد اور نہ ہی سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں دکھائی دے رہا ہے۔ مختلف اسرائیلی نشریاتی اداروں کے اندازوں میں دونوں بڑے سیاسی بلاکس کے درمیان سخت مقابلہ سامنے آیا ہے، جبکہ عرب جماعتوں کی ممکنہ نشستیں حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

دو اسرائیلی نشریاتی اداروں کے ایگزٹ پولز کے مطابق آئزنکوٹ کی یاشر پارٹی اور ان کے تبدیلی اتحاد میں شامل تین دیگر یہودی اپوزیشن جماعتیں 120 رکنی کنیسٹ میں تقریباً 51 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ اسی طرح نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند مذہبی یہودی اتحادیوں کو بھی تقریباً 51 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ایک تیسرے نشریاتی ادارے کے اندازے میں نیتن یاہو کے اتحاد کو تین نشستوں کی برتری دی گئی ہے۔

ان مختلف تخمینوں کے باعث انتخابی صورتِ حال ابھی غیر یقینی ہے۔ ایگزٹ پولز ووٹنگ کے بعد ووٹرز کے جوابات اور شماریاتی اندازوں پر مبنی ہوتے ہیں، اس لیے ان کے اعداد و شمار حتمی نتائج سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ حکومت سازی کے لیے اصل اہمیت سرکاری نتائج اور پارلیمان میں حاصل ہونے والی حمایت کی ہوگی۔

عرب جماعتوں کا کردار اہم ہو گیا

ابتدائی اندازوں کے مطابق دو عرب جماعتیں مجموعی طور پر 18 یا 19 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو ان جماعتوں کی پارلیمانی پوزیشن حکومت سازی کے لیے اہم ہو سکتی ہے، کیونکہ دونوں بڑے سیاسی بلاکس مطلوبہ اکثریت سے دور دکھائی دے رہے ہیں۔

اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ 120 ارکان پر مشتمل ہے اور حکومت بنانے کے لیے عام طور پر کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ ایسے میں عرب جماعتوں کی حمایت کسی سیاسی اتحاد کو اکثریت کے قریب پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم یہ طے نہیں کہ عرب جماعتیں کسی ایک بلاک کی حمایت کریں گی یا حکومت سازی کے مذاکرات میں کوئی مختلف حکمتِ عملی اختیار کریں گی۔

نیتن یاہو پہلے ہی عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کے امکان پر تحفظات ظاہر کر چکے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن کے بعض رہنماؤں نے نئی حکومت قائم کرنے اور موجودہ سیاسی قیادت میں تبدیلی لانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس لیے عرب جماعتوں کا حتمی مؤقف اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے فیصلے آنے والے دنوں میں خاص اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔

ووٹر ٹرن آؤٹ کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر

انتخابات میں عوامی شرکت بھی غیر معمولی رہی۔ اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے پولنگ ختم ہونے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو 1999 کے بعد پولنگ کے اختتام پر درج ہونے والی بلند ترین شرح بتائی گئی ہے۔

اس بلند شرحِ شرکت کو اسرائیلی سیاست میں عوامی دلچسپی کا اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم صرف ٹرن آؤٹ کی بنیاد پر کسی ایک سیاسی جماعت یا اتحاد کی کامیابی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ انتخابی نتائج کا اصل دارومدار ووٹوں کی تقسیم اور مختلف جماعتوں کو ملنے والی نشستوں پر ہوگا۔

چھ لاکھ غیر حاضری والے ووٹوں کی گنتی باقی

ابتدائی اندازوں کے باوجود انتخابی عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، کیونکہ تقریباً چھ لاکھ غیر حاضری والے ووٹوں کی گنتی باقی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان میں زیادہ تر ووٹ فوجی اہلکاروں کے ہیں اور یہ مجموعی ووٹوں کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں۔ ان ووٹوں کی مکمل گنتی جمعرات تک مکمل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

باقی ووٹوں کی گنتی سے مختلف جماعتوں کی نشستوں میں تبدیلی آ سکتی ہے، اس لیے حتمی نتائج سامنے آنے سے پہلے کسی بھی اتحاد کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں قطعی فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ خاص طور پر جب دونوں بڑے بلاکس کے درمیان مقابلہ معمولی فرق سے ظاہر کیا جا رہا ہو تو ہر نشست حکومت سازی کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

صدر کس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے؟

سرکاری نتائج کی تصدیق کے بعد اسرائیل کے صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔ اس کے بعد اس رہنما کو حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی جائے گی جس کے بارے میں صدر کو لگے گا کہ وہ کنیسٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔

نامزد رہنما کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرکے حکومت بنانے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اگر کوئی بھی سیاسی بلاک اکیلے اکثریت حاصل نہ کر سکے تو حکومت سازی کا عمل کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران عرب جماعتوں، چھوٹی سیاسی جماعتوں اور ممکنہ اتحادیوں کے فیصلے اہم ہوں گے۔

اگر کوئی رہنما مقررہ آئینی طریقۂ کار کے تحت حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا تو دوسرے رہنما کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ مسلسل ناکامی کی صورت میں اسرائیل کو دوبارہ انتخابات کی طرف بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

مجموعی طور پر ابتدائی ایگزٹ پولز اسرائیل میں ایک پیچیدہ سیاسی صورتِ حال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے اتحادوں کے درمیان مقابلہ، عرب جماعتوں کی ممکنہ نشستیں اور باقی ووٹوں کی گنتی فیصلہ کریں گے کہ اگلی حکومت کس کی قیادت میں قائم ہوتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

ایگزٹ پولز ابتدائی اندازے ہیں، سرکاری انتخابی نتائج نہیں۔ عرب جماعتوں کی متوقع نشستیں حکومت سازی میں اہم ہو سکتی ہیں، لیکن ان کی حمایت اور حتمی سیاسی اتحاد کا فیصلہ متعلقہ جماعتوں کے مؤقف اور مذاکرات کے بعد ہی واضح ہوگا۔

ماخذ: اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی، اسرائیلی نشریاتی اداروں کے ایگزٹ پولز، فراہم کردہ انتخابی معلومات