گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے معروف عالمِ دین مفتی عبدالرحیم کی اہم ملاقات: صوبے میں پائیدار امن، تعلیمی ترقی اور بین المذاہب ہم آہنگی پر تفصیلی گفتگو

Spread the love

کاشف عباسی , JULY 30,026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

خيبر پختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال کو بہتر بنانے، علمائے کرام اور تعلیمی اداروں کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی اور تعلیمی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات اور روابط کا سلسلہ تیز تر ہو گیا ہے۔ اسی سلسلے میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے معروف ممتاز عالمِ دین، الغزالی یونیورسٹی کراچی کے چانسلر اور جامعۃ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے گورنر ہاؤس پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی ہے۔ گورنر ہاؤس پشاور کے باضابطہ ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس اہم اور بابرکت ملاقات کے موقع پر ممبر بورڈ آف گورنرز الغزالی یونیورسٹی انجینئر مفتی عثمان یوسف بھی مفتی عبدالرحیم کے ہمراہ موجود تھے۔ ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا میں امن و امان کے پائیدار قیام، معاشرے میں رواداری کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو گمراہی سے بچا کر مثبت تعلیمی و فکری سرگرمیوں میں مصروف کرنے سے متعلق عملی اور ٹھوس اقدامات پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس بات پر شدید زور دیا کہ خطے کی موجودہ جغرافیائی اور سیکیورٹی صورتِ حال کے تناظر میں خیبر پختونخوا کے اندر امن، بھائی چارے اور معاشی و سماجی استحکام کا قیام وقت کی سب سے بڑی اور عاجلانہ ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بالخصوص صوبے میں قیامِ امن کی جدوجہد میں دینی مدارس اور جید علمائے کرام کا کردار انتہائی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ علمائے کرام اپنے جمعہ کے خطبات، دینی اجتماعات اور تعلیمی محافل کے ذریعے عوام میں اتحاد، یکجہتی، ملکی سلامتی اور قانون کی پاسداری کا شعور اجاگر کر سکتے ہیں۔ گورنر نے مفتی عبدالرحیم اور جامعۃ الرشید کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید عصری علوم کی ہم آہنگی وقت کا اہم تقاضا ہے تاکہ دینی و مذہبی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ ملک و قوم کی ترقی اور معاشی دوڑ میں مؤثر اور مثبت کردار ادا کر سکیں۔

اسی طرح الغزالی یونیورسٹی کراچی کے چانسلر اور جامعۃ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے میں تعلیم کے فروغ اور بالخصوص بین المذاہب و بین المسلمین ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور مختلف عملی تجویزات سے آراستہ کیا۔ مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ پختونخوا کی سرزمیں تاریخی اعتبار سے امن و محبت کا گہوارہ رہی ہے اور تمام مکاتبِ فکر کو مل کر اس خطے کو دہشت گردی، شدت پسندی اور بدامنی کے سایوں سے پاک کرنے کے لیے اپنا قومی و دینی فریضہ نبھانا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد ایسا باصلاحیت اور متوازن نوجوان طبقہ تیار کرنا ہے جو معاشرے کو جوڑنے اور ملکی سلامتی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں قائدین نے صوبے کی تعمیر و ترقی، اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے آئندہ بھی باہمی روابط اور مثبت مشاورت کے اس سلسلے کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔