پشاور میں 79ویں یومِ آزادی کی تقریب: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی پرچم کشائی، شہداء کو خراجِ تحسین

کاشف عباسی , August 14,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

گورنر ہاؤس پشاور میں ملک کے 79ویں یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر پروقار اور شاندار پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پرچم کشائی کی اور قومی ترانے کے ساتھ پوری قوم کو جشنِ آزادی کی دلی مبارکباد پیش کی۔

تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ تمام اہلِ وطن کو آزادی کی مبارکباد دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ قوم ایک آزاد، خودمختار اور باوقار ملک میں سانس لے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ شب صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں ‘یادگارِ فتح’ کا باضابطہ افتتاح کیا، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، مسلح افواج کے سربراہان اور غیر ملکی سفرا نے شرکت کی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے وطنِ عزیز کی دفاع و سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام عظیم شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج، ایف سی، پولیس اور تمام سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں اور صوبے کے امن و استحکام کے لیے قوم اپنی افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے عالمی و علاقائی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران تنازع کے دوران پاکستان نے انتہائی مثبت، تعمیمی اور ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کیا جسے بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ خطے میں امن کے قیام کے لیے وزیراعظم، فیلڈ مارشل، نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ پاکستان ہمیشہ ترقی، امن اور خوشحالی کی منازل طے کرتا رہے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے معروف عالمِ دین مفتی عبدالرحیم کی اہم ملاقات: صوبے میں پائیدار امن، تعلیمی ترقی اور بین المذاہب ہم آہنگی پر تفصیلی گفتگو

کاشف عباسی , JULY 30,026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

خيبر پختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال کو بہتر بنانے، علمائے کرام اور تعلیمی اداروں کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی اور تعلیمی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات اور روابط کا سلسلہ تیز تر ہو گیا ہے۔ اسی سلسلے میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے معروف ممتاز عالمِ دین، الغزالی یونیورسٹی کراچی کے چانسلر اور جامعۃ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے گورنر ہاؤس پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی ہے۔ گورنر ہاؤس پشاور کے باضابطہ ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس اہم اور بابرکت ملاقات کے موقع پر ممبر بورڈ آف گورنرز الغزالی یونیورسٹی انجینئر مفتی عثمان یوسف بھی مفتی عبدالرحیم کے ہمراہ موجود تھے۔ ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا میں امن و امان کے پائیدار قیام، معاشرے میں رواداری کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو گمراہی سے بچا کر مثبت تعلیمی و فکری سرگرمیوں میں مصروف کرنے سے متعلق عملی اور ٹھوس اقدامات پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس بات پر شدید زور دیا کہ خطے کی موجودہ جغرافیائی اور سیکیورٹی صورتِ حال کے تناظر میں خیبر پختونخوا کے اندر امن، بھائی چارے اور معاشی و سماجی استحکام کا قیام وقت کی سب سے بڑی اور عاجلانہ ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بالخصوص صوبے میں قیامِ امن کی جدوجہد میں دینی مدارس اور جید علمائے کرام کا کردار انتہائی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ علمائے کرام اپنے جمعہ کے خطبات، دینی اجتماعات اور تعلیمی محافل کے ذریعے عوام میں اتحاد، یکجہتی، ملکی سلامتی اور قانون کی پاسداری کا شعور اجاگر کر سکتے ہیں۔ گورنر نے مفتی عبدالرحیم اور جامعۃ الرشید کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید عصری علوم کی ہم آہنگی وقت کا اہم تقاضا ہے تاکہ دینی و مذہبی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ ملک و قوم کی ترقی اور معاشی دوڑ میں مؤثر اور مثبت کردار ادا کر سکیں۔

اسی طرح الغزالی یونیورسٹی کراچی کے چانسلر اور جامعۃ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے میں تعلیم کے فروغ اور بالخصوص بین المذاہب و بین المسلمین ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور مختلف عملی تجویزات سے آراستہ کیا۔ مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ پختونخوا کی سرزمیں تاریخی اعتبار سے امن و محبت کا گہوارہ رہی ہے اور تمام مکاتبِ فکر کو مل کر اس خطے کو دہشت گردی، شدت پسندی اور بدامنی کے سایوں سے پاک کرنے کے لیے اپنا قومی و دینی فریضہ نبھانا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد ایسا باصلاحیت اور متوازن نوجوان طبقہ تیار کرنا ہے جو معاشرے کو جوڑنے اور ملکی سلامتی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں قائدین نے صوبے کی تعمیر و ترقی، اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے آئندہ بھی باہمی روابط اور مثبت مشاورت کے اس سلسلے کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

تھانہ خرکی مردان پولیس کی بڑی کارروائی: علاقے میں فائرنگ کر کے خوف و ہراس پھیلانے والے دونوں فریقین کے 3 ملزمان گرفتار، بھاری مقدار میں اسلحہ و کارتوس برآمد

منصور احمد, JULY 28,2026

پشاور/مردان (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جولائی 2026ء

خیبر پختونخوا پولیس نے مردان میں امن و امان کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے اور عوام الناس میں خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے ایک اہم اور بروقت کامیابی حاصل کی ہے۔ تھانہ خرکی مردان پولیس نے منگل کے روز علاقے میں فوری اور تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے ایک ایک دوسرے پر سرِعام فائرنگ کرنے والے اور علاقے کا امن برباد کرنے والے دونوں فریقین سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر تین مرکزی ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے ان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ پولیس کی اس بروقت کارروائی سے علاقے میں کوئی بڑا جانی نقصان ہونے سے بچ گیا اور صورتِ حال کو فوراً کنٹرول میں لے لیا گیا۔

ترجمان مردان پولیس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، تھانہ خرکی کی حدود میں دو فریقین کے مابین تنازع کے باعث فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے مقامی رہائشیوں اور بازار میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لیا اور دونوں جانب سے فائرنگ میں ملوث افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار کیے گئے ملزمان میں سے پہلے فریق کا تعلق تازہ گرام کے رہائشی روزی شاہ ولد ہمیش گل اور اس کے بیٹے عبید ولد روزی شاہ سے ہے، جبکہ دوسرے فریق سے تازہ گرام ہی کا رہائشی گوہر ولد مکمل شاہ شامل ہے۔ پولیس نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کے قبضے سے 3 عدد جدید پستول اور 53 عدد زندہ کارتوس برآمد کر کے باضابطہ طور پر اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔

پولیس ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت تھانہ خرکی میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور معاملے کی گہرائی سے مزید قانونی تفتیش و کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ مردان پولیس کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں امن و امان کے قیام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور ہوائی فائرنگ، باہمی تنازعات کی بنا پر قانون ہاتھ میں لینے اور عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پولیس ترجمان نے واضح کیا کہ قانون شکن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت ترین قانونی اقدامات کا سلسلہ آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا تاکہ شہری خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس کر سکیں۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شدید بے نظمی کا شکار؛ بانی چیئرمین کی رہائی پر ناراض ارکان کے تلخ جملے اور واک آؤٹ

کاشف عباسی , JULY 25,026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جہاں پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کی حکمتِ عملی پر مشاورت کے دوران شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ناراض اراکین اسمبلی کی جانب سے سخت تقاریر اور جملے بازی کے بعد ماحول انتہائی تلخ ہو گیا، جس پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور شدید برہم ہو گئے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کے باوجود ناراض دھڑے کے اراکین اجلاس چھوڑ کر واک آؤٹ کر گئے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رکنِ صوبائی اسمبلی فضل الہٰی نے تصدیق کی کہ ناراض اراکین نے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات کی طرز پر عمران خان کی رہائی کی تحریک پر بھی تمام اراکین سے باقاعدہ حلف لینے کے لیے کنونشن بلایا جائے، کیونکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی صرف زبانی باتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات اور حلف کی پاسداری سے ممکن ہوگی۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کا پشاور میں بے نظیر نشوونما مرکز کا دورہ؛ فراہم کردہ سہولیات کا جائزہ

کاشف عباسی , JULY 23,026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے مولوی جی ہسپتال پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بی آئی ایس پی کے زیر اہتمام قائم بے نظیر نشوونما مرکز کا معائنہ کیا اور مستحق خواتین و بچوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

دورے کے دوران چیئرپرسن نے نشوونما مرکز کے عملے اور ہسپتال انتظامیہ سے ملاقات کی، جنہوں نے انہیں پروگرام کے درپیش مسائل اور مجموعی کارکردگی پر تفصیل سے بریفنگ دی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا سب سے بڑا اور مؤثر سماجی تحفظ کا پروگرام ہے، جس سے ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندان بلا تعطل مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ بی آئی ایس پی کے حوالے سے خبریں نشر کرنے سے قبل حقائق کی لازمی تصدیق کی جائے کیونکہ غیر تصدیق شدہ اطلاعات سے غریبوں کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔

انہوں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “بی آئی ایس پی کی مالی معاونت کوئی خیرات یا بھیک نہیں بلکہ مستحق خاندانوں کا آئینی اور قانونی حق ہے۔”

سینیٹر روبینہ خالد نے اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پروگرام میں انسانی مداخلت کو ختم کرنے اور شفافیت بڑھانے کے لیے ادائیگیوں کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ رواں ماہ کی قسط کے بعد مستحقین ملک بھر میں بی آئی ایس پی کی مجاز ریٹیل دکانوں سے بھی اپنی رقم باآسانی وصول کر سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی کی سمیں صرف سرکاری دفاتر سے مفت ملتی ہیں اور کسی بھی جعل ساز یا دھوکہ دہی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے لیے خصوصی ٹیمیں متحرک کر دی گئی ہیں۔