Latest news

اسرائیلی انتخابات: 97 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل، نیتن یاہو کو معمولی برتری مگر اکثریت سے دور

Spread the love

محمود احمد, October29,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اکتوبر 2026ء

اسرائیل میں عام انتخابات کے 97 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد اپنے حریف گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد سے معمولی برتری رکھتا ہے، تاہم دونوں میں سے کوئی بھی بلاک 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔ جزوی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور اس کے انتہائی دائیں بازو اور مذہبی اتحادیوں کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ آئزنکوٹ کی یشار پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو 48 نشستیں حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

انتخابی نتائج کے اس مرحلے پر حکومت سازی کے لیے سیاسی مذاکرات فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دینے کی کوشش کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن نشستوں کی موجودہ تقسیم کے باعث کسی بھی فریق کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

نیتن یاہو کا اتحاد آگے، مگر اکثریت حاصل کرنا مشکل

جزوی نتائج کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود اور اس کے دائیں بازو اور انتہائی مذہبی یہودی اتحادیوں کو 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ اگر یہ تعداد برقرار رہتی ہے تو نیتن یاہو کا اتحاد سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والا سیاسی بلاک ہوگا، لیکن اسے حکومت بنانے کے لیے مزید آٹھ نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔

نیتن یاہو کے لیے اب اہم چیلنج یہ ہے کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا کر پارلیمانی اکثریت قائم کریں۔ اس مقصد کے لیے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات، حکومتی ترجیحات پر اتفاق اور وزارتوں کی تقسیم جیسے معاملات اہم ہو سکتے ہیں۔

تاہم سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا خودبخود حکومت بنانے کی ضمانت نہیں۔ اسرائیل کے پارلیمانی نظام میں حکومت تشکیل دینے کے لیے کنیسٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر نیتن یاہو اضافی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں حکومت سازی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آئزنکوٹ کی اپوزیشن بھی اکثریت سے دور

سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کی یشار پارٹی اور ان کے اپوزیشن اتحاد میں شامل تین دیگر یہودی جماعتوں کو مجموعی طور پر 48 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس اتحاد کو بھی حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی حد تک پہنچنے کے لیے مزید حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

آئزنکوٹ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی کوشش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے لیے بنیادی چیلنج مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور ایسی مشترکہ حکمتِ عملی تیار کرنا ہوگا جس کی بنیاد پر پارلیمان میں اکثریت حاصل کی جا سکے۔

اپوزیشن اتحاد کو نیتن یاہو کے اتحاد سے اختلاف کے علاوہ حکومتی پالیسیوں، قیادت اور دیگر اہم معاملات پر بھی اپنے اتحادیوں کو متفق کرنا ہوگا۔ مذاکرات میں ناکامی کی صورت میں اس کی نشستوں کی تعداد حکومت بنانے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔

عرب جماعتیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں

عرب قیادت والی جماعتوں کو ریکارڈ 19 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ ان جماعتوں کی ممکنہ کامیابی انہیں حکومت سازی کے عمل میں اہم مقام دے سکتی ہے، کیونکہ نیتن یاہو اور آئزنکوٹ دونوں کے اتحاد اپنی موجودہ نشستوں کے ساتھ اکثریت سے دور ہیں۔

تاہم فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایک جماعت کے سوا باقی یہودی جماعتوں نے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس سیاسی صورتِ حال کے باعث یہ واضح نہیں کہ عرب جماعتیں کسی اتحاد کی حمایت کریں گی یا حکومت سازی کے عمل میں کوئی متبادل کردار اختیار کریں گی۔

اگر عرب جماعتیں کسی ایک بلاک کی حمایت پر آمادہ ہو جائیں تو اس سے پارلیمانی حساب کتاب پر اثر پڑ سکتا ہے۔ لیکن ان کی حمایت کے طریقۂ کار، ممکنہ شرائط اور کسی حکومت میں شمولیت کے بارے میں حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

غیر حاضر ووٹوں کی گنتی اہم مرحلے میں داخل

جمعرات کو حکام نے تقریباً چار لاکھ 80 ہزار غیر حاضر ووٹوں کی گنتی شروع کی۔ ان ووٹوں میں فوجی اہلکاروں، سفارت کاروں اور ہسپتالوں میں زیرِ علاج ایسے افراد کے ووٹ شامل ہیں جو عام پولنگ اسٹیشنوں تک نہیں پہنچ سکے تھے۔

اسرائیل کے متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام کے تحت ووٹوں کی حتمی تعداد مختلف جماعتوں کو ملنے والی نشستوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس لیے غیر حاضر ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے سے پہلے موجودہ نشستوں کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔

صدر اسحاق ہرزوگ کا آئندہ کردار

نتائج کی حتمی توثیق کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔ اس کے بعد وہ اس رہنما کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپیں گے جس کے بارے میں ان کا خیال ہوگا کہ وہ کامیابی کے ساتھ پارلیمانی حمایت حاصل کر سکتا ہے۔

یہ عمل کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ اگر نامزد رہنما مقررہ مدت میں حکومت بنانے میں ناکام رہا تو دوسرے امیدوار کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ اگر تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو اسرائیل کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔

فی الحال نیتن یاہو کو معمولی برتری حاصل ہے، لیکن اگلی حکومت کا فیصلہ صرف نشستوں کی تعداد نہیں بلکہ حتمی نتائج اور سیاسی اتحادیوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کریں گے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر فراہم کردہ جزوی انتخابی نتائج پر مبنی ہے۔ غیر حاضر ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک نشستوں کی تعداد میں تبدیلی ممکن ہے، جبکہ کسی سیاسی اتحاد کی حکومت سازی کی کامیابی کا تعین حتمی نتائج اور پارلیمانی حمایت سے ہوگا۔

ماخذ: اسرائیلی انتخابی نتائج سے متعلق فراہم کردہ معلومات