

محمود احمد, October30,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اکتوبر 2026ء
قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جمعہ 30 اکتوبر کی صبح ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گیا ہے، جہاں وہ ایرانی حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورتِ حال پر مذاکرات کرے گا۔ اس دورے کو ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ سفارتی معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں قطری وفد کے کسی مخصوص ثالثی کردار کی تصدیق نہیں کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق وفد کی قیادت قطری وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے ایک سینئر مشیر کر رہے ہیں۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات، علاقائی کشیدگی اور تازہ سفارتی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک باخبر عہدے دار کے حوالے سے بتایا تھا کہ قطری ثالث واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے تہران کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنا بتایا گیا ہے۔
قطر کا مجوزہ امن منصوبہ
روئٹرز کے مطابق مذاکرات سے واقف ایک عہدے دار نے بتایا تھا کہ قطری وفد نے 25 اکتوبر کو اپنے سابقہ دورۂ تہران کے دوران ایرانی حکام کو ایک مجوزہ امن منصوبہ پیش کیا تھا۔ تاہم ایک سینئر ایرانی عہدے دار نے ان تجاویز کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران اپنے جوہری مؤقف پر قائم رہے گا۔
اس مجوزہ منصوبے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم اس کی پیش کش سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوحہ اس سے قبل بھی علاقائی تنازعات میں سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔
جوہری معاملہ مذاکرات کا اہم اختلاف
ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں جوہری پروگرام بنیادی اختلافی موضوع بن کر سامنے آیا ہے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ مذاکرات کے آغاز ہی سے ایران کا جوہری معاملہ ایجنڈے میں شامل ہو۔
دوسری جانب تہران کا اصرار ہے کہ امریکہ پہلے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کسی بھی مذاکراتی عمل کو اقتصادی دباؤ اور سمندری پابندیوں کے معاملات سے الگ رکھنے پر آمادہ نہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان اختلافات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ پابندیوں، علاقائی سلامتی اور فوجی کشیدگی کے معاملات بھی مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کے لیے متعدد معاملات پر بیک وقت اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہوگا۔
ایران کا سات روزہ منصوبہ
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے مجوزہ سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
عراقچی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران سفارتی رابطوں کے ذریعے جنگ کے خاتمے کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں اس سات روزہ منصوبے کی مکمل شرائط، اس پر عمل درآمد کا طریقۂ کار یا امریکہ کی جانب سے اس کی منظوری کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
قطری وفد کی تازہ آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا طبی سامان سے متعلق رابطوں پر بیان
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا میں نائب صدر جے ڈی وینس کے ایران سے رابطوں کی خبروں پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان رابطوں کا مقصد طبی سامان کی فراہمی سے متعلق بات چیت تھا۔
تاہم امریکی میڈیا نے ان رابطوں کو ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں سے بھی جوڑا ہے۔ اس معاملے پر امریکی انتظامیہ کی جانب سے کسی جامع مذاکراتی منصوبے یا باضابطہ معاہدے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ کے بیان اور میڈیا رپورٹس کے درمیان فرق اس بات کو واضح کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے رابطوں کی نوعیت اور دائرۂ کار کے بارے میں مزید وضاحت درکار ہے۔
قطری وفد کے کردار پر ابھی سرکاری وضاحت نہیں
ارنا نے اپنی تازہ رپورٹ میں قطری وفد کی آمد اور ایرانی حکام سے متوقع مذاکرات کی تصدیق کی، لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے میں وفد کے ثالثی کردار کا ذکر نہیں کیا۔
اس لیے فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ جمعہ کو ہونے والی ملاقاتوں کے نتیجے میں کسی نئے معاہدے یا مذاکرات کی بحالی کا باقاعدہ اعلان سامنے آئے گا۔ البتہ قطری وفد کی آمد، ایرانی وزیرِ خارجہ کے حالیہ بیانات اور امریکی میڈیا میں رابطوں سے متعلق رپورٹس خطے میں سفارتی سرگرمیوں کے جاری رہنے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران، امریکہ اور ثالثی کی کوششوں میں شامل ممالک جوہری پروگرام، پابندیوں، ایرانی بندرگاہوں اور جنگ کے خاتمے جیسے بنیادی معاملات پر کس حد تک اتفاق کر پاتے ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: قطری وفد کی تہران آمد اور ایرانی حکام سے مذاکرات کی تصدیق ارنا نے کی ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی اور مجوزہ امن منصوبے کی تفصیلات روئٹرز کی رپورٹ میں باخبر ذرائع سے منسوب ہیں۔ ابھی کسی نئے معاہدے یا مذاکرات کی باضابطہ بحالی کا اعلان نہیں ہوا۔
ماخذ: ارنا، روئٹرز، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا بیان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان