

محمود احمد, October28,2026
تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء
اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ میں کسی بھی بڑے سیاسی بلاک کے 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل نہ کرنے کے امکان کے باعث نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کو مشکل مذاکرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انتخابی منظرنامے میں چار اہم امکانات زیرِ بحث ہیں: مخلوط یا اتحادی حکومت، اقلیتی حکومت، قومی اتحاد کی حکومت اور بالآخر نئے انتخابات۔ ان میں سے کس راستے کا انتخاب کیا جائے گا، اس کا انحصار حتمی انتخابی نتائج، سیاسی جماعتوں کے مؤقف اور پارلیمان میں حمایت جمع کرنے کی صلاحیت پر ہوگا۔
اسرائیل کی پارلیمان 120 ارکان پر مشتمل ہے اور عام طور پر حکومت قائم کرنے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اگر کوئی ایک جماعت یا سیاسی اتحاد یہ تعداد حاصل نہ کر سکے تو حکومت سازی کے لیے دوسری جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنا پڑتے ہیں۔ اس مرحلے پر چھوٹی جماعتوں اور عرب اسرائیلی جماعتوں کی حمایت بھی اہم ہو سکتی ہے، کیونکہ چند نشستوں کا فرق حکومت بننے یا سیاسی تعطل برقرار رہنے کا سبب بن سکتا ہے۔
1۔ مخلوط یا اتحادی حکومت کی تشکیل
پہلا اور روایتی راستہ مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحادی حکومت بنانا ہے۔ اس صورت میں جماعتیں اپنے اختلافات کے باوجود مشترکہ حکومتی پروگرام، وزارتوں کی تقسیم اور اہم پالیسی معاملات پر اتفاق کرنے کی کوشش کریں گی۔
گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کے لیے عرب جماعتوں کی حمایت ممکنہ طور پر اہم ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ متعلقہ جماعتیں اس کی حمایت پر آمادہ ہوں اور ان کی نشستیں اکثریت پوری کرنے میں مدد دیں۔ دوسری جانب بنیامین نیتن یاہو کے لیے دائیں بازو کی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد مضبوط رکھنا اہم ہوگا۔ اگر ان جماعتوں کی نشستیں توقع سے کم رہیں یا ان کے مطالبات پر اتفاق نہ ہو سکا تو نیتن یاہو کو متبادل اتحادی تلاش کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
تاہم اتحادی حکومت کے امکانات کا فیصلہ صرف نشستوں کی تعداد سے نہیں ہوگا۔ جماعتوں کے سیاسی وعدے، نظریاتی اختلافات اور حکومتی ترجیحات پر اتفاق بھی ضروری ہوگا۔
2۔ اقلیتی حکومت کا قیام
دوسرا امکان اقلیتی حکومت کا ہے، جس میں حکمران اتحاد کے پاس کنیسٹ کی نصف سے زیادہ نشستیں نہ ہوں، لیکن اسے حکومت چلانے کے لیے دوسری جماعتوں کی بیرونی حمایت حاصل ہو۔ اس ماڈل میں حمایت دینے والی جماعتیں کابینہ کا حصہ بنے بغیر بعض اہم ووٹنگز، بجٹ یا عدم اعتماد کی تحریکوں پر حکومت کا ساتھ دے سکتی ہیں۔
گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اس راستے پر غور کر سکتی ہے، اگر اسے عرب جماعتوں یا دیگر پارلیمانی گروہوں کی حمایت حاصل ہو جائے۔ تاہم اس قسم کی حکومت کو ہر اہم معاملے پر پارلیمانی حمایت یقینی بنانا پڑ سکتی ہے۔ بجٹ کی منظوری، قومی سلامتی اور اہم قانون سازی جیسے معاملات میں حمایت کمزور پڑنے سے حکومت کا استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
اقلیتی حکومت کی تشکیل خودبخود طے شدہ نتیجہ نہیں؛ اس کے لیے سیاسی جماعتوں کی رضامندی اور کنیسٹ میں قابلِ عمل پارلیمانی حمایت ضروری ہوگی۔
3۔ قومی اتحاد کی حکومت
تیسرا امکان ایک وسیع قومی اتحاد کی حکومت کا ہے، جس میں نیتن یاہو اور آئزنکوٹ یا ان کے سیاسی کیمپوں کی کچھ جماعتیں اپنے اختلافات کے باوجود مشترکہ حکومت تشکیل دینے پر غور کر سکتی ہیں۔ ایسے اتحاد کا مقصد سیاسی تعطل ختم کرنا اور حکومت کو وسیع پارلیمانی حمایت فراہم کرنا ہو سکتا ہے۔
تاہم اس راستے میں کئی رکاوٹیں موجود ہوں گی۔ دونوں کیمپوں کے درمیان سیاسی اختلافات، انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدے، وزارتوں کی تقسیم اور اہم پالیسی معاملات پر عدم اتفاق مذاکرات کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی بھی فریق تنہا یا اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ اکثریت حاصل نہ کر سکے تو قومی اتحاد کا آپشن سیاسی مذاکرات میں زیرِ غور آ سکتا ہے۔
یہ واضح رہے کہ قومی اتحاد کی حکومت کا قیام صرف دو رہنماؤں کے درمیان اتفاق سے ممکن نہیں ہوگا؛ اس کے لیے متعلقہ جماعتوں کی منظوری اور پارلیمانی حمایت بھی ضروری ہوگی۔
4۔ نئے انتخابات
چوتھا راستہ نئے انتخابات کا ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں مقررہ مدت کے اندر حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ حمایت جمع نہ کر سکیں تو اسرائیل دوبارہ انتخابات کی طرف جا سکتا ہے۔ اس صورت میں ووٹرز کو ایک مرتبہ پھر اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع ملے گا، لیکن انتخابی نتائج کے بعد وہی سیاسی اختلافات دوبارہ سامنے آنے کا امکان بھی موجود رہے گا۔
حکومت سازی کے طریقۂ کار کے تحت صدر کی جانب سے نامزد رہنما کو پہلی کوشش کے لیے 28 دن دیے جاتے ہیں، اور ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی توسیع منظور کی جا سکتی ہے۔ اگر پہلی کوشش ناکام ہو تو دوسرے رہنما کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد بھی حکومت نہ بننے کی صورت میں قانون میں مقررہ مراحل کے تحت کنیسٹ کے ارکان کسی تیسرے امیدوار کی حمایت کر سکتے ہیں۔ اگر یہ کوششیں بھی کامیاب نہ ہوں تو نئے انتخابات کی راہ کھل سکتی ہے۔
نئے انتخابات کا امکان سیاسی جماعتوں کے لیے دباؤ بڑھا سکتا ہے کہ وہ کسی قابلِ عمل سمجھوتے تک پہنچیں، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں انتخابات کب ہوں گے۔
اگلا فیصلہ کن مرحلہ کیا ہوگا؟
انتخابی نتائج کے بعد اسرائیلی صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور اس رہنما کو حکومت سازی کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں انہیں یقین ہو کہ وہ پارلیمانی اکثریت حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے بعد اتحادی مذاکرات، ممکنہ حکومتی معاہدوں اور کنیسٹ میں حمایت کی بنیاد پر نئی حکومت کی تشکیل کا فیصلہ ہوگا۔
موجودہ منظرنامے میں عرب جماعتوں کی حمایت، دائیں بازو کی چھوٹی جماعتوں کا کردار اور نیتن یاہو مخالف سیاسی کیمپوں کے درمیان تعاون خاص اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ اگر کوئی بھی فریق مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکا تو سیاسی تعطل طول پکڑ سکتا ہے اور نئے انتخابات کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ چاروں راستے حکومت سازی کے ممکنہ منظرنامے ہیں، حتمی فیصلے نہیں۔ ان میں سے کسی ایک امکان کے حقیقت بننے کا انحصار سرکاری انتخابی نتائج، جماعتوں کے مذاکرات اور اسرائیل کے متعلقہ آئینی طریقۂ کار پر ہوگا۔
ماخذ: اسرائیلی کنیسٹ، اسرائیلی حکومت سازی کا قانونی طریقۂ کار، فراہم کردہ انتخابی معلومات