قومی بیٹر خوشدل شاہ کا پاکستان کرکٹ کے انتخابی نظام پر بڑا یوٹرن، صاحبزادہ فرحان کی مثال دے کر ڈومیسٹک کرکٹ کی عدم توجہی کا پول کھول دیا، پی ایس ایل میں پرفارم کرنے کے بعد ہی قومی ٹیم کے دروازے کھلنے کا انکشاف، ڈومیسٹک کے مستقل مزاج کھلاڑیوں کو بروقت مواقع دینے کا زوردار مطالبہ

Spread the love



محمود احمد june 14,2026

لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 14 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر خوشدل شاہ نے قومی ٹیم کے انتخابی معیار اور ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مایہ ناز بلے باز صاحبزادہ فرحان کئی برسوں سے ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل اور غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے، تاہم اس طویل عرصے کے دوران ان کی شاندار کارکردگی کو سلیکٹرز اور بورڈ کی جانب سے وہ توجہ اور اہمیت نہیں ملی جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق تھے، میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خوشدل شاہ نے ملکی کرکٹ کے انتخابی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کرکٹ حلقوں میں یہ غلط تاثر دیا جا رہا تھا کہ صاحبزادہ فرحان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے پہاڑ کھڑے کرنے کی بنیاد پر فوری طور پر قومی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، لیکن تلخ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ وہ گزشتہ چار سے پانچ سال سے فرسٹ کلاس اور ڈومیسٹک کرکٹ کے نمایاں ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے آ رہے تھے اور ہر سیزن میں مسلسل رنز بنا رہے تھے، اس کے باوجود ان کا نام قومی اسکواڈ کے لیے کبھی بھی سنجیدگی سے زیرِ غور نہیں لایا جا رہا تھا اور انہیں مستقل نظر انداز کیا جاتا رہا۔

خوشدل شاہ کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ اس سوتیلی ماں جیسے سلوک کے بعد جب صاحبزادہ فرحان نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چمکدمک والے اسٹیج پر اپنی عمدہ اور جارحانہ کارکردگی دکھائی، تو اچانک تمام حکام اور سلیکٹرز کی توجہ ان کی جانب مبذول ہو گئی اور انہیں راتوں رات قومی ٹیم کا حصہ بنا دیا گیا، انہوں نے بورڈ کی پالیسیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف پی ایس ایل کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے ڈومیسٹک کرکٹ میں سالہا سال مستقل مزاجی سے پرفارم کرنے والے محنتی کھلاڑیوں کو ہر حال میں بروقت بین الاقوامی مواقع ملنے چاہئیں تاکہ ان کی بے پناہ محنت، پسینے اور خداداد صلاحیتوں کا صحیح معنوں میں اعتراف ممکن ہو سکے، خوشدل شاہ کے اس دبنگ اور واضح بیان کے بعد ملک میں ایک بار پھر ڈومیسٹک کرکٹ کی افادیت اور قومی ٹیم کے انتخابی معیار پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب کرکٹ شائقین اور ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ اگر پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے تو محض چند ٹی ٹوئنٹی میچز کے بجائے فرسٹ کلاس اور ڈومیسٹک کے تپتے ہوئے میدانوں میں مستقل کارکردگی دکھانے والے ہیروز کو قومی سطح پر پہلی ترجیح دینا ہو گی۔