امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ: ایران سے جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، ایندھن کی قیمتوں میں فوری کمی آئے گی

Spread the love

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری عسکری کشیدگی اور جنگ نومبر 2026ء میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، اور جنگ بندی کے بعد امریکہ سمیت عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں انتہائی تیزی سے نیچے آئیں گی۔

آئرلینڈ کے دورے کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ انہیں کامل توقع ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع رواں سال کے اختتام سے قبل حل ہو جائے گا، تاہم انہوں نے اس پیش رفت کو خاص طور پر 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کے وقت سے مشروط کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “جیسے ہی یہ جنگ ختم ہوگی، پٹرول اور ایندھن کی قیمتیں غیر معمولی رفتار سے نیچے آئیں گی۔” انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ تہران اندرونی و بیرونی دباؤ کے باعث امریکہ کے ساتھ معاشی و سیکیورٹی معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں اور سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ تیل پائپ لائن پر حالیہ ڈرون سٹرائیکس نے عالمی انرجی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں شدید ہلچل مچا رکھی ہے۔

تاہم، عالمی توانائی کے ماہرین اور آزاد حقیقت اور تجزیاتی ادارے FactCheck.org کے مطابق جنگ ختم ہونے کے باجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اور یکدم کمی کا ہونا یقینی نہیں ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کا انحصار صرف جنگ بندی پر نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کے بحری راستوں کی مکمل بحالی، عالمی آئل سپلائی، ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت اور بین الاقوامی مارکیٹ کے ردِعمل جیسے متعدد پیچیدہ عوامل پر ہوتا ہے۔

اس سے قبل بھی ایرانی حکام کی جانب سے امریکی صدر کے مذاکرات سے متعلق بعض دعووں کی بارہا تردید کی جا چکی ہے، جس کے باعث سفارتی تجزیہ کار ان بیانات کو حتمی پیش رفت کے بجائے صدر ٹرمپ کا اپنا سیاسی مؤقف قرار دے رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر آئرلینڈ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا گفتگو اور امریکی و عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی تاریخ اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے دعوے کا انحصار صدر ٹرمپ کی ذاتی پیش گوئی پر ہے، جبکہ معاشی ماہرین اور تہران کے بیانات اس سے مختلف امکانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ماخذ: وائٹ ہاؤس پریس پول، فوکس نیوز، FactCheck.org، آن لائن نیوز ایجنسیز۔