

کاشف عباسی , JULY 23,026
پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء
چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے مولوی جی ہسپتال پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بی آئی ایس پی کے زیر اہتمام قائم بے نظیر نشوونما مرکز کا معائنہ کیا اور مستحق خواتین و بچوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
دورے کے دوران چیئرپرسن نے نشوونما مرکز کے عملے اور ہسپتال انتظامیہ سے ملاقات کی، جنہوں نے انہیں پروگرام کے درپیش مسائل اور مجموعی کارکردگی پر تفصیل سے بریفنگ دی۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا سب سے بڑا اور مؤثر سماجی تحفظ کا پروگرام ہے، جس سے ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندان بلا تعطل مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ بی آئی ایس پی کے حوالے سے خبریں نشر کرنے سے قبل حقائق کی لازمی تصدیق کی جائے کیونکہ غیر تصدیق شدہ اطلاعات سے غریبوں کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔
انہوں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “بی آئی ایس پی کی مالی معاونت کوئی خیرات یا بھیک نہیں بلکہ مستحق خاندانوں کا آئینی اور قانونی حق ہے۔”
سینیٹر روبینہ خالد نے اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پروگرام میں انسانی مداخلت کو ختم کرنے اور شفافیت بڑھانے کے لیے ادائیگیوں کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ رواں ماہ کی قسط کے بعد مستحقین ملک بھر میں بی آئی ایس پی کی مجاز ریٹیل دکانوں سے بھی اپنی رقم باآسانی وصول کر سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی کی سمیں صرف سرکاری دفاتر سے مفت ملتی ہیں اور کسی بھی جعل ساز یا دھوکہ دہی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے لیے خصوصی ٹیمیں متحرک کر دی گئی ہیں۔