ستمبر کی ملک گیر ذیلی انسدادِ پولیو مہم کے دوران 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے؛ ورکرز کی حفاظت، عزت و وقار اور فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات مکمل

Spread the love

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے ستمبر میں منعقد ہونے والی آئندہ ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم سے قبل ملک بھر میں خدمات انجام دینے والے لاکھوں فرنٹ لائن ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد کا بڑا اضافہ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔

حکومتی شیڈول کے مطابق یہ اہم ذیلی مہم 21 سے 27 ستمبر 2026 تک جاری رہے گی، جس کے دوران بلوچستان، گلگت بلتستان، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے 115 مخصوص و حساس اضلاع میں پولیو ٹیمیں 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق کی قیادت میں پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام ملک بھر میں قطرے پلانے والی فرنٹ لائن ورک فورس کے لیے انتظامی و مالی معاونت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ معاوضے میں 28 فیصد اضافے کا یہ اہم ترین فیصلہ ملک بھر میں پولیو ورکرز کے ساتھ منعقد کیے گئے معلوماتی لسننگ سیشنز کے بعد کیا گیا، جن میں ورکرز نے پروگرام کی مرکزی قیادت سے براہِ راست بات چیت کرتے ہوئے فیلڈ کے تجربات، درپیش چیلنجز اور اپنی تجاویز پیش کی تھیں۔

پروگرام کی جانب سے پولیو ورکرز کی حفاظت، عزت و وقار اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے متعدد بنیاد کاری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں منتخب علاقوں میں قائم فرنٹ لائن ورکرز سپورٹ سینٹرز میں بنیادی سہولیات کی بہتری، تمام ورکرز کو باضابطہ شناختی کارڈز کا اجراء، اور فیلڈ میں ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نئی آپریشنل سیفٹی گائیڈ لائنز کی تیاری شامل ہے۔ یہ تمام تر پیش رفت وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کی جا رہی ہے تاکہ پولیو ورکرز کی قربانیوں کا اعتراف کیا جا سکے۔

محترمہ عائشہ رضا فاروق نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے فرنٹ لائن ورکرز پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کی جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ ہر روز ہر بچے تک پہنچنے اور کمیونٹیز کی مدد کے لیے انتہائی مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافہ ورکرز کی انتھک محنت، لگن اور عظیم خدمات کا اعتراف ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ہر ورکر فیلڈ میں خود کو محفوظ اور معزز محسوس کرے۔

فرنٹ لائن ورکرز کی انتھک خدمات اور سائنسی حکمتِ عملی کی بدولت پاکستان نے پولیو کے خاتمے میں تاریخی پیش رفت کی ہے۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل میں جہاں سالانہ اندازاً 20,000 پولیو کیسز سامنے آتے تھے، وہیں ملک میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ کیسز کی تعداد کم ہو کر سال 2025 میں 31 اور سال 2026 میں اب تک صرف 3 کیسز تک محدود رہ گئی ہے۔

پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے تمام والدین، سرپرستوں، دینی علماء، اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ ستمبر کی مہم میں ان پولیو ٹیموں کا اپنے گھروں میں احترام کے ساتھ استقبال کریں اور پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے لازمی پلوائیں۔ پولیو پروگرام نے اس مشن میں گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو (جی پی ای آئی) کے شراکت داروں کے مسلسل تعاون پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔