

منصور احمد,September 16,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 ستمبر 2026ء
وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیرِ صدارت “آٹو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31” سے متعلق قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نئی پالیسی کے مسودے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اسے بلا تاخیر حتمی شکل دینے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کرنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزارتِ قانون و انصاف کے ترجمان کے مطابق اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان کے علاوہ تمام متعلقہ وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور خود مختار اداروں کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران آٹو پالیسی کے مجوزہ مسودے کی تمام بنیادی شقوں پر تفصیل کے ساتھ غور و خوض کیا گیا۔ کمیٹی کے شرکا نے اتفاق کیا کہ پالیسی کو حتمی شکل دینے اور منظوری کے لیے پیش کرنے سے پہلے تمام متعلقہ وزارتوں اور انڈسٹری کے سٹیک ہولڈرز کے تحفظات کا جامع جائزہ لیا جائے گا تاکہ معیشت کے تمام شعبوں سے جڑے امور کو حتمی ڈرافٹ میں مناسب اور متوازن طور پر شامل کیا جا سکے۔
کمیٹی نے مجوزہ پالیسی کا شق وار تجزیہ کرنے اور اس کے حتمی مسودے کو تمام قانونی، مالی، تجارتی اور انتظامی پہلوؤں سے پرکھنے پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ ہی تیاری کے عمل کی رفتار بڑھانے کی ہدایت کی گئی تاکہ ضروری امور کو نمٹا کر پالیسی کو جلد از جلد کابینہ سے حتمی منظوری کے مرحلے تک پہنچایا جا سکے۔
اجلاس کے دوران اس اہم نقطے پر بھی مکمل اتفاق کیا گیا کہ “آٹو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31” کو وزیراعظم پاکستان کی منظور کردہ معاشی اور صنعتی پالیسی ترجیحات سے مکمل ہم آہنگ رکھا جائے گا۔ اس مجوزہ پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان میں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور آٹو پارٹس کی مقامی تیاری سے وابستہ صنعتی شعبے کو پائیدار اور معاشی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ نئی پالیسی میں ملنے والی مراعات، درآمدی ضوابط اور مراعات کی تمام باریک تفصیلات حتمی منظوری کے بعد ظاہر کی جائیں گی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر وزارتِ قانون و انصاف اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے اور پریس ریلیز کے مطابق ترتیب دی گئی ہے۔
ماخذ: ترجمان وزارتِ قانون و انصاف، اسلام آباد ڈیسک۔