Latest news

یائر لیپڈ کا نیتن یاہو کی شکست کا دعویٰ، گاڈی آئزنکوٹ نے نئی حکومت بنانے کا عزم ظاہر کر دیا

Spread the love

روزینہ اسماعیل,October28,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء

اسرائیل میں انتخابات کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو سیاسی شکست سے دوچار قرار دیتے ہوئے نئی حکومت تشکیل دینے کی کوششیں شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے کہا ہے کہ اسرائیلی عوام نے جمہوری نظام کا ساتھ دیا اور نیتن یاہو کی حکومت کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اپوزیشن اتحاد کے رہنما گاڈی آئزنکوٹ نے دعویٰ کیا کہ ووٹرز نے نیتن یاہو کی مسلسل حکمرانی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

تاہم ابتدائی ایگزٹ پولز اور انتخابی اندازوں کے مطابق اپوزیشن کی مجموعی برتری کے باوجود کسی بھی بڑے سیاسی بلاک کو اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ اس صورتِ حال میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی مذاکرات، ممکنہ اتحادیوں کی حمایت اور مختلف جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

یائر لیپڈ: اسرائیلی عوام جیت گئے

یائر لیپڈ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی ریاست نے خود کو بچا لیا ہے اور عوام کی جیت جمہوری نظام کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا حق ملنا چاہیے اور اس کے ساتھ حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔

لیپڈ نے نئی حکومت کی تشکیل کو فوری ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک نئی صیہونی حکومت قائم کی جانی چاہیے، خواہ ابتدا میں وہ مکمل یا وسیع سیاسی اتحاد پر مشتمل نہ ہو۔ ان کے بقول بعد میں اس حکومت کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جا سکتا ہے۔ ان کا بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اپوزیشن کے بعض رہنما ابتدائی مرحلے میں محدود حمایت کے ساتھ حکومت قائم کرنے اور بعد میں مزید جماعتوں کو ساتھ ملانے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

لیپڈ نے اپنی جماعت کے کارکنوں، رضاکاروں اور کنیسٹ کے ارکان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کی تعریف کرتے ہوئے انہیں بہادر ساتھی اور دوست قرار دیا اور کہا کہ وہ اس سے بہتر سیاسی شراکت دار کا تصور نہیں کر سکتے تھے۔

قانون کی حکمرانی اور قومی مسائل پر زور

یائر لیپڈ نے اسرائیل کو درپیش بڑے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بحال کرنے اور قانون کی حکمرانی مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اہم واقعات کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیشن کے قیام، فوجی بھرتی میں مساوات اور قومی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم جیسے معاملات کو نئی حکومت کی ترجیحات میں شامل کرنے پر زور دیا۔

ان مسائل کا ذکر ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اسرائیل میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات صرف حکومت سازی تک محدود نہیں بلکہ قومی سلامتی، فوجی خدمات اور ریاستی اداروں کے کردار جیسے معاملات سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ لیپڈ کے مطابق نئی حکومت کو ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے واضح سمت اختیار کرنا ہوگی۔

اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ سیاسی جدوجہد ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ ان کے بقول ملک کو درست سمت میں لے جانے اور معاشرے کی بحالی کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہوگی۔

گاڈی آئزنکوٹ: عوام نے نیتن یاہو کی مسلسل حکمرانی کے خلاف فیصلہ دیا

اپوزیشن اتحاد کے رہنما گاڈی آئزنکوٹ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے نیتن یاہو کی طویل حکمرانی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ انہوں نے انتخابات میں ووٹرز کی بڑی تعداد میں شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو دوبارہ انتخابی عمل میں دھکیلنا مناسب نہیں ہوگا۔

آئزنکوٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہوا ہے اور علاقائی سلامتی کے معاملات اسرائیلی سیاست میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے ساتھ ممکنہ فوجی کشیدگی یا کسی ہنگامی صورتِ حال کے اثرات حکومت سازی کے عمل پر پڑ سکتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات طویل ہوئے تو داخلی سیاسی غیر یقینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم کسی ممکنہ فوجی صورتِ حال کے بارے میں حتمی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔

اکثریت کے بغیر حکومت سازی ایک بڑا چیلنج

ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو نیتن یاہو کے دائیں بازو کے بلاک پر معمولی برتری حاصل ہے، لیکن دونوں میں سے کوئی بھی فریق کنیسٹ کی 120 نشستوں میں سے مطلوبہ 61 نشستوں تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔

اس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن کو حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا پڑ سکتی ہے۔ عرب اسرائیلی جماعتوں کی ممکنہ نشستیں بھی اس مرحلے پر اہم ہو سکتی ہیں، تاہم ان جماعتوں کی حمایت خودکار نہیں ہوگی اور اس کا انحصار ان کے سیاسی فیصلوں اور مذاکرات پر ہوگا۔

دوسری جانب نیتن یاہو اور ان کے اتحادی بھی حکومت برقرار رکھنے یا نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے پارلیمانی حمایت جمع کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی بھی فریق اکثریت حاصل نہ کر سکا تو اسرائیلی صدر مختلف جماعتوں سے مشاورت کے بعد حکومت سازی کے لیے کسی رہنما کو نامزد کریں گے۔

موجودہ صورتِ حال میں اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات سیاسی اعتماد اور حکومت بنانے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن حتمی نتیجہ سرکاری انتخابی اعداد و شمار اور اتحادی مذاکرات طے کریں گے۔ اس لیے اپوزیشن کی جانب سے نیتن یاہو کی شکست کے دعوے کو حکومت کی حتمی تبدیلی کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یائر لیپڈ اور گاڈی آئزنکوٹ کے بیانات اپوزیشن رہنماؤں کا انتخابی نتائج سے متعلق سیاسی مؤقف ہیں۔ ایگزٹ پولز حتمی نتائج نہیں ہوتے، اور حکومت کی تشکیل کا فیصلہ کنیسٹ میں دستیاب حمایت اور آئینی طریقۂ کار کے مطابق ہوگا۔

ماخذ: یائر لیپڈ کا بیان، گاڈی آئزنکوٹ کا انتخابی خطاب، اسرائیلی انتخابی نتائج سے متعلق فراہم کردہ معلومات