
محمود احمد, August 23,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء
امریکی وفاقی عدالت نے ایک تاریخی اور اہم فیصلہ سناتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے دنیا کے 75 مختلف ممالک کے شہریوں کو مستقل بنیادوں پر امریکا میں آباد ہونے سے روکنے والی متنازع امیگریشن ویزا پابندی کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ نیویارک کی جنوبی ضلعی عدالت کی معزز جج جینیٹ ورگاس نے اس حکومتی پالیسی کو امریکہ کے نافذ العمل قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس قسم کی اجتماعی پابندی جاری کر کے اپنے آئینی و قانونی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو وائٹ ہاؤس اور ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن اصلاحات کے لیے ایک بڑا اور غیر متوقع قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ متنازع امیگریشن پالیسی رواں سال جنوری 2026ء میں باقاعدہ نافذ کی گئی تھی، جس کے تحت ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے 75 سے زائد ممالک جن میں افغانستان، برازیل، مصر، ایران، عراق، نائجیریا، صومالیہ، تھائی لینڈ اور یمن شامل ہیں، کے شہریوں کے لیے گرین کارڈ اور امیگرنٹ ویزوں کی جاری کارروائیوں پر معطلی عائد کر دی گئی تھی۔ اس وقت امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے موقف میں یہ کہا تھا کہ ان زیادہ خطرے والے ممالک سے آنے والے غیر ملکی تارکینِ وطن امریکہ کی عوامی و فلاحی سہولیات پر غیر ضروری مالی بوجھ بنتے ہیں، جس کو روکنے کے لیے ویزا پراسیسنگ پر پابندی لگائی گئی تھی۔ تاہم جج ورگاس نے اپنے فیصلے میں اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی بھی درخواست گزار کا ویزا محض اس کے آبائی ملک کی بنیاد پر منسوخ یا منجمد نہیں کیا جا سکتا، بالخصوص اس وقت جب قونصلر افسران نے تمام قانونی شرائط اور دستاویزات کی تصدیق کر لی ہو۔
عدالت کے اس فیصلے کے فوری نتیجے میں وہ تمام تمام ویزا انوائسز اور معطل شدہ درخواستیں خود بخود بحال ہو جائیں گی جو صرف اس صدارتی پالیسی کا سہارا لے کر منسوخ کی گئی تھیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکی وزارتِ انصاف اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ اپیلٹ کورٹ میں جانے کا حق رکھتی ہے، لیکن فی الوقت 75 ممالک کے لاکھوں امیگریشن درخواست دہندگان کے لیے امریکی سفارت خانوں کا راستہ دوبارہ کھل گیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران امریکی سرحدوں پر سخت کنٹرول، ملک بدری کی رفتار تیز کرنے اور قانونی و غیر قانونی امیگریشن کو محدود کرنے کے جو بلند و بانگ وعدے کیے تھے، ان کی راہ میں امریکی عدالتیں اب ایک مضبوط رکاوٹ کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔