

محمود احمد, October28,2026
تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء
اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کی صورتِ حال بدستور غیر یقینی ہے۔ اسرائیلی ٹی وی چینلز 12 اور 13 کے مطابق غیر حاضر ووٹوں کے علاوہ تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے، تاہم وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کا اتحاد پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ تقریباً چھ لاکھ غیر حاضر ووٹوں کی گنتی آج مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد انتخابی نتائج اور ممکنہ سیاسی اتحادوں کی صورتِ حال مزید واضح ہو سکتی ہے۔
غیر حاضر ووٹوں میں زیادہ تر فوجی اہلکاروں کے ڈالے گئے ووٹ شامل ہیں۔ فراہم کردہ انتخابی معلومات کے مطابق ان کی تعداد تقریباً چھ لاکھ ہے، جو مجموعی ووٹوں کا لگ بھگ 10 فیصد بنتی ہے۔ چونکہ دونوں بڑے سیاسی بلاکس کی نشستوں میں مطلوبہ اکثریت کا فرق اہم ہے، اس لیے باقی ووٹوں کی گنتی حکومت سازی کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
نیتن یاہو کا اتحاد آگے، لیکن اکثریت حاصل کرنا مشکل
ابتدائی انتخابی اعداد و شمار کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود اور اس کے اتحادی دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل بلاک کو تقریباً 54 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ تعداد اسے موجودہ تخمینوں میں سب سے آگے رکھتی ہے، تاہم حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے سات کم ہے۔
اس صورتِ حال میں نیتن یاہو کو حکومت تشکیل دینے کے لیے مزید سیاسی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات، ممکنہ اتحادی معاہدے اور حکومتی ترجیحات پر اتفاق اہم ہوگا۔ اگر وہ مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکے تو سب سے زیادہ نشستیں رکھنے کے باوجود ان کے لیے حکومت بنانا مشکل ہو سکتا ہے۔
اپوزیشن اتحاد کو بھی درکار ہے مزید حمایت
سابق آرمی چیف گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو فراہم کردہ جزوی نتائج کے مطابق 47 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس اتحاد کو بھی حکومت بنانے کے لیے مزید 14 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔
آئزنکوٹ اور ان کے اتحادیوں کے لیے اہم چیلنج مختلف سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ حکومتی پروگرام پر متفق کرنا ہے۔ اپوزیشن کو نہ صرف نیتن یاہو کے اتحاد سے اختلاف کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا بلکہ کنیسٹ میں مؤثر اکثریت حاصل کرنے کے لیے عملی معاہدے بھی کرنا ہوں گے۔
عرب جماعتوں کا کردار اہم ہو گیا
تازہ انتخابی تخمینوں کے مطابق عرب جماعتوں کی مجموعی نشستیں 19 بتائی جا رہی ہیں۔ اس تعداد کے باعث ان جماعتوں کا مؤقف حکومت سازی کے عمل میں اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ دونوں بڑے سیاسی بلاکس اپنے طور پر اکثریت حاصل کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔
تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ عرب جماعتیں کس سیاسی اتحاد کی حمایت کریں گی، آیا وہ حکومت میں شامل ہوں گی یا باہر رہتے ہوئے کسی اتحاد کو پارلیمانی حمایت فراہم کریں گی۔ ان کے فیصلے کا انحصار سیاسی مذاکرات، پالیسی ترجیحات اور متعلقہ جماعتوں کے باہمی اتفاق پر ہوگا۔
حتمی نتائج اور اتحادی مذاکرات پر نظریں
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کی جانب سے حتمی نتائج کی تصدیق اہم مرحلہ ہوگی۔ اس کے بعد صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے پاس پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کے بہتر امکانات ہوں گے۔
اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ 120 ارکان پر مشتمل ہے اور حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی حمایت بنیادی شرط ہے۔ اگر کوئی بھی سیاسی بلاک مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکا تو اتحادی مذاکرات طویل ہو سکتے ہیں، جبکہ مسلسل ناکامی کی صورت میں نئے انتخابات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
فی الحال سب سے اہم سوال یہ ہے کہ باقی غیر حاضر ووٹوں کی گنتی سے نشستوں کی تقسیم میں کتنی تبدیلی آتی ہے اور کون سا سیاسی اتحاد حکومت بنانے کے لیے ضروری حمایت حاصل کر پاتا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر فراہم کردہ انتخابی معلومات اور اسرائیلی ٹی وی چینلز 12 اور 13 سے منسوب نتائج پر مبنی ہے۔ غیر حاضر ووٹوں کی گنتی اور حتمی سرکاری نتائج کے بعد نشستوں کی تعداد تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے حکومت سازی کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
ماخذ: اسرائیلی ٹی وی چینل 12، اسرائیلی ٹی وی چینل 13، اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی سے متعلق فراہم کردہ معلومات