Latest news

آزاد کشمیر کے باغ میں گھر میں دھماکا، چار خواتین ہلاک، ایک لڑکی زخمی

Spread the love

منصور احمد,October29,2026

باغ (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اکتوبر 2026ء

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع باغ کے گاؤں پندی میں ایک گھر میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں چار خواتین ہلاک اور ایک لڑکی زخمی ہو گئی ہے۔ سرکاری حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زخمی لڑکی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، تاہم دھماکے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی۔

واقعے کے بارے میں ابتدائی اطلاعات میں متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔ باغ کے ڈپٹی کمشنر ممتاز کاظمی نے میڈیا کو بتایا کہ گھر میں دستی بم پھٹنے سے جانی نقصان ہوا۔ دوسری جانب مقامی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ گھر میں گیس کا سلنڈر بھی موجود تھا۔

ڈپٹی کمشنر کا دستی بم پھٹنے کا مؤقف

ڈپٹی کمشنر ممتاز کاظمی کے مطابق دھماکا پندی نامی گاؤں کے ایک گھر میں ہوا، جس کے نتیجے میں چار خواتین جان سے گئیں جبکہ ایک لڑکی زخمی ہوئی۔ زخمی لڑکی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ متاثرہ گاؤں باغ شہر سے کافی فاصلے پر واقع ہے اور سکیورٹی فورسز کے دستے جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ حکام کی توجہ واقعے کی نوعیت معلوم کرنے اور متاثرہ خاندان کو درپیش صورتِ حال کا جائزہ لینے پر مرکوز ہے۔

تاہم دستی بم پھٹنے کے دعوے کی تصدیق کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔ دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جائے وقوعہ سے کسی دستی بم کے اجزا یا دیگر دھماکا خیز مواد کی برآمدگی ہوئی ہے یا نہیں۔

گیس سلنڈر کا امکان بھی زیرِ غور

مقامی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق دھماکے کے وقت گھر میں ایک خاتون باورچی خانے میں کھانا بنا رہی تھیں اور وہاں گیس کا سلنڈر بھی موجود تھا۔ اہلکار نے کہا کہ فی الحال یہ حتمی طور پر نہیں بتایا جا سکتا کہ دھماکا سلنڈر پھٹنے سے ہوا یا اس کے پیچھے کوئی دوسری وجہ تھی۔

ان کے مطابق زخمی لڑکی کے ہوش میں آنے کے بعد اس سے مزید معلومات حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم دھماکے کی وجہ کا تعین صرف عینی بیان سے نہیں بلکہ جائے وقوعہ کے معائنے اور دستیاب تکنیکی شواہد سے بھی کیا جانا ضروری ہوگا۔

دستیاب معلومات میں دھماکے کے مقام سے متعلق تفصیلی فرانزک رپورٹ، گیس سلنڈر کی حالت یا کسی دھماکا خیز آلے کی موجودگی کے بارے میں حتمی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

تنظیم کا سکیورٹی اداروں پر الزام

دوسری جانب کالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے گھر کو نشانہ بنایا۔ تاہم اس دعوے کے حق میں فراہم کردہ معلومات میں کوئی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

مقامی انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق پولیس اور رینجرز کے اہلکار جائے حادثہ سے تقریباً تین کلومیٹر دور ایک چیک پوسٹ پر تعینات تھے۔ اس بیان سے جائے وقوعہ کے قریب سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کے بارے میں معلومات ملتی ہیں، لیکن اس سے دھماکے کی وجہ یا ذمہ داری کا حتمی تعین نہیں ہوتا۔

واقعے کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آنے کے باعث ضروری ہے کہ کسی ایک دعوے کو تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے حتمی حقیقت قرار نہ دیا جائے۔ دھماکے کی نوعیت، ممکنہ وجہ اور ذمہ داری کے تعین کے لیے شواہد کی جانچ اہم ہوگی۔

تحقیقات اور زخمی لڑکی کی معلومات اہم

دھماکے میں چار خواتین کی ہلاکت ایک سنگین انسانی سانحہ ہے، جبکہ زخمی لڑکی کی حالت اور اس سے حاصل ہونے والی معلومات بھی واقعے کی مزید تفصیلات سامنے لانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ حکام نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا کون سا مرحلہ مکمل کیا ہے یا کسی مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اسی طرح ہلاک ہونے والی خواتین کی شناخت اور واقعے کے وقت گھر میں موجود افراد کے بارے میں بھی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

متعلقہ حکام کی تحقیقات سے یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ دھماکا کسی دستی بم، گیس سلنڈر یا کسی اور وجہ سے ہوا۔ اس کے بعد ہی واقعے کے ذمہ دار عناصر یا ممکنہ غفلت کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ڈپٹی کمشنر نے دستی بم پھٹنے کا مؤقف پیش کیا ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے گیس سلنڈر کو بھی ممکنہ وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ سکیورٹی اداروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کا دعویٰ کالعدم تنظیم سے منسوب ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

ماخذ: ڈپٹی کمشنر باغ ممتاز کاظمی کا بیان، مقامی انتظامیہ کے اہلکار کا بیان، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسوب بیان، مقامی صحافی فرحان طارق کی فراہم کردہ معلومات