

محمود احمد, October30,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اکتوبر 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی واضح تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا یا دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے کے امکانات کس مرحلے پر ہیں۔
ٹرمپ نے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل کنساس سٹی کے ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ معاملہ جلد نمٹ جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
امریکی صدر نے گفتگو کے دوران کہا، ’’یہ معاملہ جلد نمٹ جائے گا۔ ہمیں اس بات کی ضمانت درکار ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘‘
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے خاتمے سے متعلق سفارتی کوششیں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ان کے تازہ بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کا بنیادی معاملہ قرار دے رہا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی مؤقف
امریکی صدر بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے سے روکنا امریکہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ٹرمپ کے تازہ بیان میں بھی اسی مطالبے کو دہرایا گیا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ اس ضمانت کے حصول کے لیے کون سا سفارتی یا عملی راستہ اختیار کرے گا۔
ایران کا جوہری پروگرام کئی برس سے امریکہ اور تہران کے درمیان اختلافات کا اہم سبب رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی کوششیں مختلف ادوار میں ہوتی رہی ہیں، لیکن جوہری سرگرمیوں، پابندیوں اور باہمی اعتماد کے مسائل کے باعث کوئی مستقل حل سامنے نہیں آ سکا۔
موجودہ جنگ کے تناظر میں جوہری معاملے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا امن معاہدے میں یہ سوال مرکزی حیثیت اختیار کر سکتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شرائط کیا ہوں گی اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی کس طرح کی جائے گی۔
انتخابات سے پہلے حملہ نہ کرنے کا سابقہ بیان
ٹرمپ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے انعقاد سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ ان کے اس سابقہ بیان کو موجودہ سیاسی اور انتخابی ماحول کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کانگریس کی نشستوں کے لیے منعقد ہوتے ہیں اور ان کے نتائج صدر کی جماعت کی پارلیمانی پوزیشن اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے ممکنہ خاتمے کا معاملہ امریکی داخلی سیاست میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم ٹرمپ کے تازہ بیان میں جنگ کے خاتمے کی کوئی حتمی تاریخ، جنگ بندی کا مجوزہ طریقہ یا ایران کے ساتھ مذاکرات کے کسی طے شدہ مرحلے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
جنگ کے خاتمے کا طریقہ ابھی واضح نہیں
ٹرمپ کی جانب سے جنگ جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کیے جانے کے باوجود یہ واضح نہیں کہ آیا اس کے لیے براہِ راست مذاکرات، کسی تیسرے ملک کی ثالثی، جنگ بندی یا کسی وسیع تر معاہدے کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
اسی طرح ایران کی جانب سے امریکی مطالبات پر ممکنہ ردِعمل اور جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں بھی اس بیان میں کوئی نئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
مبصرین کے لیے اس وقت اہم سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک اپنے بنیادی اختلافات پر کوئی قابلِ قبول سمجھوتہ کر سکتے ہیں یا جنگ کے خاتمے کے لیے مزید سفارتی اور سیاسی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔ ٹرمپ کے بیان سے جنگ جلد ختم ہونے کی امید تو ظاہر ہوتی ہے، لیکن اس کے عملی راستے اور شرائط بدستور غیر واضح ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: امریکی صدر کا یہ بیان جنگ جلد ختم ہونے کی توقع اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبے کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم اسے جنگ کے خاتمے یا کسی معاہدے کا حتمی اعلان نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ ٹرمپ نے نہ کوئی تاریخ بتائی ہے اور نہ ہی جنگ بندی کے طریقہ کار کی وضاحت کی ہے۔
ماخذ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کنساس سٹی ریڈیو کو انٹرویو، امریکی صدارتی بیانات