Latest news

سپریم کورٹ کی استغاثہ کو گواہ پر جرح کے بعد دوبارہ بیان لینے کے قانونی طریقہ کار پر عمل کی ہدایت

Spread the love

منصور احمد,October30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اکتوبر 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ استغاثہ کی جانب سے اپنے گواہ پر جرح مکمل ہونے کے بعد اس کا دوبارہ بیان لینے کے لیے قانون میں مقرر کردہ طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 540 کے تحت کسی گواہ کو دوبارہ طلب کرنا استغاثہ کا قانونی حق نہیں بلکہ عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے، جسے صرف اس صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جب اضافی شہادت مقدمے کے منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری ہو۔

سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ گواہ کا ابتدائی بیان، اس پر جرح اور دوبارہ بیان ایک دوسرے سے منسلک قانونی مراحل ہیں۔ ان تمام مراحل کا بنیادی مقصد مقدمے کے حقائق کو مکمل طور پر عدالت کے سامنے لانا ہے تاکہ فیصلہ دستیاب شہادت اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیا جا سکے۔

جسٹس صلاح الدین پنہور کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں وضاحت کی گئی کہ جرح کے دوران سامنے آنے والے ابہام، نامکمل جوابات یا تضادات کو دور کرنے کے لیے قانونِ شہادت کے آرٹیکل 133 کے تحت گواہ کا دوبارہ بیان لیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اس مقصد کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار کو نظر انداز کرکے بعد میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 540 کو معمول کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

نو ماہ بعد گواہ کو دوبارہ طلب کرنے کی درخواست

عدالت کے مطابق اس مقدمے میں استغاثہ نے اپنے گواہ محمد اشرف کا ابتدائی بیان ریکارڈ کرانے کے بعد اس پر جرح مکمل کرائی، لیکن جرح کے فوراً بعد آرٹیکل 133 کے تحت دوبارہ بیان لینے کی درخواست نہیں دی گئی۔

فیصلے میں بتایا گیا کہ استغاثہ نے تقریباً نو ماہ بعد ضابطہ فوجداری کی دفعہ 540 کے تحت اسی گواہ کو دوبارہ طلب کرنے کی درخواست دائر کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ کو جرح مکمل ہونے کے فوراً بعد قانونِ شہادت کے آرٹیکل 133 کے تحت گواہ سے وضاحت حاصل کرنے کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔

عدالت کے مطابق جرح کے دوران اگر کسی جواب میں ابہام، تضاد یا نامکمل وضاحت سامنے آئے تو گواہ کو عدالت سے رخصت کرنے سے پہلے اس معاملے کی وضاحت حاصل کی جانی چاہیے۔ اس طریقے سے مقدمے کے اہم حقائق واضح رہتے ہیں اور بعد میں غیر ضروری قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونے سے بچا جا سکتا ہے۔

آرٹیکل 133 کے تحت دوبارہ بیان کی حدود

سپریم کورٹ نے وضاحت کی کہ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 133 کے تحت اپنے پیش کردہ گواہ سے دوبارہ سوالات کرنے کا اختیار اسی فریق کو حاصل ہوتا ہے جس نے اسے عدالت میں پیش کیا ہو۔ تاہم اس مرحلے کا مقصد جرح کے دوران سامنے آنے والے معاملات کی وضاحت کرنا ہے، نہ کہ مقدمے میں نئے حقائق یا نئے الزامات شامل کرنا۔

فیصلے کے مطابق اگر گواہ کے دوبارہ بیان کے دوران کوئی نیا معاملہ سامنے لانا مقصود ہو تو اس کے لیے عدالت سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ ایسی صورت میں مخالف فریق کو بھی نئے معاملے کے حوالے سے دوبارہ جرح کرنے کا حق حاصل ہوگا، تاکہ دونوں فریقوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع مل سکے۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گواہ کے ابتدائی بیان، جرح اور دوبارہ بیان کے مراحل کو ایک مربوط قانونی عمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان مراحل کو نظر انداز کرنے سے مقدمے میں غیر ضروری ابہام اور ایسے شکوک پیدا ہو سکتے ہیں جن سے انصاف کے تقاضے متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

دفعہ 540 عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے

فیصلے میں کہا گیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 540 عدالت کو اختیار دیتی ہے کہ وہ مقدمے کے کسی بھی مرحلے پر کسی گواہ کو طلب یا دوبارہ طلب کر سکتی ہے۔ تاہم اس اختیار کا استعمال کسی فریق کے مقدمے کو مضبوط بنانے یا اس کی شہادت میں موجود بنیادی کمزوری دور کرنے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کے مطابق عدالت کو اس بات پر واضح طور پر مطمئن ہونا ضروری ہے کہ اضافی شہادت کے بغیر مقدمے کا منصفانہ فیصلہ ممکن نہیں۔ صرف کسی فریق کی درخواست یا اس کی خواہش کی بنیاد پر گواہ کو دوبارہ طلب کرنا اس دفعہ کے استعمال کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 540 کو آرٹیکل 133 کا متبادل سمجھ کر معمول کے مطابق استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ دونوں قانونی دفعات کے اپنے الگ مقاصد اور حدود ہیں، اس لیے ٹرائل کورٹس کو ان کے اطلاق میں قانونی فرق کا خیال رکھنا ہوگا۔

ٹرائل کورٹس اور پراسیکیوٹرز کو خصوصی ہدایات

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹس اور استغاثہ کے افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانونِ شہادت کے آرٹیکلز 132 اور 133 کے تحت گواہوں کے بیانات، جرح اور دوبارہ بیان کے قانونی طریقہ کار پر خصوصی توجہ دیں۔

عدالت نے کہا کہ جرح کے دوران سامنے آنے والے ابہام یا نامکمل جوابات کی وضاحت گواہ کو رخصت کرنے سے پہلے حاصل کی جانی چاہیے۔ اس سے مقدمے کی کارروائی زیادہ منظم رہے گی اور بعد کے مراحل میں غیر ضروری درخواستوں اور قانونی تنازعات سے بچا جا سکے گا۔

فیصلے کی نقول تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرارز کو بھجوانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اسے ضلعی عدلیہ کے ججوں تک پہنچایا جا سکے۔ اسی طرح تمام صوبوں اور اسلام آباد کے پراسیکیوٹر جنرلز کو بھی فیصلے کی نقول متعلقہ پراسیکیوٹرز تک پہنچانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

انسدادِ منشیات فورس کی درخواست مسترد

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے انسدادِ منشیات فورس کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ بینچ میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس صلاح الدین پنہور شامل تھے۔

پشاور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے گواہ کو دوبارہ طلب کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے انسدادِ منشیات فورس کی اپیل کی اجازت سے متعلق درخواست مسترد کرتے ہوئے خارج کر دی، جس کے نتیجے میں پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رہا۔

یہ فیصلہ فوجداری مقدمات میں گواہوں کے بیانات، جرح اور اضافی شہادت کے قانونی طریقہ کار کے حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت کا اختیار انصاف کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہے، نہ کہ کسی فریق کو اپنی شہادت کی خامیاں دور کرنے کا غیر محدود موقع دینے کے لیے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 133 کے تحت گواہ سے دوبارہ وضاحت لینے اور دفعہ 540 کے تحت گواہ کو دوبارہ طلب کرنے کے اختیارات میں فرق واضح کیا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد فوجداری مقدمات میں قانونی طریقہ کار، دونوں فریقوں کے حقوق اور منصفانہ سماعت کے اصولوں کو برقرار رکھنا ہے۔

ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)، سپریم کورٹ آف پاکستان کا تحریری فیصلہ