تھانہ خرکی مردان پولیس کی بڑی کارروائی: علاقے میں فائرنگ کر کے خوف و ہراس پھیلانے والے دونوں فریقین کے 3 ملزمان گرفتار، بھاری مقدار میں اسلحہ و کارتوس برآمد

منصور احمد, JULY 28,2026

پشاور/مردان (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جولائی 2026ء

خیبر پختونخوا پولیس نے مردان میں امن و امان کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے اور عوام الناس میں خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے ایک اہم اور بروقت کامیابی حاصل کی ہے۔ تھانہ خرکی مردان پولیس نے منگل کے روز علاقے میں فوری اور تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے ایک ایک دوسرے پر سرِعام فائرنگ کرنے والے اور علاقے کا امن برباد کرنے والے دونوں فریقین سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر تین مرکزی ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے ان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ پولیس کی اس بروقت کارروائی سے علاقے میں کوئی بڑا جانی نقصان ہونے سے بچ گیا اور صورتِ حال کو فوراً کنٹرول میں لے لیا گیا۔

ترجمان مردان پولیس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، تھانہ خرکی کی حدود میں دو فریقین کے مابین تنازع کے باعث فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے مقامی رہائشیوں اور بازار میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لیا اور دونوں جانب سے فائرنگ میں ملوث افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار کیے گئے ملزمان میں سے پہلے فریق کا تعلق تازہ گرام کے رہائشی روزی شاہ ولد ہمیش گل اور اس کے بیٹے عبید ولد روزی شاہ سے ہے، جبکہ دوسرے فریق سے تازہ گرام ہی کا رہائشی گوہر ولد مکمل شاہ شامل ہے۔ پولیس نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کے قبضے سے 3 عدد جدید پستول اور 53 عدد زندہ کارتوس برآمد کر کے باضابطہ طور پر اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔

پولیس ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت تھانہ خرکی میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور معاملے کی گہرائی سے مزید قانونی تفتیش و کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ مردان پولیس کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں امن و امان کے قیام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور ہوائی فائرنگ، باہمی تنازعات کی بنا پر قانون ہاتھ میں لینے اور عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پولیس ترجمان نے واضح کیا کہ قانون شکن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت ترین قانونی اقدامات کا سلسلہ آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا تاکہ شہری خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس کر سکیں۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شدید بے نظمی کا شکار؛ بانی چیئرمین کی رہائی پر ناراض ارکان کے تلخ جملے اور واک آؤٹ

کاشف عباسی , JULY 25,026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جہاں پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کی حکمتِ عملی پر مشاورت کے دوران شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ناراض اراکین اسمبلی کی جانب سے سخت تقاریر اور جملے بازی کے بعد ماحول انتہائی تلخ ہو گیا، جس پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور شدید برہم ہو گئے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کے باوجود ناراض دھڑے کے اراکین اجلاس چھوڑ کر واک آؤٹ کر گئے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رکنِ صوبائی اسمبلی فضل الہٰی نے تصدیق کی کہ ناراض اراکین نے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات کی طرز پر عمران خان کی رہائی کی تحریک پر بھی تمام اراکین سے باقاعدہ حلف لینے کے لیے کنونشن بلایا جائے، کیونکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی صرف زبانی باتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات اور حلف کی پاسداری سے ممکن ہوگی۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کا پشاور میں بے نظیر نشوونما مرکز کا دورہ؛ فراہم کردہ سہولیات کا جائزہ

کاشف عباسی , JULY 23,026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے مولوی جی ہسپتال پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بی آئی ایس پی کے زیر اہتمام قائم بے نظیر نشوونما مرکز کا معائنہ کیا اور مستحق خواتین و بچوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

دورے کے دوران چیئرپرسن نے نشوونما مرکز کے عملے اور ہسپتال انتظامیہ سے ملاقات کی، جنہوں نے انہیں پروگرام کے درپیش مسائل اور مجموعی کارکردگی پر تفصیل سے بریفنگ دی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا سب سے بڑا اور مؤثر سماجی تحفظ کا پروگرام ہے، جس سے ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندان بلا تعطل مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ بی آئی ایس پی کے حوالے سے خبریں نشر کرنے سے قبل حقائق کی لازمی تصدیق کی جائے کیونکہ غیر تصدیق شدہ اطلاعات سے غریبوں کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔

انہوں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “بی آئی ایس پی کی مالی معاونت کوئی خیرات یا بھیک نہیں بلکہ مستحق خاندانوں کا آئینی اور قانونی حق ہے۔”

سینیٹر روبینہ خالد نے اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پروگرام میں انسانی مداخلت کو ختم کرنے اور شفافیت بڑھانے کے لیے ادائیگیوں کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ رواں ماہ کی قسط کے بعد مستحقین ملک بھر میں بی آئی ایس پی کی مجاز ریٹیل دکانوں سے بھی اپنی رقم باآسانی وصول کر سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی کی سمیں صرف سرکاری دفاتر سے مفت ملتی ہیں اور کسی بھی جعل ساز یا دھوکہ دہی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے لیے خصوصی ٹیمیں متحرک کر دی گئی ہیں۔