سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا بجلی کے بلوں میں شامل فکسڈ چارجز کے خلاف سخت ایکشن، فکسڈ چارجز کو غریب عوام کے لیے عذابِ الٰہی قرار دے کر فوری ختم کرنے کا بڑا مطالبہ، پارلیمنٹ لاجز میں اصل بجلی چھ ہزار جبکہ فکسڈ چارجز سات ہزار روپے لگانے پر سینیٹر کامل علی آغا پھٹ پڑے، اگلی اہم بیٹھک میں وزارتِ توانائی کے اعلیٰ حکام طلب، نئے بجٹ میں درآمدی ڈیوٹیز میں کمی سے حکومت کو ۱۴۳ ارب روپے کے ریونیو نقصان کا انکشاف

Spread the love

منصور احمد june 17,2026

اسلام آباد (پولیٹیکل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بجلی کے ماہانہ بلوں میں شامل ظالمانہ فکسڈ چارجز کو غریب عوام کے لیے ایک بہت بڑا عذاب قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر یکمشت ختم کرنے کا بڑا مطالبہ کر دیا ہے، سینیٹ کمیٹی نے اس سنگین معاملے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے فکسڈ چارجز کے فوری خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر اگلی ہی ہٹنگ میں وزارتِ توانائی کے تمام اعلیٰ حکام اور مقتدر افسران کو جواب دہی کے لیے طلب کر لیا ہے، وفاقِ دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی پارلیمانی تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا ایک اہم ترین اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں بجلی کے بلوں میں ہونے والی اندھا دھند اوور بلنگ، نت نئے فکسڈ ٹیکسز اور آئندہ مالی سال کے نئے بجٹ میں کسٹمز ڈیوٹیز کے حوالے سے متعلقہ محکموں کی جانب سے تفصیلی بریفنگز دی گئیں، اجلاس کے دوران بجلی کے بلوں میں لگے انوکھے فکسڈ چارجز کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سینیٹر کامل علی آغا شدید غصے میں پھٹ پڑے اور انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والا سچا واقعہ پورے ایوان کے سامنے رکھ کر حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا۔

سینیٹر کامل علی آغا نے کمیٹی کو بتایا کہ بجلی کے بلوں پر عائد فکسڈ چارجز اس وقت ملک کی غریب اور سفید پوش عوام کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہیں، انہوں نے انکشاف کیا کہ میرے اپنے پارلیمنٹ لاجز کے بل میں استعمال ہونے والے بجلی کے یونٹس کی اصل قیمت صرف ۶ ہزار ۲۰۰ روپے ہے لیکن اس بل کے اوپر حکومت نے ۶ ہزار ۸۰۰ روپے کے اضافی فکسڈ چارجز لگا دیے ہیں یعنی اصل استعمال شدہ بجلی کی قیمت سے بھی زیادہ ٹیکسز زبردستی وصول کیے جا رہے ہیں، انہوں نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ اس ظالمانہ نظام کی وجہ سے جو غریب بندہ پورے مہینے میں صرف ۱۰۰ یونٹس استعمال کر رہا ہے اسے ان فکسڈ چارجز کی وجہ سے مجبوراً ۴۰۰ یونٹ کے برابر بھاری رقم ادا کرنی پڑ رہی ہے جو غریب عوام کا معاشی قتل ہے، اجلاس کے دوسرے حصے میں سیکرٹری تجارت جواد پال نے کمیٹی کو نئے وفاقی بجٹ میں کسٹمز اور امپورٹ ڈیوٹیز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں درآمدی ٹیرف میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے اور ڈیوٹیز میں اس بڑی کمی کی وجہ سے حکومت کو مجموعی طور پر ۱۴۳ ارب روپے سے زائد کا خطیر ریونیو نقصان خود برداشت کرنا پڑے گا۔

سیکرٹری تجارت نے بجٹ میں امپورٹڈ اشیاء پر ٹیکسوں کی نئی شرح کی تفصیلات بتاتے ہوئے سینیٹ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ۲۰ فیصد سے زائد کسٹمز ڈیوٹی والی اشیاء پر زیادہ سے زیادہ شرح کو ۵0 فیصد تک ہی محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی شرح کو پہلے ۶ فیصد سے کم کر کے ۴ فیصد، پھر ۴ سے کم کر کے ۲ فیصد اور آخر میں ۲ فیصد سے بھی کم کر کے بالکل صفر یعنی ختم کر دیا جائے گا، تاہم ملکی صنعت کے تحفظ کے لیے بعض مخصوص امپورٹڈ اشیاء پر ۲ فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی بدستور برقرار رہے گی، سینیٹ کمیٹی نے بجلی کے بلوں پر عوامی شکایات کو دور کرنے کے لیے اگلے اجلاس میں کڑی پوچھ گچھ کا فیصلہ کیا ہے۔