پاکستان کرکٹ بورڈ کا قومی کھلاڑیوں کی میچ فیسوں میں بھاری اضافے کا بڑا فیصلہ، سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے اب ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی شرط قرار، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے میرٹ کی بالادستی کے لیے 85 فیصد کمپیوٹرائزڈ اور ڈیٹا بیسڈ سلیکشن کا انقلابی نظام متعارف کروا دیا، سابق کپتان سرفراز احمد ملکی کرکٹ کا قیمتی اثاثہ ہیں

Spread the love

محمود احمد june 14,2026

لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 14 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ملک میں کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کو نکھارنے کے لیے قومی کرکٹرز کی میچ فیس میں نمایاں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے سینٹرل کنٹریکٹ کے موجودہ نظام میں دور رس اور اہم ترین تبدیلیاں نافذ کر دی ہیں، قذافی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کرکٹ بورڈ کے ان انقلابی فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ میچ فیس میں کیے جانے والے اس تاریخی اضافے کا باقاعدہ اطلاق ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں فارمیٹس پر یکساں ہو گا، تاہم اس کے ساتھ ہی بورڈ نے کھلاڑیوں کے لیے قانون سخت کرتے ہوئے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ اب قومی ٹیم کے کسی بھی اسٹار کھلاڑی کے لیے مقامی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کی اولین اور بنیادی شرط ہو گی، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ آئندہ جو بھی نامور کھلاڑی بورڈ کی جانب سے مقرر کردہ سخت معیار، فٹنس ٹیسٹ اور گراؤنڈ کارکردگی پر پورا نہیں اترے گا اسے کسی بھی صورت سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا چہ جائیکہ وہ کتنا ہی بڑا کھلاڑی کیوں نہ ہو، چیئرمین پی سی بی کے مطابق اب کھلاڑیوں کے لیے پانچ مختلف اور جدید کیٹیگریز متعارف کروائی جا رہی ہیں اور ٹیسٹ، ون ڈے سمیت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے الگ الگ عسکری نوعیت کی حکمتِ عملی مرتب کی گئی ہے تاکہ ہر فارمیٹ کی تکنیکی ضروریات کے مطابق بہترین اور موزوں ترین کھلاڑیوں کا انتخاب میرٹ پر ممکن بنایا جا سکے۔

محسن نقوی نے کرکٹ شائقین کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ قومی ٹیم میں سفارشی کلچر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنے کے لیے سلیکشن کے پورے نظام کو زیادہ سے زیادہ جدید اور کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے جس کے بعد اب ٹیم سلیکشن کے تقریباً ۸۵ فیصد فیصلے خالصتاً ڈیٹا، کھلاڑی کی فٹنس اور پچھلی کارکردگی کی بنیاد پر سافٹ ویئر کے ذریعے کیے جائیں گے جس سے ٹیم کے انتخاب میں سو فیصد شفافیت اور حقیقی میرٹ کو فروغ ملے گا، ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ قیادت کے حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنا میرا کام نہیں بلکہ یہ اختیار مکمل طور پر سلیکشن کمیٹی اور متعلقہ کرکٹ حکام کے پاس ہے، جبکہ آل راؤنڈر شاداب خان کی سفید گیند کی کرکٹ میں ممکنہ کپتانی سے متعلق خبروں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال ایسی کسی بھی پیش رفت سے بالکل آگاہ نہیں ہیں، انہوں نے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر بیٹر سرفراز احمد کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں پاکستانی کرکٹ کا ایک انتہائی قیمتی اور ناقابلِ فراموش اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ سرفراز احمد کی ملکی کرکٹ کے لیے خدمات اور ان کے وسیع تجربے کو کرکٹ بورڈ ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گا، کرکٹ مبصرین اور سابق مائیہ ناز کھلاڑیوں نے پی سی بی کے ان نئے اور کڑے فیصلوں کو قومی کرکٹ میں میرٹ کی بالادستی، کارکردگی میں تسلسل اور زوال پذیر ڈومیسٹک نظام کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی جانب ایک انتہائی کلیدی اور جرات مندانہ قدم قرار دیا ہے۔