Latest news

شن بیت کا مؤقف: اسرائیلی انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات آزادانہ معلومات پر شروع کی گئیں

Spread the love

محمود احمد, October29,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اکتوبر 2026ء

اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت نے کہا ہے کہ انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات سیاسی شخصیات کی فراہم کردہ معلومات کے بجائے ادارے کی اپنی ’’آزادانہ معلومات‘‘ کی بنیاد پر شروع کی گئی تھیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ تحقیقات کا مقصد قانونی اور جمہوری طریقے سے ووٹ ڈالنے والی کسی پوری برادری کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہونے والے شن بیت کے بیان کے مطابق انتخابات کے اختتام سے قبل ادارے سے باہر کسی شخص کو بھی، سوائے سپریم کورٹ کے جج نوام سولبرگ کے، متعلقہ معلومات تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ اس وضاحت کے ذریعے ادارے نے اپنی تحقیقات کے طریقۂ کار اور معلومات کی رازداری سے متعلق مؤقف پیش کیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور دیگر دائیں بازو کے سیاست دانوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ انتخابات میں عرب جماعتوں کی غیر معمولی کامیابی جزوی طور پر انتخابی دھاندلی کا نتیجہ تھی۔ عرب رہنماؤں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے نیتن یاہو پر اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا ہے۔

شن بیت نے تحقیقات کے طریقۂ کار کی وضاحت کر دی

شن بیت کے مطابق مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات ادارے کی اپنی معلومات کی بنیاد پر شروع کی گئیں، نہ کہ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے نتیجے میں۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ انتخابی عمل مکمل ہونے سے پہلے متعلقہ معلومات تک رسائی انتہائی محدود رکھی گئی تھی۔

بیان میں سپریم کورٹ کے جج نوام سولبرگ کا ذکر اس تناظر میں کیا گیا کہ وہ ان معلومات تک رسائی رکھنے والے واحد بیرونی فرد تھے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں یہ تفصیل موجود نہیں کہ جج کو معلومات تک رسائی کس مخصوص قانونی طریقۂ کار کے تحت دی گئی یا ان کا اس معاملے میں کردار کیا تھا۔

تحقیقات کے آغاز کے طریقۂ کار کی وضاحت اس لیے اہم ہے کہ معاملہ انتخابی شفافیت، قومی سلامتی اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم ادارے کی جانب سے تحقیقات کی بنیاد بیان کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ مبینہ غیر ملکی مداخلت کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔

عرب جماعتوں کی کامیابی پر سیاسی تنازع

اسرائیلی انتخابات میں عرب جماعتوں کی نمایاں کامیابی نے حکومت سازی کے امکانات اور پارلیمانی طاقت کے توازن کو اہم بنا دیا ہے۔ فراہم کردہ انتخابی معلومات کے مطابق عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کی توقع ہے، جس سے وہ حکومت سازی کے مذاکرات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے عرب جماعتوں کی کامیابی پر انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے، جبکہ عرب رہنماؤں نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔ عرب قیادت کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے الزامات عرب شہریوں کی سیاسی شرکت کو مشکوک بنانے اور ان کے ووٹ کی اہمیت کم کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس تنازع نے اسرائیل میں انتخابی عمل اور عرب شہریوں کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم انتخابی دھاندلی سے متعلق کسی بھی دعوے کا فیصلہ شواہد اور متعلقہ تحقیقات کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

ترکی اور قطر پہلے ہی الزامات مسترد کر چکے ہیں

اسرائیلی انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کے معاملے میں ترکی اور قطر کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ الزامات کے مطابق ان ممالک سے اسرائیل میں رقوم منتقل کی گئیں تاکہ عرب ووٹروں کے انتخابی فیصلوں پر اثر انداز ہوا جا سکے۔

ترکی اور قطر دونوں ان الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔ ترکی کے حکومتی مرکز برائے انسدادِ غلط معلومات نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا، جبکہ قطری وزارتِ خارجہ نے بھی انتخابات میں مداخلت یا انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے مالی معاونت کی تردید کی۔

تاحال فراہم کردہ معلومات میں مبینہ مالی منتقلیوں کے ایسے حتمی شواہد شامل نہیں جو ان الزامات کی آزادانہ تصدیق کر سکیں۔ اس لیے تحقیقات کے نتائج سامنے آنے تک کسی ملک یا گروہ کی ذمہ داری کے بارے میں قطعی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

تحقیقات کے نتائج اور قانونی عمل اہم ہوں گے

شن بیت کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ادارہ تحقیقات کے آغاز اور معلومات تک رسائی کے حوالے سے اپنا مؤقف سامنے لانا چاہتا ہے۔ تاہم اس معاملے میں اصل اہمیت ان شواہد کی ہوگی جو تحقیقات کے دوران سامنے آتے ہیں، اور یہ کہ آیا ان کی بنیاد پر کسی مخصوص انتخابی خلاف ورزی کی تصدیق ہوتی ہے یا نہیں۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ بھی پہلے مبینہ غیر ملکی مداخلت کی جامع تحقیقات کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کر چکے ہیں کہ ان تحقیقات کے باعث پوری عرب برادری کی ساکھ متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ یہ مؤقف اس وسیع تر بحث کی عکاسی کرتا ہے کہ انتخابی شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے کسی برادری کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرانے سے کیسے بچا جائے۔

اب توجہ شن بیت کی تحقیقات، ممکنہ اضافی شواہد اور حکام کی جانب سے مزید وضاحتوں پر مرکوز رہے گی۔ تحقیقات کی تکمیل کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ مبینہ غیر ملکی مداخلت کے دعوؤں میں کتنی حقیقت ہے اور آیا کسی قانونی کارروائی کی ضرورت پیش آتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: شن بیت نے کہا ہے کہ تحقیقات آزادانہ معلومات کی بنیاد پر شروع کی گئیں، لیکن اس بیان سے مبینہ غیر ملکی مداخلت یا انتخابی دھاندلی ثابت نہیں ہوتی۔ ترکی اور قطر الزامات مسترد کر چکے ہیں، جبکہ حتمی نتیجے کے لیے تحقیقات کے شواہد اور متعلقہ قانونی کارروائی اہم ہوں گے۔

ماخذ: اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہونے والا شن بیت کا بیان، اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کا بیان، ترکی اور قطر کے سرکاری بیانات