برطانیہ کی پابندیوں پر اسرائیل کا شدید جوابی ایکشن: مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا باضابطہ اعلان

Spread the love

محمود احمد, September 09,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف تاریخی پابندیوں اور بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر مکمل درآمدی قدغن کے اعلان کے جواب میں اسرائیل نے انتہائی سخت اور غیر معمولی سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے مشرقی یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے گزشتہ روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں حکومت کا تاریخی فیصلہ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ برطانیہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم تمام غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیائے صرف اور مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان پابندیوں کے تحت بستیوں کی تعمیری سرگرمیوں، انفراسٹرکچر، مالیاتی معاونت اور رئیل اسٹیٹ میں سہولت کاری فراہم کرنے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی سخت مالی و قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے واضح کیا تھا کہ یہ جامع فیصلہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور اس سے جڑے معاشی تعلقات کے حوالے سے برطانوی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ برطانوی حکومت نے مغربی کنارے میں انتہا پسند آبادکاروں کے تشدد، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے کے تحت نئی بستیوں کی تعمیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ سمیت 12 اتحادی ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بستیوں کی مسلسل توسیع بند کرے اور دو ریاستی حل کے تمام سفارتی راستے مسدود کرنے سے گریز کرے۔

برطانیہ کے ان اقتصادی و سفارتی اقدامات پر اسرائیل نے نپٹا ہوا اور سخت ترین جوابی حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے برطانوی فیصلے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ پر عالمی برادری میں “سنگین اور من گھڑت جھوٹ” پھیلانے کا براہِ راست الزام عائد کیا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی حکومت نے ردِعمل کے طور پر مشرقی یروشلم میں سالہا سال سے قائم برطانوی قونصل خانے کے دفتری آپریشنز کو مکمل طور پر بند کرنے اور سفارتی عملے کی سہولیات محدود کرنے سمیت متعدد جوابی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

دوطرفہ سفارتی کشیدگی کا یہ نیا اور خوفناک دور ایک ایسے نازک لمحے پر شروع ہوا ہے جب اسرائیل نے مغربی کنارے کے انتہائی حساس علاقے ای 1 میں نئی بستیوں کی تعمیر کے لیے باضابطہ ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے رکن ممالک اس منصوبے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ای 1 منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو مشرقی یروشلم سے جغرافیائی طور پر الگ تھلگ کر کے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی تمام امیدوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ اسرائیل کے اس تازہ ترین جوابی قدم کے بعد برطانیہ اور تل ابیب کے درمیان سفارتی و تجارتی تعلقات بدترین تنزلی کا شکار ہو چکے ہیں۔