ایران حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ ناکام: موساد کے دو اعلیٰ عہدیدار برطرف، اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں شدید تناؤ

Spread the love

محمود احمد, August 09,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اندرونی مسلح بغاوت کا خفیہ منصوبہ ناکام ہونے کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی “موساد” کے دو سینئر اور اعلیٰ عہدیداروں کو عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر اسرائیل کی سیکیورٹی و انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ میں شدید غم و غصہ اور ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے کی تحریری رپورٹ کے مطابق اس خفیہ اور جامع منصوبے کا مقصد ایران میں مختلف اقلیتی گروہوں، بالخصوص کرد علیحدگی پسندوں کو استعمال کر کے تہران حکومت کے خلاف ملک گیر مظاہروں اور مسلح تصادم کو ہوا دینا تھا۔ امریکی جریدے ‘نیویارک ٹائمز’ کی سابقہ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی حتمی توثیق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کی تھی، جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اس آپریشن پر عملدرآمد کے لیے راضی کیا تھا۔

منصوبے کے تحت ایران کے ایک ہمسایہ عرب ملک کے عراق میں قائم سفارت خانے اور اربیل (عراقی کردستان) میں واقع اس کے قونصل خانے کو مرکزی لاجسٹک ہب بنایا گیا تھا، جہاں سے ایرانی مظاہرین اور مسلح گروہوں کو جدید اسلہ، فنڈز، گاڑیاں اور اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز فراہم کی جا رہی تھیں۔ تاہم، تہران اور اس کے اتحادیوں کے خفیہ اداروں کو پیشگی اطلاع مل گئی، جس کے بعد ایرانی فورسز نے سرحدی کرد علاقوں اور متعلقہ قونصل خانے کے قریب تابڑ توڑ حملے کر کے منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور کرد گروہوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ‘فاکس نیوز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کردوں کو فراہم کیا گیا بھاری خطیر رقم اور جدید اسلہ ایران پہنچنے کے بجائے راستے ہی میں ضائع یا ہڑپ کر لیا گیا۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو نے اس بڑے سٹریٹجک بلنڈر کی سیاسی و نظامی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے تمام تر ملبہ انٹیلی جنس ایجنسی پر ڈالتے ہوئے موساد کے دو اعلیٰ ترین آفیسرز کو فارغ کر دیا ہے، جس سے ملک کے عسکری و سیاسی حلقوں میں اندرونی کھینچ تان اور تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔